“وقت کرتا ھے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ھوتا”

زندگی میں انسان موٹربائیک سے لیکر گاڑی، ٹرین اور جہاز ہر طرح کا سفر کرتا ہے مگر ٹرین کا سفر ایسا خاص ہے کہ یہ نہ صرف تفریح بلکہ ہر فرد کیلئے یادگار بن جاتا ہے، جی ہاں یہ کسی صورت ایک ایڈوینچر سے کم نہیں ہوتا البتہ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہوتی چلی جا رہی ہے اور اب یہاں شاید ہی کوئی ٹرین کا سفر بطور تفریح یا یادگار سمجھ کر کرتا ہو گا، اس کی بڑی وجہ آئے روز کے حادثات ہیں جنہوں نے ریل کے انتہائی سستے اور غریب پرور سفر کو مہنگا یہاں تک کہ جان لیوا بنا دیا ہے۔

پاکستان ریلوے اور تحریک انصاف کا دورِ حکومت

راولپنڈی سے کراچی کے لیے چلنے والی سہولیات سے بھرپورگرین لائن ہو، لاہور سے چلنے والی جناح ایکسپریس ہو یا پھر وزیراعظم کے آبائی شہر میانوالی کے لیے چلنے والی نیازی ایکسپریس، پی ٹی آئی نے اپنے دورِ حکومت میں آئے روز نئی ٹرینوں کا افتتاح تو کیا لیکن ایک زمانے میں محفوظ ترین سمجھا جانے والا ریل  گاڑی کا سفراب پاکستان میں مہلک ترین ہونے کے قریب ہے۔

رواں حکومت کے تین برسوں میں بمشکل ہی کوئی ماہ ایسا گزرا ہے جس میں کسی ٹرین حادثے کی خبر سامنے نہ آئی ہو۔

میڈیا میں سامنے آنے والے واقعات کو دیکھا جائے تو اب تک 1 درجن سے زائد ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں متعدد مسافر اور ٹرین عملہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔

ریلوے کا حالیہ ٹرین حادثہ گھوٹکی میں ہوا، یہ کب اور کیسے ہوا؟

رواں ہفتے کے آغاز میں سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ریتی ریلوے اسٹیشن کے قریب دو ٹرینوں کا تصادم پاکستان میں ٹرین حادثات کی تاریخ میں ایک اور تلخ باب شامل کر گیا۔ جس میں 60 سے زائد مسافر جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ رات تقریباً ساڑھے تین بجے پیش آیا جب کراچی سے سرگودھا جانیوالی ملت ایکسپریس کی 10 سے زائد بوگیاں ڈی ریل ہوئیں اورمخالف سمت سے آنیوالی تیز رفتار سرسید ایکسپریس ان بوگیوں سے جا ٹکرائی۔ حادثے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہنے والے سرسید ایکسپریس کے انجن ڈرائیور کے مطابق ریتی اسٹیشن سے نکلنے کے بعد ٹرین کی رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تھی، بریک لگا کر بھرپور کوشش کی لیکن ہماری ٹرین ٹریک پر گری ملت ایکسپرین کی بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ انجن ڈرائیور کے مطابق حادثے کے دو گھنٹے بعد تک انجن میں پھنسا رہا، جس کے بعد مقامی افراد نے ریسکیو کیا۔

پاکستان میں ریلوے ٹرین حادثات کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟

پاکستان میں ریلوے کے حادثات کی بڑی وجوہات میں ریل گاڑیوں کا پٹری سے اتر جانا یا ٹرینوں کے مابین تصادم شامل ہے مگر ایسا ہوتا کیوں ہے؟ کیا اس میں انسانی غفلت اور لاپرواہی کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ قطعی طور پر نہیں چونکہ گھوٹکی ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی وجہ بننے والی بوگی نمبر 10 کے ہک میں خرابی بتایا جا رہا ہے، اب ٹرین کو منزل مقصور کی طرف گامزن کرنے سے پہلے ایسے نقص کی تشخیص اور ٹھیک کرنے کے احکامات صادر کرنا ریلوے افسران و ملازمین ہی کی ذمہ داری تھی، یہی وجہ ہے کہ ان حادثات کی بڑی وجوہات میں انسانی غفلت، لاپرواہی اور انا پرستی کے تاثر کو بھی کسی صورت رد نہیں کیا جا سکتا۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے کا شکار ملت ایکسپریس کے ڈرائیور نے بوگی نمبر 10 کے ہْک میں خرابی سے انتظامیہ کو آگاہ کیا اور اس بوگی کو ٹرین میں شامل کرنے سے انکار کیا لیکن مکینیکل ڈیپارٹمنٹ نے زبردستی 10 نمبر بوگی کو ٹرین کا حصہ بنایا اور یہی بوگی پٹڑی سے نیچے اتری اور افسوسناک حادثے کی وجہ بن گئی جس نے 60 سے زائد قیمتی جانوں کو نگل لیا۔ اب چونکہ ایک ڈرائیور عہدے اور تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے مذکورہ ڈیپارٹمنٹ سے نیچے ہے اسی لیے مکینیکل ڈیپارٹمنٹ کے عملے نے ڈرائیور کی بات پر کان دھرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنی انا میں قیمتی انسانی جانوں کو داؤ پر لگا دیا۔

اپنے پیاروں کو کھونے والوں کیلئے حکومت نے اب تک کیا کیا؟

ریلوے کا سفر کرنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہونگے کہ جب ٹرین کا ٹکٹ خریدتے ہیں تو اس ٹکٹ پر انشورنس کی مد میں ‘5’ روپے بھی وصول کیے جاتے ہیں یعنی اگر خوانخواستہ ٹرین کسی حادثے کا شکار ہو جائے تو جاں بحق مسافروں کے لواحقین اور زخمیوں کو اسی حساب سے رقم دی جائے گی، اب 5 روپے کی انشورنس کے بدلے حکومت کی جانب سے گھوٹکی ٹرین حادثہ میں دنیا سے چلے جانیوالوں کے لواحقین کیلئے 15، 15 لاکھ امداد کا فوری اعلان کیا گیا، اسی طرح زخمیوں کو بھی ان کے زخموں کی نوعیت کے مطابق رقوم دی جائینگی۔ جبکہ حکومت کی جانب سے ایک اور اعلان ہمیشہ کی طرح پرانا ہی تھا جس میں اپنی لاپرواہی اور غفلت سے حادثے کا سبب بننے والے افراد کو کیفر کردار پر پہنچانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

ریلوے میں حادثات کو روکنا کیسے ممکن ہے؟

وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی کے مطابق پاکستان میں ریلوے ٹریک تقریباً 50 برس پرانا ہے اور حادثات کی بنیادی وجوہات میں ریلوے ٹریک کی خرابی بھی شامل ہے۔ یقینا یہ خرابی فوری نہیں تھی۔ بڑی خرابی کو فالو کرنے کےلئے ابتدائی طبی امداد پر عمل درآمد ضروری ہے۔ مشہورانگریزی مقولہ ہے کہ a stitch in time saves nine یعنی خرابی کا تدارک جتنا جلدی کر لیا جائے اتنا ہی بہتر ہے اب مزید تاخیر کیے بغیر جہاں حکومت تمام تر توجہ نئے پاکستان کے نئے منصوبے یعنی ایم ایل 1 پر مرکوز کر رکھے ہے وہیں کچھ توجہ پرانے پاکستان کے ریلوے ٹریک پر بھی دے تاکہ غریب پرور ریل گاڑی کی سواری موت کا کنواں ثابت نہ ہو۔ ان بوسیدہ ٹریک پر مسافر گاڑیاں دوڑاتے رہنا انسانیت کا قتل ہے۔

ریلوے میں  بنیادی  خرابیوں کو دور کرنے کے لئے ریلوے کے ریٹائرڈ ملازمین جن میں  بڑے بڑے قابل لوگ موجود ہیں ۔ان کو سنا جائے اور ان سے تجاویز لی جائیں، اس سلسلے میں ایک پورٹل  کا اجرا بھی آسانی اور مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ریلوے حادثات کو روکنے کیلئے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے کم از کم ریلوے وزیر اور اس ادارے کے اعلیٰ افسران کیلئے ملک بھر میں ہوائی سفر کو ممنوع قرار دیتے ہوئے سفری سہولت ٹرین تک محدود کر دی جائے پھر یہی ریل گاڑی پھولوں اور پتیوں سے سجی خوشبو بکھیرتی ٹریک پر بھاگتی نظر آئیں گی اور ریلوے کے سفر سے مایوس ہوتے مسافروں کو اہم شخصیات کے ساتھ سلفیاں بنانے کا بھی خوب موقع میسر آئے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here