The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔
Pakistan's textile exports reached $1.833 billion in July, the highest monthly figure on record, up 43 percent from June and 9.11 percent on the same month last year. Total exports rose 10 percent to $2.96 billion, with textiles the clear driver.
تاریخ کے اوراق پر نگاہ دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ تاریخ میں نہ واقعات اہم ہوتے ہیں نہ شخصیات اہم ہوتی ہیں، تاریخ صرف نظریات کو یاد رکھتی ہے۔ جب بھِی دوقوتیں مزاحم ہوتی ہیں تو ایک نظریہ فتح یاب ہوتا ہے ایک کو شکست ہوتی ہے۔ نظریات کی اس جیت اور ہار کے درمیان شخصیات ہوتی ہیں، واقعات ہوتے ہیں۔
ملک میں جو صورت حال آج کل ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھی۔ اب دو قوتیں آمنے سامنے کھڑی ہیں، اب سیاسی جماعتوں کی تخصیص ختم ہو گئی ہے،اب بات جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں پر موقوف ہو گئی ہے۔ ایک طرف سے ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ ہو رہا ہے، دوسری طرف سے ووٹ کو پاوں تلے روند دینے کا خدشہ ہے، ایک طرف سے پارلیمان کی حرمت کی بات کی جا رہی ہے دوسری طرف سے صدارتی نظام کا نعرہ لگ رہا ہے۔ ایک طرف سے عوام کو آواز دی جا رہی ہے دوسری طرف سے بندوق سے ڈرایا جا رہا ہے۔
پی ڈی ایم کی مزاحمت بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ باتیں ہو رہی ہیں جن کا کسی نے اس ملک میں تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ان پر الزام لگ رہا ہے جو ہمیشہ سے مقدس سمجھے جاتے تھے۔ عوام اپنے لیڈروں کی آواز میں آواز ملا رہی ہے۔ ہر صوبے سے ایک ہی صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے۔ بلوچستان والے اپنے دکھوں کی چھیدی ہوئی چادر دکھا رہے ہیں۔ کے پی کے والے اپنی لاشیں گنوا رہے ہیں۔ سندھ والے اپنی قربانیوں کا خراج مانگ رہے ہیں۔ پنجاب تازہ افتاد کا ماتم کر رہا ہے۔ کشمیر ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ بچے کھچے کشمیر کے وزیر اعظم پر ہم غداری کا فتوی لگا چکے ہیں۔ ملک کے ہر کونے سے جبر سے نجات کی خواہش کا اظہار ہو رہا ہے،خوف کی دیواریں گرانے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔
اپوزیشن ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کر چکی ہے۔ عوام کو جو شعور نصیب ہوا وہ جمہوری قوتوں کی بہت بڑی فتح ہے۔ کتنے برسوں کے بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ یہاں ستر برس کار حکومت کس طرح چلتا رہا۔ یہاں جمہوریت کے سر پر کون سے گھناونے بادل چھائے رہے، خلائی مخلوق کون ہوتی ہے، محکمہ زراعت کس کو کہتے ہیں، شمالی علاقے کی سیاحت کے کیا معنی ہوتے ہیں۔ نواز شریف کو حکومت سے تو نکال دیا مگر اسکے نتیجے میں اب غیر جمہوری طاقتیں پاکستان کے ہر گوشے سے بے دخل ہو چکی ہو رہی ہیں ،ہر گوشے سے صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے۔
یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ لوگوں کے ذہنوں پر آہنی خود چڑھا کر ان کی سوچ کو قید کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ کیفیت ہمیشہ نہیں رہ سکتی۔ ایک وقت آتا ہے جب شعور کی کرنیں بند دماغوں کو منور کرتی ہیں ، جب عوام اپنے پر مسلط طویل عرصے سے محیط کم علمی کا ماتم کرتے ہیں، جب احساس محرومی جاگتا ہے، جب خوف کی دیوار ڈھے جاتی ہے؛ ایسے میں کوئی طاقت عوامی غم و غصے کو نہیں روک سکتی۔ ایسے میں طاقتوروں کا ہر قدم الٹا پڑتا ہے۔ ہر منصوبہ ناکام ہوتا ہے۔ ہر منصوبہ منہ کے بل گرتا ہے۔
پاکستان میں حالات سے کوئی سبق سیکھ لیا جاتا تو اچھا تھا ۔ مگر ہو یہ رہا ہے کہ جتنی صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے اتنا ہی ظلم بڑھتا جا رہا ہے، ہر روز نئی گرفتاریاں ہو رہی ہیں، خواجہ آصف، مریم نواز کو بتا چکے تھےکہ انھیں نواز شریف سے اختلاف پر مجبور کیا جاتا رہا، وہ نہیں مانے تو گرفتار کر لیے گئے۔ نیب اس ملک کے لوگوں کے لیے ایک ایسی افتاد بن چکا ہے کہ اس کے حوالے سے انصاف کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف انتقام کی قوت پر قائم ہے۔
سہ رخی اس جنگ میں سیاستدان اپنے نظریات پر ڈٹے نظر آتے ہیں، عوام ان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ دوسری جانب بظاہر غیر جمہوری قوتوں کو کوئی فرق نہیں پڑا ، وہ اپنی ڈھٹائی پر قائم ہیں، اپنے چہیتوں کو بچا رہی ہیں اور دوسروں پر الزام لگا رہی ہیں ،ان کے دل اس عوامی پکار سے موم نہیں ہو رہے، وہ اپنے مفادات کے لیے ایک سیسہ پلائی دیوار بن گئے ہیں۔
تیسری جانب وزیراعظم جن پر صرف وزیر اعظم کی تہمت لگی ہوئی ہے وہ روز بہ روز غلطیاں کر رہے ہیں، وہی قابل ِنفرین کرپشن کرپشن کا راگ الاپ رہے ہیں، اپنی نااہلی کا ہر روز ایک نیا اقرار کر رہے ہیں، اپنی کم علمی کا ہر روز نیا ثبوت فراہم کر رہے ہیں، اپنے آقاؤں کو رسوا کر رہے ہیں ۔ حکومت کے دعوے اب گرد ہو چکے ہیں۔ یہ حکومت اس ملک کے عوام کی سب سے بڑی بھول بن گئی ہے۔ اب اپوزیشن اس حکومت کو تسلیم کرنے پر رضامند نہیں ، حکومت کو لانے والے اس سے جان چھڑانے پر رضامند نہیں۔ حکومت باعزت طور پر رخصت ہونے کو تیار نہیں تو اب کیا ہوگا۔ سب اپنی اپنی پوزیشن پر جمے ہوئے ہیں، ایک دوسرے کے مخالف ڈٹے ہوئے ہیں، آمنے سامنے کھڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ان منجمد قوتوں کے ٹکراو سے کیا ہو گا ؟ کیا نتیجہ نکلے گا ؟ کون جیتے گا ؟ کون ہارے گا ؟
تاریخ ہمیں بتا تی ہے کہ انقلاب چاہے روس کا ہو یا فرانس کا ، بیداری چاہے چین میں ہو یا برطانیہ میں ، امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کا غم و غصہ ہو یا انڈیا میں عام آدمی تحریک ؛ اس کا آغاز ہمیشہ ایک بہت معمولی واقعہ سے ہوتا ہے ، ایسا واقعہ جس کی نہ تاریخی اہمیت ہوتی ہے، نہ وہ کوئی بہت بڑے انقلاب کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ واقعہ بہت ہی معمولی ہوتا ہے لیکن اس واقعے کو عوام اپنے ردعمل سے غیر معمولی بناتے ہیں۔ نہ واقعہ نیا ہوتا ہے نہ کردار نئے ہوتے ہیں بس اس گمنام واقعے پر ردعمل نیا ہوتا ہے۔ یہ واقعہ سارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اپنے اپنے موقف پر جمی دو قوتوں کے مابین ایک نیا حل پیش کرتا ہےجو ماضی کے معیارات کی دیوار کو ڈھا دیتا ہے۔ اپنے لیے نئے رستے تلاشتا ہے، اپنا جواز خود بن جاتا ہے۔ یہ واقعہ کہیں بھی ہو سکتا ہے ۔ ہمیں بس یہ یاد رکھنا ہے کہ ہم تاریخی طور پر اس معمولی سے واقعے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
یاد رکھیں جب بھِی دوقوتیں مزاحم ہوتی ہیں تو ایک نظریہ فتح یاب ہوتا ہے ایک کو شکست ہوتی ہے۔ نظریات کی اس جیت اور ہار کے درمیان شخصیات ہوتی ہیں ، واقعات ہوتے ہیں اور بعض یہ واقعات بہت ہی معمولی واقعات ہوتے ہیں ۔ اتنے معمولی کہ جن کو کوئی یاد نہیں رکھتا ، جن کی طرف کسی کا دھیان نہیں ہوتا۔ یہ معمولی واقعات ہی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ عروج کے زوال کی ابتدا ہوتے ہیں۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔