اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ تمام جمہوری قوتوں کو مل کر پارلیمنٹ کے ذریعہ ایسا نظامِ عدل وضع کرنا ہے جس میں فردِ واحد کو وہ قوت اور اختیار حاصل نہ ہو جو ایک جمہوری نظام کو کسی بھی وقت پٹڑی سے اتار دے اور ملک و قوم کو سیاہ اندھیروں کے سپرد کر دے، میثاقِ جمہوریت میں خواہش تھی کہ تمام قوتیں مل کر پاکستان میں معاشی و سیاسی استحکام لائیں اور پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پارٹی وفد نے پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف سے اہم ملاقات کی ہے جبکہ اس ملاقات میں سینیٹر پرویز رشید، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ، وفاقی وزیر احسن اقبال، مرتضٰی جاوید عباسی اور پنجاب سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب موجود تھیں، پیپلز پارٹی کے وفد میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، سینیٹر شیری رحمان اور رکنِ قومی اسمبلی نوید قمر شامل تھے۔
سابق وزیراعظم اور صدرِ مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف سے ملاقات میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مجوزہ آئینی ترامیم سے متعلق سیاسی جماعتوں کے ساتھ روابط سے آگاہ کیا، دونوں راہنماؤں کے مابین آئینی ترامیم سے متعلق قائدِ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن کی تجاویز پر بھی تبادلہِ خیال کیا گیا جبکہ میاں نواز شریف نے تمام پارلیمانی جماعتوں سے اتفاقِ رائے پر زور دیا۔
میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح 32 فیصد سے کم ہو کر 6 اعشاریہ 7 فیصد ہونے، پالیسی ریٹ میں کمی اور ملکی معاشی حالات میں بہتری، مثبت معاشی اشاریوں، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے سہ ماہی ترسیلاتِ زر ریکارڈ 8 اعشاریہ 8 ارب ڈالرز پر پہنچنے کے حوالہ سے اطمینان کا اظہار کیا۔
صدرِ مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی اہم ملاقات کے حوالہ سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق میاں نواز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام جمہوری قوتوں کو مل کر پارلیمنٹ کے ذریعہ عدل کا نظام وضع کرنا ہے، ایسا نطام عدل جس میں کسی فرد کی بالادستی نہ ہو بلکہ عوام کی رائے اور اداروں کا احترام ہو، فردِ واحد کو وہ قوت اور اختیار حاصل نہ ہو جو ایک جمہوری نظام کو کسی بھی وقت پٹڑی سے اتار دے اور ملک و قوم کو سیاہ اندھیروں کے سپرد کر دے۔
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ 2006 میں میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنا درست اور تاریخی فیصلہ تھا جس سے پاکستان میں جمہوریت کو استحکام ملا، پارلیمنٹ نے اپنی مدت پوری کرنا شروع کی، میثاقِ جمہوریت میں خواہش تھی کہ تمام قوتیں مل کر پاکستان میں معاشی و سیاسی استحکام لائیں اور پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو، میثاقِ جمہوریت کے نتیجہ میں تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر دھرنے، انتشار، خلفشار اور یلغار کی سیاست کرنے والی غیر جمہوری قوتوں کا مقابلہ کیا۔
میاں نواز شریف نے بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی کردار کو بھی سراہا اور شاباش دی، میاں نواز شریف کی نے کہا کہ سیاسی رواداری، اخلاقیات، آئین و قانون اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کیلئے ہم ایک ہیں، آج حاصل ہونے والی معاشی کامیابیوں کی بنیاد بھی سیاسی اتحاد و اتفاق ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں میاں نواز شریف کے سیاسی ویژن، سوچ اور تجربہ کی بہت قدر کرتا ہوں، پاکستان اور پاکستانی قوم کو میاں نواز شریف کے سیاسی تجربہ، سوچ اور سیاسی ویژن کی ضرورت ہے، محترمہ بےنظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف نے میثاقِ جمہوریت کی شکل میں پاکستان کو آگے بڑھانے کیلئے ایک تاریخی قدم اٹھایا، اس سفر کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔



