نو مئی کی سازش پاکستان کے ساتھ غداری تھی جس ک سرغنہ عمران خان تھا، اس غداری میں فوج اور عدلیہ میں موجود اس کے حواری بھی شامل تھے، نواز شریف نے دھمکیوں کے باوجود پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم منتخب ہوں گے۔
یہاں جب آئیں توڑا جاتا ہے تو ججز آگے بڑھ کر آئین توڑنے والے کو قانونی حیثیت دیتے ہیں جبکہ منتخب وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا جاتا ہے، نیا پاکستان نعرہ لگانے والے نے اخلاقیات کو تباہ کر دیا۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے ذیشان ملک کو جماعت کا اسسٹنٹ سیکرٹری انفارمیشن مقرر کر دیا، ذیشان ملک مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف کے پولیٹیکل سیکرٹری کی ذمہ داری بھی ادا کرتے رہیں گے۔
پتہ لگنا چاہیے کہ مجھے 93 اور 99 میں کیوں نکالا گیا، ہمیں نکال کر مُلک اناڑی کے حوالہ کیا گیا، معاشی بدنظمی 2019 میں شروع ہوئی اور 2022 تک ہر چیز کا بھٹا بیٹھ گیا، ملک کے ساتھ یہ سلوک کرنے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔
بھارت نے ہماری 1990 والی معاشی پالیسی اپنا کر ترقی حاصل کی، ہماری وہ پالیسی یہاں جاری رہتی تو آج پاکستان ترقی کی رفتار میں کہیں آگے ہوتا، جب بات پاکستان کی ہو تو ہم فیصلے کرتے ہوئے ذاتی مفادات اور نقصانات نہیں دیکھتے۔
عمران خان کو کسی قسم کی ’’ڈیل‘‘ کی پیشکش نہیں کی گئی، ریلیف سیاسی سودے بازی یا دباؤ کی حکمتِ عملی کے تحت نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں کے ذریعہ ممکن ہے، نومبر 2024 کے حوالہ سے پھیلایا گیا ڈیل یا آفر کا بیانیہ گمراہ کن ہے۔
Senior establishment sources deny any backchannel deal with Imran Khan, stating his only recourse lies in courts through constitutional and legal processes, not political negotiation or pressure tactics.
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
غزہ کی صورتحال اب محض جذباتی بیانات یا احتجاج سے حل نہیں ہوگی۔ جنگ بندی، امداد، اور بحالی کے فیصلے عالمی مذاکراتی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر مؤقف بھی پیش کرے اور عملی ریلیف کے اقدامات میں بھی کردار ادا کرے۔
A robot dog clip has derailed India’s AI summit after online users identified the device as a Chinese-made model. Congress and Rahul Gandhi seized on the claim, turning it into a credibility crisis for the event.