آئینی ترمیم کیلئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ عدالتی اصلاحات کے نکات پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، دیگر نکات پر مزید مشاورت کی جائے گی، آئینی ترمیم میں پارلیمنٹ کو بالاتر رکھا جائے، ایسی ترامیم لائی جائیں جو اداروں میں اصلاحات کا سبب بنیں۔
مولانا فضل الرحمٰن
حکومت کے پاس آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت موجود ہے مگر حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے اتفاقِ رائے چاہتی ہے، میں بھرپور کوشش کررہا ہوں کہ اتفاقِ رائے قائم ہو لیکن اگر اتفاقِ رائے نہ ہوا تو حکومت کا یہ مؤقف درست ہو گا کہ وقت ضائع نہ کیا جائے۔
تمام جمہوری قوتوں کو مل کر پارلیمنٹ کے ذریعہ ایسا نظامِ عدل وضع کرنا ہے جس میں فردِ واحد جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتار کر مُلک و قوم کو سیاہ اندھیروں کے سپرد نہ کر سکے، میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنا درست فیصلہ تھا جس سے مُلک میں جمہوریت کو استحکام ملا۔
آئین کو ایک آنکھ کی لرزش اور ہونٹوں کی جنبش سے اڑایا جاتا رہا، نواز شریف اور یوسف گیلانی کو 58 ٹو بی سے گھر بھیجا گیا، ہم آئینی عدالت بنا کر رہیں گے تاکہ کسی اور وزیراعظم کو تختہ دار پر نہ لٹکایا جائے، آئین کی بالادستی کی جنگ لڑتا رہوں گا۔
میثاقِ جمہوریت کے تحت آئینی عدالت قائم ہونی چاہیے جس کا مینڈیٹ آئینی معاملات کی تشریح ہو گا، ججز کی تعیناتی کا نظام بھی درست کرنا ہے، ججز کا کام ڈیم بنانا یا قیمتیں طے کرنا نہیں بلکہ آئینی ذمہ داریاں پوری کرنا ہے، ججز تقرری عمل میں شفافیت بےنظیر بھٹو کا مطالبہ تھا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ کے آرمی چیف سے ٹیلیفونک گفتگو؛ دونوں ممالک کے باہمی دفاعی تعلقات، خطہ میں بڑھتی کشیدگی اور بدلتی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات کے بعد یہ رابطہ اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہِ سعودی عرب اور پاکستانی سفارتکاری کے مثبت اثرات؛ ایران نے پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی فوجی سربراہ اور سعودی وزیرِ دفاع کی ملاقات کو طاقت کے توازن و ردعمل کے امکانات میں ڈیٹرینس سگنل کے طور پر دیکھا گیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پڑوسی ممالک سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ایران کی عبوری قیادت کونسل نے اِس بات کی منظوری دی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل سٹرائیک نہیں ہو گا جب تک کہ اُن ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔
التقى وزيرُ الدفاع السعودي الأمير خالد بن سلمان بباكستانيّ قائد الجيش ورئيس هيئة الدفاع الفريق أول (المشير) عاصم منير، حيث جرى بحث تطورات الأوضاع المتوترة في المنطقة على خلفية الهجمات الإيرانية، إلى جانب استعراض إطار التعاون الدفاعي السعودي الباكستاني. وأعرب الجانبان عن أملهما في أن تتعامل إيران بحكمة، بما يجنّب المنطقة أي تصعيد غير ضروري ويحدّ من مخاطر الانزلاق نحو مواجهة أوسع.
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی ملاقات؛ ایرانی حملوں کے باعث خطہ کی کشیدہ صورتحال اور پاک سعودی دفاعی فریم ورک پر تبادلہِ خیال کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی کہ ایران دانشمندی سے کام لیتے ہوئے غیر ضروری تصادم سے گریز کرے گا۔