28.2 C
Islamabad
Sat, 13 August 2022

مثالی منشورکے دعوے والی تحریک انصاف کا غیر مثالی بجٹ

Sign up to the Thursday Roundup for free

The best editorials & latest news straight to your inbox

Your data will be processed in accordance with GDPR guidelines
- Advertisement -

بجٹ 2021-22 نمبروں اورالفاظ کا گورکھ دھندا

پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کے شور شرابے اور پارلیمنٹ کے باہر سرکاری ملازمین کے احتجاج میں وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے مالی سال 22-2021 کیلئے 8 ہزار 487 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔

بجٹ-22 2021 وفاقی سرکاری ملازمین 10 فیصد اضافے سے ناخوش کیوں ہیں؟

حکومت نے اگلے مالی سال کیلئے معاشی ترقی کا ٹارگٹ چار اشاریہ آٹھ فیصد رکھا ہے۔ وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ، مزدور کی  کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ مقرر کر دی ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح کو برقرار رکھا گیا ہے۔ جس کو تنخواہ دار طبقے کیلئے بجٹ میں ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، چونکہ گزشتہ برس سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں اضافے سے محروم کر دیا گیا تھا جو کہ 47 برس میں پہلی بار تھا۔ تاہم وفاقی سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کو مسترد کر دیا ہے، انہوں نے قومی اسمبلی میں بجٹ کی کارروائی کے دوران پارلیمنٹ کے باہر شدید احتجاج جاری رکھا۔ ان کے مطابق اگر مہنگائی کو دیکھا جائے تو یہ اضافہ نہ ہونے کے مترادف ہے چونکہ گزشتہ برس بھی ان کو تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا جس کے باعث ریکارڈ توڑ مہنگائی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ سرکاری ملازمین نے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

بجٹ 2021-22 اور معاشی جادوگر

 بجٹ بنانے والے معاشی جادوگروں نے 2021-22 کا بجٹ تو بنا لیا لیکن ہر روز مہنگائی کا سامنا کرتی عوام غربت کی لکیر سے نیچے گرجانے والے 5 کروڑ افراد کا بجٹ بیروزگاری کا سامنا کرتے لاکھوں نوجوانوں کا بجٹ ایک دیہاڑی دار مزدور کا بجٹ اور ایک چھوٹے پنشنر کا بجٹ کون بنائیگا

تحریک انصاف کا تیسرا بجٹ کتنا جاندار اور مختلف ہے؟

تحریک انصاف حکومت کے دورِ اقتدار کا تیسرا بجٹ سیاسی اور روایتی نوعیت کا ہے جس میں پارٹی منشور کو نظر انداز کیا گیا ہے اور ماضی کی حکومتوں کی طرح رقم کی بھی غیر منصفانہ تقسیم واضح ہے، جس میں تبدیلی کا وعدہ بھی غائب تھا۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاع کیلئے 1373 ارب ، وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے، سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 60 ارب، تنخواہوں اور پنشن کیلئے 160 ارب اور صوبوں کو این ایف سی کے تحت ایک ہزار186 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ تعلیم کیلئے 91.97 ارب روپے مختص ہیں۔ جبکہ صحت کیلئے 28.352 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

کیا واقعی بجٹ میں عوام کو ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے؟

آئندہ مالی سال کے  بجٹ22 -2021میں 383 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ حکومت کی جانب سے عوام کو 119 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف ملے گا جس کو مجموعی اضافی ٹیکس کی رقم سے منہیٰ کیا جائے تو عوام پر 264 ارب روپے اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ 

بجٹ دستاویزات کے مطابق سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 215 ارب روپے، انکم ٹیکس کی مد میں 116 ارب روپے، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں عوام پر 52 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا جائے گا۔

انکم ٹیکس کی مد میں 58 ارب روپے، کسٹمز ڈیوٹی میں 42 ارب روپے، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 19 ارب روپے ٹیکس ریلیف کی تجویز ہے۔ 

بجٹ دستاویزات کے مطابق کہ موبائل فون صارفین پر 70 ارب، انٹرنیٹ صارفین پر 30 ارب روپے  سمیت مجموعی طور پر 100 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تجویز ہے۔3 منٹ سے زائد موبائل فون کال پر ایک روپے، ہر ایس ایم ایس پر 10 پیسے، ہر جی بی انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال پر 5 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی چارج کرنے کی تجویز ہے۔

نان فائلر بجلی بل 25 ہزار سے زائد آنے پر 7.5 فیصد اضافی ٹیکس ادا کریگا۔

وزیراعظم کتنی تنخواہ لیں گے؟

وزیراعظم آئندہ مالی سال میں چوبیس لاکھ 41 ہزار روپے تنخواہ لیں گے، یہ رقم بجٹ میں مختص کر دی گئی ہے۔

سادگی اور کفایت شعاری مہم کے بر عکس بجٹ کی دستاویزات کے مطابق وزیر اعظم آفس اخراجات کے لیے 46 کروڑ 10لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ علاوہ ازیں صدر پاکستان کے آفس کے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں 40 کروڑ پچاس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صدر علوی کے ذاتی آفس ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے لیے اکسٹھ کروڑ پچاس لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی وزرا، وزرا مملکت کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کیلئے 21 کروڑ 80لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مشیروں کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں تین کروڑ روپے روپے رکھے گئے ہیں۔ معاونین خصوصی کے لیے دو کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

کراچی کیلئے ایک بار پھر بڑا پیکج

بجٹ22- 2021 میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کیلئے 739 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کے تحت وفاقی حکومت 98 ارب روپے دے گی  جبکہ سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے 509 ارب شامل ہوں گے۔

یاد رہے کہ بجٹ20- 2019 میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی اپنی بجٹ تقریرمیںکراچی کے لیے ایسے ہی بڑے پیکج کا اعلان کیا تھا مگر اس پیکج کی ایک پائی بھی کراچی پر خرچ ہوتی نظر نہ آئی۔ اسی طرح گزشتہ برس وزیرِاعظم بھی کراچی کے لیے 162 ارب روپے کا اعلان کرکے آئے مگر یہ فنانسنگ بھی دستیاب نہ ہوسکی۔

موجودہ بجٹ نمبروں کے گورکھ دھندے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ایسا لگتا ہے کہ موجودہ بجٹ خیالی بنیادوں پر بنیاد بنا کر عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے بنایا گیا ہے تاکہ پچھلے تین برس کیطرح ایک برس اور گزارا جاسکے

- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

RELATED ARTICLES

FRESH OFF THE PRESS

ریاست بچاؤ

موجودہ حکومت ریاست بچاؤ کا نعرہ لگا کر بھی وہی کچھ کر رہی ھے جس طرح عمران خان چور ڈاکو کا نعرہ لگا کر در حقیقت اس کے الٹ کر رہا تھا۔ آگر ریاست بچاؤ ہی موجودہ اتحادی حکومت کا مقصد و مدعا ھے تو پھر بتایا جائے کہ اس سلسلے میں عملی طور پر کونسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اور اب تک مثبت نتائج کے حصول کا تناسب کیا ھے۔

کرپشن کا تسلسل

اگر کسی کو غصہ چڑھتا ھے یا ناراض ہوتا ھے تو ناراض ہونے کی بجائے اپنی کرتوتوں کو ٹھیک کر لے ورنہ غصہ بھی ہونے دیں اور ناراض بھی ہونے دیں۔ کیا فرق پڑتا ہے۔

مجرمانہ جاہلیت

گاڑی کے ریڈی ایٹر کا مسئلہ ہے اور میں ورکشاپ میں ہوں۔ ڈیئر تم سپر مارکیٹ آ جاو میں گاڑی ٹھیک کروا کے تھوڑی دیر میں پہنچ رہا ہوں۔

⁨تعلیم و تربیت کے ساتھ شخصیت کا ہونا ہر ایک کی ضرورت ہے!⁩

تجربہ کاروں اور پریکٹیشنرز کے ساتھ تعلیم اور تربیت انسانوں کو خوش کرتی ہے۔ تعلیم علم اور عقل کو بڑھاتی ہے، اور جب بات افراد کی ہو تو علم ایک جامع زندگی گزارنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس دنیا میں بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو وہ مقدس، معصوم اور جاہل ہوتا ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بچہ خدا کا روپ ہے۔

بچالی ہے ریاست بھی سیاست بھی

یا تحریکِ انصاف کی حکومت کا خاتمہ اندھے کننویں میں چھلانگ لگانے کی سی حرکتِ مذبوحی تھی؟ ہر گز نہیں پی ڈی ایم کی قیادت بہت عرصے سے اس معاملے کا ہمہ جہتی جائزہ لے رہی تھی اور ہر پہلو سے اس کے نتائج اور عواقب پر غور کر رہی تھی۔جیسا کہ سابق وزیر داخلہ اس کا اعتراف کر چکے ہیں کہ انھیں ”بتا“ دیا گیا تھا کہ آپ کی حکومت جارہی ہے۔

⁨کراچی ریڈ زون میں ”سپریم کورٹ آف پولیس“⁩

ماحول خاصہ گرما گرم تھا۔ درخواست گزاروں کا آنا جانا جاری تھا۔ مائیک آن اور تقریریں،مذمتیں ہو رہی تھیں۔ آنسو بہہ رہی تھیں،دل دھڑک رہی تھیں۔ گہماگہمی کی سما تھیں لیکن یکجہتی کرنے والے حسابی تھے اور ہر رنگ و نسل کے لوگ تھے۔ البتہ مدعی اور مؤقل کا موقف اور مطالبہ ایک ہی تھا۔ چہرے ہزار۔

⁨کیا پرویز رشید ناقابلِ معافی ہیں؟⁩

ستر کی دہائی میں گارڈن کالج راولپنڈی میں طلباء سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والے پرویز رشید درحقیقت ایک ناقابلِ تسخیر سیاسی نظریہ کا نام ہیں۔ چی گویرا سے متاثر انقلابی نظریات رکھنے والے پرویز رشید طالبعلمی کے دور سے ہی ایک غیر طبقاتی معاشرے کے قیام کا خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔

ایمیلائیڈوسس: وہ نایاب بیماری جس میں پرویز مشرف مبتلا ہیں

صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف ایمیلائیڈوسس کی وجہ سے ہسپتال  میں داخل ہیں جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ایمیلائیڈوسس کیا ہے اور یہ کیسے ہوتی ہے؟

بجٹ اور توانائی کے مسائل

الانہ بجٹ آج کی دنیا کا ایک ایسا معروف عمل ہے جس سے کوئی بھی نا آشنا نہیں ہوگا۔ حکومتیں ہر سال اپنی آمد وخرچ کا ایک حساب تیار کرتی ہیں اور سال بھر اس کے مطابق آمدن حاصل کرتی اور بجٹ میں مقرر کردہ اہداف کے مطابق خرچ کرتی ہیں۔

⁨خوف و کتاب کے بیچ زندگی⁩

والے بلوچ طلبا کتاب کو بیگ میں رکھ کر جائے تو لاپتہ ہونے کا خوف پیچھے کرتے ہوئے ہمسفر بن کے جاتا ہے۔ لٹریچر کی رومانوی داستان ہو یا سائنسی علوم سب کچھ خوف کے سائے میں پڑھتا ہے۔