Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔
Pakistan's textile exports reached $1.833 billion in July, the highest monthly figure on record, up 43 percent from June and 9.11 percent on the same month last year. Total exports rose 10 percent to $2.96 billion, with textiles the clear driver.
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
یورپین یونین سیفٹی ایجنسی نے پی آئی پر لگائی گئی پابندی پر مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے ہفتہ ۲۸ دسمبر کو یورپین یونین سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کوآگاہ کر دیا ہے کہ یہ پابندی سول ایوی ایشن کے سیفٹی آڈٹ کے بعد ہی ہٹانا ممکن ہوگا
واضع رہے کہ یورپی پونین نے یورپ جانے والی پی آئی اے کی تمام فلائٹس پر رواں برس جولائی میں پابندی عائد کی تھی یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب پابندی بڑھانے سے قبل پاکستانی وزیرہوابازی غلام سرور خان کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے اس امید کا اظہارکیا تھا کہ پی آئی اے پر یورپین یونین کی جانب سے لگائی گئی پابندی جلد ہٹا لی جائیگی واضع رہے یہی وہ موصوف وزیرہوابازی ہیں جنکی جانب سے پی آئ اے کے پائلٹس کے لائسنسز پر لگائے گئے الزامت کے بعد پی آئی اے کی یورپ جانیوالے پروازوں پر چھے ماہ کی پابندی عائد کی تھی جسکو اب مزید تین ماہ کیلئے بڑھا دیا گیا ہے
پی آئی اے کے سی ای او ائیر مارشل ارشد ملک کی جانب سے یورپین ایوی ایشن اتھارٹی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ پی آئی اے پر سے یورپ کی پروازوں پر سے عارضی بنیادوں پر پابندی ہٹا لی جائے جسکو یورپین ایوی ایشن سیفٹی اتھارٹی نے رد کردیا ہے اور کہا ہے کہ پابندی ہٹانے کیلئے لگائی گئی پیشگی شرائط کوپورا کرنا لازمی ہے
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔