Per a new purchasing managers’ survey released by HBL and S&P, Pakistan’s manufacturing PMI rose to 50.9 in May, returning to expansion as new orders recovered and export orders posted their strongest rise since February 2025.
Pakistan’s major ports are seeing a sharp rise in container and transshipment activity as Gulf disruption redirects cargo towards Karachi, Port Qasim and Gwadar.
Iranian officials are preparing three days of farewell ceremonies and a 24-hour funeral procession for Ali Khamenei, with events expected in Tehran, Qom and Mashhad.
The EU formally commended Pakistan's Iran mediation, supported Pakistan's Kashmir position, called for action against Afghan terrorist groups and backed a two-state solution for Palestine in joint communiqué. Kallas met PM Shehbaz and Field Marshal Munir.
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
یورپین یونین سیفٹی ایجنسی نے پی آئی پر لگائی گئی پابندی پر مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے ہفتہ ۲۸ دسمبر کو یورپین یونین سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کوآگاہ کر دیا ہے کہ یہ پابندی سول ایوی ایشن کے سیفٹی آڈٹ کے بعد ہی ہٹانا ممکن ہوگا
واضع رہے کہ یورپی پونین نے یورپ جانے والی پی آئی اے کی تمام فلائٹس پر رواں برس جولائی میں پابندی عائد کی تھی یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب پابندی بڑھانے سے قبل پاکستانی وزیرہوابازی غلام سرور خان کا بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے اس امید کا اظہارکیا تھا کہ پی آئی اے پر یورپین یونین کی جانب سے لگائی گئی پابندی جلد ہٹا لی جائیگی واضع رہے یہی وہ موصوف وزیرہوابازی ہیں جنکی جانب سے پی آئ اے کے پائلٹس کے لائسنسز پر لگائے گئے الزامت کے بعد پی آئی اے کی یورپ جانیوالے پروازوں پر چھے ماہ کی پابندی عائد کی تھی جسکو اب مزید تین ماہ کیلئے بڑھا دیا گیا ہے
پی آئی اے کے سی ای او ائیر مارشل ارشد ملک کی جانب سے یورپین ایوی ایشن اتھارٹی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ پی آئی اے پر سے یورپ کی پروازوں پر سے عارضی بنیادوں پر پابندی ہٹا لی جائے جسکو یورپین ایوی ایشن سیفٹی اتھارٹی نے رد کردیا ہے اور کہا ہے کہ پابندی ہٹانے کیلئے لگائی گئی پیشگی شرائط کوپورا کرنا لازمی ہے
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔