چلیں سب سے پہلے ہم پہلے بوری بند لاشوں سے شہرت پانے والی ایم کیو ایم کی مثال لیتے ہیں وہ اُنیس سو اٹھاسی سے (دو ہزار اکیس) ابھی تک ہر اس حکومت کا حصہ رہی جس نے جائز اور نا جائز طریقے سے عنان اقتدار سنبھالی ان میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، پرویز مشرف (مارشل لاء) ، شوکت عزیز، چودھری شجاعت اور ظفراللہ جمالی کے بعد عمران خان بھی شامل ہیں کیونکہ ان سب کے اقدامات ”عوامی مفاد“ میں تھے اور اسی عوامی مفاد کی خاطر انھوں نے ”بارہ مئی“ تک کرنے سے گریز نہیں کیا۔ لیکن ہمیں سمجھایا جا رہا ہے کہ وہ”تبدیلی” لے آئیں گے۔”

ووٹروں کی قحط سالی سے مسلسل دوچار مسلم لیگ ق نامی جماعت جو گجرات کے چودھریوں کی نمبر پلیٹ کی مانند ہے یہی چودھری برادران اُنیس سو پچاسی سے مسلسل عوامی مفاد کی خاطر ہر حکومت کا حصہ رہے نواز شریف کی وزارت اعلٰی بچانے کی خاطر سیکرٹری اسمبلی منظور موھل کی گمشدگی سے لے کر دس بار وردی میں منتخب کرنے تک چودھری صاحبان کی ”عظیم خدمات“ ہیں لکین وہ پھر بھی تبدیلی لے آئیں گے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی، مینگل گروپ بھی تبدیلی کے لئے بہت دیر تک اپنا سیاسی کندھا پیش کرتی رھی (لیکن بعد میں “اصولی اختلافات” کی بنیاد پر پی ڈی ایم کا رخ کیا )کیونکہ سیاسی تجربہ بہت ہے پارٹی سربراہ اختر مینگل کے والد سردار عطا اللہ مینگل ستر کے عشرے میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی جانب سے بلوچستان کے وزیراعلٰی منتخب ہوئے تھے۔ سردار اختر مینگل خود بھی اُنیس سو ستانوے میں تب وزیر اعلٰی بنے جب نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ مینگل صاحب بھی مشکل دنوں میں بقدر استطاعت تبدیلی میں اپنا حصہ ڈال آئے ہیں ۔

بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) بھی تبدیلی کو اپنی استطاعت کے مطابق کمک پہنچا رہی ہے۔ بلوچستان کی وزارت اعلٰی بھی اسی پارٹی کے پاس ہے۔ پارٹی کے سربراہُ جام کمال خان بذات خود وزیراعلٰی ہیں۔ ان کے دادا جام غلام قادر بھٹو دور میں بلوچستان کے وزیراعلٰی رہے تھے جبکہ دوسری بار جام غلام قادر اُنیس سو پچاسی میں تب وزیراعلٰی بنے جب ملک میں ضیاء الحق کا طوطی بول رہا تھا۔

جام غلام قادر کے بیٹے اور موجودہ وزیر اعلٰی جام کمال کے والد جام یوسف بھی مسلم لیگ ن کی طرف سے دو ہزار سات میں وزیر اعلٰی بلوچستان منتخب ہوئے وہ نواز شریف کابینہُ میں وزیر پانی و بجلی بھی رہے۔ آج کل ان کے برخوردار جام کمال خان ”عوامی مفاد کی خاطر“ تبدیلی کے لئے جدوجہد کا ہراول دستہ ہیں۔

دیہی سندھ کا سیاسی اتحاد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اپنے تین ممبران قومی اسمبلی اور تیرہ ممبران صوبائی اسمبلی کے ساتھ عمران خان کے تبدیلی وژن کو بھر پور طریقے سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ فہمیدہ مرزا گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے کوٹے سے وفاقی وزیر ہیں۔ فہمیدہ مرزا اس سے پہلے چار بار پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھی، دو ہزار آٹھ میں وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کی سپیکر بھی بنی۔ ان کے شوہر ذوالفقار مرزا پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت میں سینئیر وزیر بھی رہے، فہمیدہ مرزا کے والد قاضی عبد المجید عابد جونیجو کابینہُ میں وزیر اطلاعات بھی رہے تھے جبکہ بھائی قاضی اسد عابد بھی پیپلز پارٹی کے ایم این اے رہے۔

جون دو ہزار اٹھارہ میں سٹیٹ بینک نے فہمیدہ مرزا اور اس کے شوہر کو قرض ڈیفالٹر ڈکلئیر کیا لیکن تبدیلی سے وابستگی نے یہ سب کچھ ہوا میں اُڑا دیا کیونکہ وہ چور اور ڈاکو کے ”معیار“ پر پورے نہیں اترتے۔

اور صرف پارٹیوں پر کیا موقوف، انفرادی سطح پر تو صورتحال اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے بعض افراد کا تو یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہیں بھی یا نہیں؟ لیکن پھر بھی فردوس عاشق اعوان سے زلفی بخاری اور تا بش گوھر سے شہباز گل تک ایک حیران کن اور پراسرار سلسلہ ہے جو اپنے اپنے مخصوص ہنر کے ذریعے تبدیلی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

یادش بخیر شیخ رشید بھی عوام کی خاطرتبدیلی کی جدوجہد میں وہاں تک چلے گئیے ہیں جہاں سے ان کو اپنی خبر بھی نہیں آتی، موصوف نواز شریف کے بوسے لیتے اور پھر مشرف کو سیّدی پرویز مشرف بھی بلاتے رہے۔ شیخ صاحب نے اپنی پارٹی (جس کا نام اور انتخابی نشان وہ ہر وقت ٹیلی وژن چینلوں پر یاد کرواتے رہتے ہیں اور پھر بھی یاد نہیں رہتا) تبدیلی پر ”حسب عذاب“ نچھاور کردی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا تبدیلی سے کیا لینا دینا وہ تو محض ”اپنے خاندانی روایت“ کو نبھا رہے ہیں ۔پتہ نہیں کیوں مجھے چودھری نثار اور شاہ محمود قریشی میں کوئی خاص فرق دکھائی نہیں دیتا کیونکہ دونوں بے چارے سیاست بھی اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے.

سندھ سے تعلق رکھنے والے جاگیردار محمد میاں سومرو بھی غریب عوام کی خاطر تبدیلی لانے کے لئے آستینیں چڑھا چکے ہیں اور آج کل تبدیلی حکومت میں پرائیویٹائزیشن کے وفاقی وزیر ہیں اس حکومت سے پہلے سومرو صاحب گورنر سندھ، چیئر مین سینٹ اور عبوری وزیراعظم جیسے اہم عہدوں پر بھی رہے، تبدیلی کا مؤرخ سومرو صاحب کی عظیم جدوجہد اور خدمات کو ضرور اہمیت دے گا۔
تقریبا یہی حال ھر سیاسی گھاٹ کا پانی پینے والے پرویز خٹک کا بھی ھے.

فواد چودھری جسمانی طور پر تو کاروان تبدیلی کی اگلے صفوں میں نظر آتے ہیں لیکن نہیں معلوم کہ ذہنی طور پر کہاں اٹکے ہوئے ہیں موصوف احمد رضا قصوری اور آسیہ اسحاق کے ساتھ بیک وقت مشرف کی پارٹی کے عوام بھی تھے سینٹرل کمیٹی بھی اور ترجمان بھی اور ان دنوں ٹاک شوز میں روز روز ضغیم قادری سے نفیسہ شاہ تک ڈانٹ کھاتے رہے ایک دن اچانک پیپلزپارٹی میں غوطہ لگایا اور چند دنوں بعد تحریک انصاف کے تالاب سے نمودار ہوئے۔

فواد چودھری کے چچا چودھری الطاف پیپلزپارٹی کے ایم این اے تھے لیکن جس دن غلام اسحٰق خان نے بے نظیر حکومت برطرف کی تو چودھری الطاف اسی دن غلام اسحٰق سے جا ملے اور پنجاب کے گورنر بن گئے۔ انتقال بھی اسی گورنری کے دوران ہوا، فواد چودھری کے چچا زاد چودھری فرخ الطاف مشرف دور میں جہلم کے ضلع ناظم بھی رہے۔

یہ ہے اس تبدیلی کا ملغوبہ جس کی قیادت عمران خان اپنی کمال کے وژن اور تاریخی صاف گوئی کے ساتھ فرما رہے ہیں جو کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہتا رہا کہ روایتی سیاستدانوں کی بجائے میں نوجوان قیادت کو موقع دوں گا تاکہ تبدیلی سے قوم کو روشناس کراسکوں۔

اور پھر وہ واقعی تبدیلی لے آیا لیکن ایک اور قرینے سے جس کا ذکر کرتے ہوئے زباں لڑ کھڑانے اور ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔
کیونکہ یہ ھے وہ تبدیلی جس کے لئے احمقوں کا ایک جتھا کام آیا اور طاقتور طبقے نے مرادیں پائیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here