فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات، علاقائی پیش رفت و امن اقدامات پر تبادلہ خیال ایرانی صدر نے امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے خطہ میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Shehbaz Sharif says the Islamabad MoU between the United States and Iran has taken immediate effect, with Iran set to reopen the Strait of Hormuz and Washington to lift its naval blockade.
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز کی پیشی کے دوران جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ 2006 کی ٹرسٹ ڈیڈ چاہے کسی بھی فانٹ میں ہو اگر اس پر مریم نواز اور حسین نواز کے دستخط موجود ہیں چاہے وہ پچھلی تاریخوں میں بھی ہوں اسے جعلی نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ دستخط کرنے والے ان دستخطوں سے انکاری نہ ہوں۔
اگر دستخط کرنیوالے تسلیم کرتے ہیں کہ دستخط انکے ہیں تو پھر اسے جعلسازی نہیں قرار دیا جاسکتا۔
اس موقع پر مریم نواز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سچ کو ایک نہ ایک دن سامنے آنا ہی ہوتا ہے چاہے دوسرے جتنی مرضی سازشیں کرلیں اور جھوٹ بولیں انہوں نے کہا کہ جسطرح آج جج صاحبان نے نیب سے سوال کیے تو انے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس پر میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتی ہوں اور فیصلے کا انتظار کرونگی۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔