Columns

Columns

News

تحریکِ انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا، نیوز ایجنسی رائٹرز

تحریکِ انصاف نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کے ساتھ معاہدہ کو عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات اور سیاسی استحکام سے مشروط کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

بینک آف امریکا نے پاکستان کے ڈالر بانڈز کا درجہ بڑھا کر ہیوی ویٹ کرنے کی تجویز دے دی، جریدہ بلومبرگ

بینک آف امریکا نے پاکستان کا درجہ مارکیٹ ویٹ سے بڑھا کر ہیوی ویٹ کرنے کے تجویز دے دی، پاکستان میں عام انتخابات نے سیاسی بےیقینی کو کم کیا جس سے پاکستان کے ڈالر بانڈز میں عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی پر 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں فردِ جرم عائد کر دی گئی

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں سابق چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فردِ جرم عائد کر دی، ملزمان کا صحتِ جرم سے انکار، سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو صبح 10 بجے ہو گا

صدر عارف علوی کے انکار کے بعد قومی اسبملی سیکرٹریٹ نے قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو صبح 10 بجے بلا لیا۔

مریم نواز شریف پنجاب کی پہلی خاتون وزیرِ اعلٰی منتخب ہو گئیں

رف مسلم لیگ (ن) کی وزیرِ اعلٰی نہیں ہوں بلکہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کی وزیرِ اعلٰی ہوں، میرے دل میں کسی کیلئے انتقام کا جذبہ نہیں ہے، مجھے اس میں آپ سب کا ساتھ چاہیے، انشاءاللّٰه ہم ایک بہتر پنجاب بنائیں گے۔
Commentaryیہ وہ اےاین پی ہر گز نہیں

یہ وہ اےاین پی ہر گز نہیں

Hammad Hassan
Hammad Hassan
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
spot_img

تحریر حماد حسن


وہ چاسدہ کی کھڈی میں بنے ہوئے معمولی اور کم قیمت کھدر کے کپڑے پہنتا عموما پیاز یا لسی کے ساتھ روٹی کھاتا تانگوں میں سفر کرتا اپنے انتہائی غریب پارٹی کارکنوں (خدائی خدمتگار تحریک) کے ہاں قیام کرتا لوگوں کے ساتھ بھلائی اور خیر کا پرچار کرتا اور اپنے حقوق پہچاننے اور اسے حاصل کرنے کا درس دیتا۔ لیکن اس سادگی اور ایمانداری کے باوجود بھی اپنے موقف پر ایسا ڈٹا رہتا کہ نہ انگریزوں کے سامنے جھکا اور نہ ہی ان کے “وارثوں” کے سامنے۔ اور یہی وجہ تھی کہ اس نے تیس سال سے زائد عرصہ مختلف جیلوں میں گزارا لیکن ان مشکلات کے باوجود بھی سیاسی حوالے سے وہ بلا شبہ پختون تاریخ کے سب مقبول اور معتبر سیاسی رہنما بھی ٹھرے۔ چارسدہ کے ایک متمول گھرانے سے تعلق رکھنے لیکن فقیری اور حق گوئی میں زندگی گزارنے والے اس شخص کا نام عبد الغفار خان تھا جنہیں ان کے پیروکار باچا خان کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اسی باچا خان کی حق گوئی شفاف زندگی اور پا مردی کی معتبر گواہیاں بھی انہی کے تمام حریف تاریخ کو سونپ چکے ہیں۔

باچا خان کے تین بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا نام عبد الولی خان تھا جو عین جوانی میں اپنے والد کی پاکباز لیکن دلیر سیاست کا علم تھامنے آگے بڑھا تو ایوبی مارشل لاء نے حسب معمول اور حسب روایت ان پر بھی جیلوں اور زندانوں کے دروازے کھول دیئے۔ یہ سلسلہ جنرل ضیاء تک تسلسل کے ساتھ چلتا اور ولی خان کو ایک جمہوریت پسند اور بہادر رہنما ثابت کرتا رہا۔ ایوبی مارشل لاء کے خلاف نوابزادہ نصر اللہ خان اور دوسرے سیاسی لیڈروں کے ساتھ مل کر آمریت کے خلاف تحریک چلانا اور قید و بند کاٹنا ہو بھٹو کے غیر جمہوری اقدامات کے خلاف ڈٹنا اور حیدرآباد ٹریبونل کا سامنا کرنا ہو یا ضیائی مارشل لاء کے خلاف ایم آر ڈی تحریک منظم کرنا اور جمہوریت کی بحالی کے لئے طاقتور عوامی تحریک چلانا اور طویل قید و بند کاٹنا ہو۔ ولی خان کبھی پیچھے تو درکنار کبھی دوسرے صف میں بھی نظر نہیں آئے بلکہ پہلی صف سے بھی آگے کیونکہ جمہوری جدوجہد اور آمریت مخالف لشکر کا علم بھی انہی کے ھاتھوں بلند ہوتا دکھائی دیتا رہا۔ یہی اس گھرانے کی وہ ادا تھی جس پر پختونوں کی اکثریت مر مٹی اور اس سے جان نثار اور پر خلوص کارکنوں کی تاریخ برآمد ہوئی۔ لیکن اب کے درخشندہ تاریخ کی حامل جماعت اے این پی کہاں اور کس رخ کھڑی ہے؟

بہت سے سوال ہیں مثلا موجودہ اے این پی کی اصل قیادت کس کے پاس ہے؟ ایمل ولی خان یا حیدر ہوتی؟ سربلند بلور خاندان کو کس نے اور کیوں فراموشی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے؟ پاکستان کے سب سے سینیئر اور تجربہ کار سیاستدان غلام احمد بلور پر دوسروں کو ترجیح کیوں دی جا رہی ہے؟ اے این پی کن “مجبوریوں” کی وجہ سے تحریک انصاف جیسی سیاست کے راستے پر چل پڑی۔ حیرت انگیز طور پر پی ڈی ایم سے اے این پی نے غیر فطری اور غیر روایتی انداز میں کنارہ کشی کیوں اختیار کر لی۔ اور اس جماعت کا توانا ورکر پہلے کی مانند پرجوش اور سیاسی کردار کا حامل کیوں نہیں رہا۔ معصوم شاہ ٹائپ لیڈر شپ کس نے پروان چڑھائی اور پارٹی پر اس کے اثرات کیا پڑے؟ خوفناک آمریتوں کے سامنے ڈٹتی ہوئی اے این پی لیڈر شپ پر ایسا وقت کیونکر آیا کہ وہ نیب جیسے بد نام زمانہ ادارے کے سامنے سرنگوں دکھائی دیا؟ اور اب جبکہ تاریخ جمہوریت اور آمریت کے مابین واضح لکیر کھینچ چکی اور آخری جنگ کا فیصلہ کن معرکہ برپا ہے تو جمہوری لشکر کا روایتی علم بردار گھرانہ مصلحت کی بکل اوڑھے خوف اور سراسیمگی کا شکار کیوں ھے؟

خلاف معمول اے این پی لیڈر شپ صف اول میں کھڑا ہونے اور قیادت کرنے کی بجائے فرار کے راستے پر سرپٹ بھاگتا ہوا کیوں دکھائی دیا۔ حیرت اس بات پر ھے کہ جب آصف علی زرداری اپنے بہت سارے “معاملات” اور “لین دین ” کی وجہ سے پی ڈی ایم کو توڑنے کے لئے کمر بستہ ہوئے تو اے این پی وہ واحد جماعت تھی جس نے بروٹس بن کر جمہوری جدوجہد اور تحریک پر وار کر دیا۔ لیکن اس سلسلے میں اے این پی ابھی تک کوئی ٹھوس اور مدلل جواز بھی فراہم نہ کر سکی کہ وہ پی ڈی ایم سے علیحدہ کیونکر ہوئی سوائے اس کے کہ سربلند تاریخ کی حامل جماعت (اےاین پی) اس آصف علی زرداری کے پیچھے چل پڑی جس نے بھٹو اور بے نظیر کی مقبول ترین پیپلزپارٹی کو اندرون سندھ کے چند ضلعوں تک محدود کر کے رکھ دیا ھے۔ رنج اور ملال تو اس بات کا ھے کہ باچا خان اور ولی خان جوانمردی اور اصول پرستی کی جو وراثت چھوڑ کر گئے تھے اس وراثت پر کارپوریٹ سیاست اور آمرانہ منڈیوں میں صبح و شام بولیاں لگنے لگی ہیں۔

پارٹی کا نام اور نسب یقینا وہی ہے جس پر تاریخ رشک کرتی ہے لیکن موجودہ اے این پی اپنے اسلاف اور سیاسی روایت کے منہ زور دریا سے اب بہت دور صرف ان “پگڈنڈیوں” کو سیراب کر نے پر لگی ہوئی ہے جس پر ق لیگ اور تحریک انصاف جیسی سیاست کی نرسریاں کاشت کی جاتی ہیں۔ یاد آیا کہ ولی خان نے آج سے تقریبا پینتیس برس قبل کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو شکست تب ہوگی جب پنجاب اپنی لیڈر شپ پیدا کر کے مزاحمت شروع کرے گا۔ آج پنجابی نواز شریف اور اس کی سیاسی اور جمہوری جدوجہد کی شکل میں ولی خان کی پیشگوئی یقینا حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی لیکن ایک رنج کے ساتھ سوچتا ہوں کہ تب ولی خان کو کیا معلوم تھا کہ جب پنجاب مزاحمت کےلئے اٹھ کھڑا ہوگا تو ولی خان کے سیاسی نظریئے اور جدوجہد کے حقیقی وارث کون بنیں گے؟ اور اس کے خونی وارث اور اپنی پارٹی کہاں کھڑے ہوں گے؟

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: