spot_img

Columns

Columns

News

پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں پر قابو پائے، روئٹرز

پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں پر قابو پائے۔ تہران نے اضافی فنڈنگ و ہتھیاروں کا وعدہ کرتے ہوئے حوثیوں کو سعودی عرب پر حملے کی ہدایت دی۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب حوثیوں کے خلاف مشترکہ کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔ روئٹرز

Pakistan warns Iran to rein in Houthis as Saudi strikes back

Pakistan has moved on two fronts over the Houthi assault on Saudi Arabia this week: Defence Minister Khawaja Asif warning the Makkah Defence Pact could become operational, and Pakistan separately delivering a direct diplomatic warning to Iran, Reuters reports, urging Tehran to rein in the Houthis.

Apple unveils iPhone Duo, its first foldable iPhone

Apple has unveiled the iPhone Duo, its first-ever foldable iPhone, featuring a 7.6-inch display Apple calls the largest and most immersive iPhone screen ever. The launch, presided over by new CEO, starts at $1,999, with preorders opening October 16.

Trump did not object to UK’s Israel settlement sanctions

US President Donald Trump did not push back on British plans to sanction Israeli settlements when briefed by Prime Minister Andy Burnham, a Western official told The Times of Israel.

UK PM Burnham announces sanctions on Israeli settlements

British Prime Minister Andy Burnham announced a package of measures targeting Israeli settlements in the West Bank, including a trade ban, a formal declaration that the occupation is unlawful, and sanctions on individuals and companies profiting from settlement expansion, calling it a decisive break from years of British hesitancy.
Commentaryیوکرا ئن کی ایک کہانی
spot_img

یوکرا ئن کی ایک کہانی

اس کا نام لیودمیلاپاؤلی شنکو تھا۔ وہ 1916ء کو یوکرائن کے اس شہر کیف میں پیدا ہوئی جس کیف پر اس وقت آگ کی بارش برس رہی ہے۔

Hammad Hassan
Hammad Hassan
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
spot_img

روس بلا شبہ بہت طاقتور اور یوکرائن اس کے مقابلے میں کمزور ہی سہی لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ تاریخ کے بہادر ترین کرداروں میں سے ایک کردار (لڑکی) کا تعلق بھی اسی یوکرائن سے تھا جس یوکرائن کے صدر نے ناسازگار حالات اور مشکل صورتحال کے باوجود بھی حوصلہ ھارنے کی بجائے یونیفارم پہنا بندوق اٹھائی اور محاذ جنگ پر چلا گیا۔

بہر حال یوکرائن سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی کی کہانی سنیں جو تاریخ کے بھادر ترین کرداروں میں سے ایک ھے۔ اس کا نام لیودمیلاپاؤلی شنکو تھا۔ وہ 1916ء کو یوکرائن کے اس شہر کیف میں پیدا ہوئی جس کیف پر اس وقت آگ کی بارش برس رہی ہے۔

بچپن میں وہ ایک شرمیلی اور خوفزدہ سی بچی ہوا کرتی تھی۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی اس وقت یہ بات نہ تھی کہ یہ دھان پان سی اور الگ تھلگ رہنے والی لڑکی مستقبل میں ایک مضبوط ترین عورت بن کر اُبھرے گی۔ یہی خوفزدہ سی لڑکی جوں جوں جوان ہوتی گئی زمانے سے شناسائی اور انسانوں سے پہچان بھی ہوتی گئی۔ رفتہ رفتہ اس نے اپنے خوف کو طاقت اور تنہائی کو توانائی میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ 1930ء کے عشرے میں جب وہ(کیف) یونیورسٹی میں تاریخ کی طالبہ تھی تو پوری یونیورسٹی میں وہ ایک خود سر لیکن عملیت پسند لڑکی کے طور پر مشہور ہوگئی تھی۔

اس کا ایک ساتھی بہت اچھا شوٹر تھا، اور وہ ہر وقت اپنی شوٹنگ کی تعریف کرتا رہتا تھا۔ ایک دِن تنگ آکر اس نے کہا کہ اگر میں نے شوٹنگ شروع کردی تو تم تو کیا پوری تاریخ بھی یاد رکھے گی۔ ساتھی نے پاؤلی شنکو کا مذاق اُڑایا تو اس نے دوسرے دِن ایک شوٹنگ کلب میں داخلہ لیا۔ وہ تاریخ پڑھتی اور شوٹنگ سیکھتی رہی۔

اس دوران دوسری جنگِ عظیم شروع ہوگئی۔ جس میں پاؤلی شنکو کا ملک روس (تب یوکرائن روس کا حصہ تھا )ایک اہم پارٹنر کی حیثیت سے شریک تھا ایک دِن جرمن طیاروں نے اسی یونیورسٹی پر شدید بمباری کی جس میں لیودمیلا پاؤلی شنکو زیرِ تعلیم تھی۔ اس نے اسی دن فوجی ہیڈ کوارٹر جا کر اپنے شوٹنگ میڈلز دکھائے اور فوج میں شامل ہونے کی درخواست کی جسے فورًا قبول کر لیا گیا کیونکہ اس وقت روسی فوج کو آفرادی قوّت کی اشّد ضرورت تھی۔

ایک مختصر سی ٹریننگ کے بعد پاؤلی شنکو کو محاذِ جنگ پر بھیج دیا گیا، جہاں وہ دُشمن فوج(جرمنی ) کے خلاف ایک خوف ناک سنائپر(نشانہ باز) کی حیثیت سے سامنے آتی گئی۔ اس کی بندوق سے نکلی ہوئی گولیوں اور سامنے پڑی ہوئی لاشوں کی تعداد ہمیشہ یکساں ہوتی۔

اسی دوران محاذِ جنگ پر ہی اس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ شادی کرکے دُشمن کو اپنے اعصاب کی مضبوطی کا پیغام بھی دے دیا، اور اسی دوران وہ اپنے شوہر (جو خود بھی ایک سنائپر تھا) کے ساتھ محاذِ جنگ پر لڑتی رہی، پاؤلی شنکو کا نشانہ اور داؤپیچ اتنے خطرناک تھے کہ ساتھی سپاہیوں کی قلیل تعداد کے باوجود بھی اس نے دُشمن فوج کا دم خم نکال کر رکھ دیا تھا۔ اس کی ہیبت اتنی تھی کہ جرمن فوج اسے گھوسٹ سنائپر کہنے لگے، کیونکہ وہ اچانک اور غیر متوقع طور پر نمودار ہوتی اور دُشمن فوج کی لاشیں بچھاکر درختوں اور پتھروں کے بیچ غائب ہوجاتی۔

اس کی دہشت بہت بڑھی تو جرمن کمانڈروں نے ایک میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ فوج کے بہترین سنائپرز (نشانہ بازوں) کو بلا کر پاؤلی شنکو کو ہر حال میں ختم کیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت چھتیس بہترین جرمن سنائپرز کا انتخاب ہوا۔ جنہوں نے کافی تگ ودود کے بعد اس دلیر لڑکی (سپاہی) کو نرغے میں لے لیا، اس دوران ایک خوفناک لڑائی شروع ہو گئی. چند لمحوں بعد اس کا شوہر اور تمام ساتھی اس کے سامنے مارے گئے، لیکن اس نے نہ صرف خود کو بچا لیا بلکہ اپنے اعصاب پر بھی قابُو رکھا اور پھسلتی ہوئی ایک چٹان کی اوٹ میں پہنچ گئی تمام سنائپرز اسے زندہ یا مردہ تلاش کرتے رہے اور وہ چٹان کی آڑ لے کر بندوق لوڈ کرتی اور حملے کا منصوبہ بناتے ہوئے مناسب وقت کا انتظار کرتی رہی، اس دوران کئی گھنٹے گزر گئے، لیکن وہ وقت کا فائدہ لے چکی تھی۔

اب اس کی بندوق بھی تیار تھی اور حملے کا منصوبہ بھی، وہ اچانک چٹان کی اوٹ سے نمودار ہوئی اور تین درجن مخالف جرمن فوجیوں پر اکیلے حملہ کردیا۔ یہ انسانی تاریخ کی منفرد اور خوفناک لڑائی تھی۔ جس میں ایک طرف جرمن فوج کے لگ بھگ تین درجن خطرناک سنائپرز تھے، اور دوسری طرف ایک خوش شکل لیکن بہادر لڑکی، دونوں اطراف سے مسلسل بندوقیں آگ اگلتی اور گولیوں کی بارش برستی رہی کئی گھنٹے بعد یہ ”بارش“ تھم گئی تو لڑنے والے کل سینتیس سنائپرز میں سے چھتیس کی لاشیں پڑی تھیں اور یہ تمام لاشیں جرمن فوجیوں کی تھیں. جبکہ ایک سنائپر زندہ بھی تھا اور سلامت بھی اور اس کا نام تھا لیود میلا پاؤلی شنکو۔

اس کا جنگی ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس نے بحیثیت مجموعی تین سو سے زائد فوجی مارے ایک موقع پر اس نے پچھتر دن کے اندر دو سو کے قریب دُشمن فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ اسے دُنیا کے پانچ بہترین سنائپرز میں سے ایک ما نا جا تا ہے۔
دوسری جنگِ عظیم اختتام کو پہنچی تو وہ ایک مشہور سنائپر انسٹرکٹر بن کر سپاہیوں کی تربیت کرنے لگی۔ اس وقت کے امریکی صدر روزویلٹ کی بیوی ایلینا روزویلٹ میلا پاؤلی شنکو کی بہت بڑی مداح تھی اس لئے اسے امریکہ کے دورے کی دعوت دی ایلینا روز ویلٹ نے 43 شہروں میں ٹورز ارینج کیے۔ جہاں لیود میلا پاؤلی شنکو جنگ پر لیکچر دیتی رہی ۔ امریکی عوام نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ مختلف تنظیموں نے اسے دعوت دی اور اس کی بہت پزیرائی کی لیکن ایک موقع پر امریکی میڈیا نے اس کے ڈریسز اور میک اپ کا مذاق اُڑایا، تو لیود میلا پاؤلی شنکو نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں ایک فوجی سپاہی ہوں اور فوج میں آپ کا کام دیکھا جاتا ہے، میک اپ اور کپڑے نہیں۔

امریکہ سے واپس آئی تو اپنے آبائی قصبے میں گمنام ریٹائر ڈ زندگی گزارنے لگی۔ 27 اکتوبر1976ء کی ایک سرد شام کو تاریخ کی اس بہادر ترین خاتون نے اپنی شاندار زندگی کی آخری سانس لی۔
کہنا یہی ھے کہ یوکرائن روس کے مقابلے میں بے شک کمزور ہی سہی لیکن اس کا ٹریک ریکارڈ تو لیود میلا پاولی شنکو ہی سے ملتا ھے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.