spot_img

Columns

Columns

News

Pakistan did what many thought impossible as Islamabad MoU enters implementation

Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیئے

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔ اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔

Pakistan-brokered Islamabad MoU takes effect after US and Iran sign accord

Shehbaz Sharif says the Islamabad MoU between the United States and Iran has taken immediate effect, with Iran set to reopen the Strait of Hormuz and Washington to lift its naval blockade.

Vance says Pakistan and Qatar shaped US-Iran deal rollout

JD Vance says Pakistan and Qatar helped mediate the US-Iran agreement and asked Washington to delay releasing the full text briefly, with publication expected by Friday.

Mbappé double drives France past Senegal in World Cup opener

Kylian Mbappé scored twice as France beat Senegal 3-1 in their World Cup Group I opener, with Bradley Barcola also on target after Senegal missed big first-half chances.
Opinionویلڈن اسحاق ڈار
spot_img

ویلڈن اسحاق ڈار

Hammad Hassan
Hammad Hassan
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
spot_img

تحریر حماد حسن

نواز شریف نے ناسازگار موسموں اور سرکش قوتوں کے سامنے سول سپر میسی کا علم اٹھایا تو تب اس کا زاد راہ فقط چند وفادار ساتھی یا انگلیوں پر گنے جاتے چند دلیر اور حق گو صحافی ھی تھے۔ (تب پنڈی کی ایک خاتون اور ایک فیشن ڈیزائنر کا کاروباری وژن اور صرف خوشامدانہ ٹوئیٹ کی بلائیں لینا بیانیئے کا حصہ نہ تھے)

لیکن اس تحریک کے عقب میں نواز شریف کی پچھلی حکومت کی وہ شاندار کارکردگی بھی تھی جسے در اصل ان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک معجزے کی شکل میں ترتیب دے کر دنیا کو دنگ کر دیا تھا

پٹرول کو 65 اور ڈالر کو 100 روپے پر باندھ کر اسحاق ڈار مفلوک الحال معیشت کو کھلے میدان میں لے آیا تو حالت نزع کو پہنچے سٹاک ایکسچینج نے کچھ ھی دنوں میں قلانچیں بھرنا شروع کیا اور دیکھتے ھی دیکھتے چون ھزار کی بلندی کو چھو لیا

جی ڈی پی 6 فیصد کی طرف بڑھنے لگی تو مہنگائی کی شرح خود بخود گرتے گرتے تین فیصد پر ھانپنے لگی تھی کہ ٹاوٹ صحافیوں اور بے عقل لونڈوں کو عمران خان (اب نام ھی کافی ہے ) کے گرد اکٹھا کر کے ایک اودھم مچایا گیا اور پھر اس کے بطن برآمد ہوتا ایک تباہ کن منظر نامہ آپ کے سامنے ھے.

اس بد نصیب ملک پر حسب سابق آمریت کی پردہ پوش شام الم اتری اور جیلوں اور جلا وطنیوں کا بازار سجا تو اس بدبخت قوم کے معاشی محسن اسحاق ڈار نے بھی اپنا بوریا بستر اٹھا کر دیار غیر کا رخ کیا

لیکن ادھر کا وٹس ایپ میڈیا حسب معمول نواز شریف اور اس کے ساتھیوں یا باالفاظ دیگر سول سپر میسی کے حمایتی سیاستدانوں کے خلاف تسلسل کے ساتھ زھر اگلنے اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے میں لگا رھا

ان”ٹارگٹس ” میں سے ایک اھم ٹارگٹ اسحاق ڈار بھی تھا کیونکہ وہ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر ڈالنے والوں میں سرفہرست تھا اور چونکہ ترقی کی بطن سے قانون کی بالا دستی اور شعور پھوٹتا ہے اس لئے ایسے لوگ “وارا ” نہیں کھاتے بلکہ انہیں اول درجے کا دشمن سمجھا جاتا ہے

سو صحافتی بھیڑیوں کو ٹاسک دیا گیا کہ اسحاق ڈار کی چیر پھاڑ کرتے رہیں

ظاہر ہے کہ ایسے کاموں کے لئے پرلے درجے کے ٹاوٹ ھی درکار ہوتے ہیں جن کے پاس معلومات شہادت اور دلیل تو درکنار عقل تک بھی نہیں ہوتا

اس لئے ان کا سارا زور بے بنیاد الزام تراشی جھوٹ اور فریب کاری پر ھی ہوتا ھے سو اس معاملے میں بھی اس فرسودہ “تکنیک ” کے استمعال سے کام لیا گیا جسے اسحاق ڈار نے فورا اچک لیا اور اس پراگرامز کے وڈیوز لےکر برطانوی عدالت میں پٹیشن دائر کر دی

سو چند گھنٹے پہلے سنائے گئے عدالتی حکم کے مطابق ARY چینل کو اپنے “عظیم ماھرین اور سینیئر تجزیہ نگاروں ” چودھری غلام حسین اور صابر شاکر کے ھاتھوں نہ صرف ایک لاکھ پاونڈ کا جرمانہ دینا پڑا بلکہ اپنے چینل پر معافی بھی مانگنا پڑی گویا اب ہور چوپو والی صورتحال درپیش ہے۔

اور اس حوالے سے صرف انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر پیش رفت ہونے لگی ہے کیونکہ اسلام آباد ھائی کورٹ مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست خارج کر چکی جبکہ حال ہی میں ابصار عالم کے خلاف آیف آئی اے بھی اپنی درخواست واپس لے چکی ہے۔

گویا معاملات اب اس نہج اور ڈگر سے دور ہوتے جا رہے ہیں جسے ایک مصنوعی فضا میں پروان چڑھا یا گیا اور اپنے مطلوبہ اھداف کو انتہائی غیر فطری انداز سے حاصل کیا گیا

میاں نوازشریف نے یقینا سول بالادستی کی ایک مشکل اور اعصاب شکن جنگ لڑی جس میں انہوں نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت ناقابل فراموش قربانیاں بھی دیں لیکن دیکھا جا رہا ہے کہ اعتقاد کا روپ دھارتے بیانیئے پر اپنی اہمیت اجاگر کرتی اور نواز شریف کے مخلص ساتھیوں کو ھر وقت پیچھے دھکیلتی ایک کوتاہ قد خاتون کا اثر ضرورت سے کچھ زیادہ بڑھ چکا ھے یہی وجہ ہے کہ کچھ کاروباری خواتین بیانیئے کو اپنے برانڈز کی تشہیر کی طرف موڑ رھے ہیں جبکہ ٹوئٹر پر سنجیدہ معاملات کا نوٹس لینے کی بجائے غیر سنجیدہ ٹوئیٹس پر خراج بھی کسی طور مناسب نہیں. بہرحال پارٹی قیادت کو ان معاملات کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ جمہوری جدوجہد ایک ذمہ دارانہ رویئے کا متقاضی ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ نواز شریف جمہوری قوتوں کی لشکر ناسازگار موسموں اور بد رنگ ساعتوں سے گزار کر آخری پڑاؤ پر پہنچا آیا ہے۔

لیکن تاریخ کے اوراق یہی سمجھا رھے ہیں کہ فصیلوں کے آس پاس آخر شب کا فیصلہ کن معرکہ بصیرت اور بھادری ھی کا تقاضا کرتی ہے

نواز شریف کے دلیر پن اور بصیرت کے ساتھ ساتھ ان کے صف اول کے ساتھیوں شاھد خاقان عباسی سے اسحاق ڈار پرویز رشید سے رانا ثناء اللہ اور خواجہ آصف سے عظمی بخاری تک سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں نے یقینا ایک تاریخ رقم کر دی لیکن پیش رفت کے ساتھ ساتھ اپنے لشکر پر نگاہ بھی رکھنا چاہیے

اسی لشکر کے ایک اھم کماندر اسحاق ڈار نے ابھی ابھی ایک فصیل کو گرا دیا ھے جبکہ مرہم نواز فیصل آباد میں ایک اور رخ سے “اچانک اور غیر متوقع “حملہ کر چکی ہیں

حلیف قرئیے سے مولانا کی سرفروش کمک بھی پہنچ رھی ہے

غلاموں کی سراسیمگی اور دھشت بھی قابل دید ہے

اور اونچے ایوانوں کی تو تکار گلی کوچوں کا موضوع بن گیا ہے

کل کی خبر تو خدا جانے لیکن۔۔۔

دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ھے ساقی

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.