Per a new purchasing managers’ survey released by HBL and S&P, Pakistan’s manufacturing PMI rose to 50.9 in May, returning to expansion as new orders recovered and export orders posted their strongest rise since February 2025.
Pakistan’s major ports are seeing a sharp rise in container and transshipment activity as Gulf disruption redirects cargo towards Karachi, Port Qasim and Gwadar.
Iranian officials are preparing three days of farewell ceremonies and a 24-hour funeral procession for Ali Khamenei, with events expected in Tehran, Qom and Mashhad.
The EU formally commended Pakistan's Iran mediation, supported Pakistan's Kashmir position, called for action against Afghan terrorist groups and backed a two-state solution for Palestine in joint communiqué. Kallas met PM Shehbaz and Field Marshal Munir.
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
مریم نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جب انکی والدہ مرحومہ کلثوم نوازلندن میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں اور وہ انکی عیادت کیلئے لندن میں موجود تھیں تو روزانہ گھر سے ہسپتال جاتے اورواپسی پر تحریک انصاف کے کارکنان راستے میں موجود ہوتے تھے اور انکوگالی دیکر بلایا کرتے تھے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اہلیہ انکے لیے قابل احترام ہیں لیکن وہ جو عزت کا معیار اپنی اہلیہ کیلئے چاہتے ہیں وہی معیار مرحومہ کلثوم نواز اور دوسروں کی ماوں بہن بیٹیوں کیلئے بھی ہونا چاہیے نہ کہ دوسروں کی بہن بیٹیوں کی کردارکشی کی جائے۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ انکوبے گناہ ہوتے ہوئے بھی سزائے موت کی چکی میں قید رکھا گیا اور جب وہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں الیکشن کیمپین پر تھیں تو انکی کیمپین کا سیاسی طور پر تو تحریک انصاف کے پاس جواب نہیں تھا اسی لیے انکے وزرا نے انکی کردار کشی اور ذاتی حملے کیے اور اس وقت عمران خان بڑے خوش ہوتے تھے اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔
مریم نواز نے کہا کہ شہباز شریف کی بیٹی جویریہ شہباز جب اپنے والد کا ہاتھ تھام کرعدالت جایا کرتی تھیں تب انکے ساتھ جو سلوک ہوا سب نے دیکھا اور اب شہباز ثنا بچہ عاصمہ شیرازی غریدہ فاروقی کیساتھ جو کچھ کیا گیا وہ بھی سب نے دیکھا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کوئی آسمان سے اتری مخلوق نہیں کہ ان پر تنقید نہیں ہوسکتی انکے پرانی ساتھی محسن بیگ جب انکے ساتھ تھے تو وہ بہت اچھے تھے لیکن اب جب انہوں نے عمران خان پر تنقید کی تو وہ بوکھلا گئے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ اگر نیب کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت ہوتا تو اسکو اٹھا کر جج کے سامنے رکھتے اس طرح حیلوں بہانوں سے وقت نہ مانگا جاتا اور آج پھر چار ہفتے کا ٹائم مانگ لیا ہے میں ہر پیشی پر عدالت پیش ہوتی ہوں لیکن نیب کو اتنی ڈھیل نہیں دینی چاہیے اسکو چاہیے کہ اگر ثبوت ہیں تو پیش کرے ورنہ کیس کا فیصلہ کردیا جائے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔