spot_img

Columns

Columns

News

Trump says Iran deal could come this weekend

Trump says US-Iran negotiations are going very well and a deal could come this weekend, while cautioning it might not happen. Talks back on track.

Pakistan manufacturing returns to growth as export orders hit 15-month high

Per a new purchasing managers’ survey released by HBL and S&P, Pakistan’s manufacturing PMI rose to 50.9 in May, returning to expansion as new orders recovered and export orders posted their strongest rise since February 2025.

Pakistan’s ports see sharp container surge as Gulf disruption shifts cargo routes

Pakistan’s major ports are seeing a sharp rise in container and transshipment activity as Gulf disruption redirects cargo towards Karachi, Port Qasim and Gwadar.

Iran prepares three-day farewell ceremonies and 24-hour funeral procession for Ali Khamenei

Iranian officials are preparing three days of farewell ceremonies and a 24-hour funeral procession for Ali Khamenei, with events expected in Tehran, Qom and Mashhad.

EU formally commends Pakistan’s Iran mediation as Kallas visits Islamabad

The EU formally commended Pakistan's Iran mediation, supported Pakistan's Kashmir position, called for action against Afghan terrorist groups and backed a two-state solution for Palestine in joint communiqué. Kallas met PM Shehbaz and Field Marshal Munir.
Commentaryیوکرا ئن کی ایک کہانی
spot_img

یوکرا ئن کی ایک کہانی

اس کا نام لیودمیلاپاؤلی شنکو تھا۔ وہ 1916ء کو یوکرائن کے اس شہر کیف میں پیدا ہوئی جس کیف پر اس وقت آگ کی بارش برس رہی ہے۔

Hammad Hassan
Hammad Hassan
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
spot_img

روس بلا شبہ بہت طاقتور اور یوکرائن اس کے مقابلے میں کمزور ہی سہی لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ تاریخ کے بہادر ترین کرداروں میں سے ایک کردار (لڑکی) کا تعلق بھی اسی یوکرائن سے تھا جس یوکرائن کے صدر نے ناسازگار حالات اور مشکل صورتحال کے باوجود بھی حوصلہ ھارنے کی بجائے یونیفارم پہنا بندوق اٹھائی اور محاذ جنگ پر چلا گیا۔

بہر حال یوکرائن سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی کی کہانی سنیں جو تاریخ کے بھادر ترین کرداروں میں سے ایک ھے۔ اس کا نام لیودمیلاپاؤلی شنکو تھا۔ وہ 1916ء کو یوکرائن کے اس شہر کیف میں پیدا ہوئی جس کیف پر اس وقت آگ کی بارش برس رہی ہے۔

بچپن میں وہ ایک شرمیلی اور خوفزدہ سی بچی ہوا کرتی تھی۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی اس وقت یہ بات نہ تھی کہ یہ دھان پان سی اور الگ تھلگ رہنے والی لڑکی مستقبل میں ایک مضبوط ترین عورت بن کر اُبھرے گی۔ یہی خوفزدہ سی لڑکی جوں جوں جوان ہوتی گئی زمانے سے شناسائی اور انسانوں سے پہچان بھی ہوتی گئی۔ رفتہ رفتہ اس نے اپنے خوف کو طاقت اور تنہائی کو توانائی میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ 1930ء کے عشرے میں جب وہ(کیف) یونیورسٹی میں تاریخ کی طالبہ تھی تو پوری یونیورسٹی میں وہ ایک خود سر لیکن عملیت پسند لڑکی کے طور پر مشہور ہوگئی تھی۔

اس کا ایک ساتھی بہت اچھا شوٹر تھا، اور وہ ہر وقت اپنی شوٹنگ کی تعریف کرتا رہتا تھا۔ ایک دِن تنگ آکر اس نے کہا کہ اگر میں نے شوٹنگ شروع کردی تو تم تو کیا پوری تاریخ بھی یاد رکھے گی۔ ساتھی نے پاؤلی شنکو کا مذاق اُڑایا تو اس نے دوسرے دِن ایک شوٹنگ کلب میں داخلہ لیا۔ وہ تاریخ پڑھتی اور شوٹنگ سیکھتی رہی۔

اس دوران دوسری جنگِ عظیم شروع ہوگئی۔ جس میں پاؤلی شنکو کا ملک روس (تب یوکرائن روس کا حصہ تھا )ایک اہم پارٹنر کی حیثیت سے شریک تھا ایک دِن جرمن طیاروں نے اسی یونیورسٹی پر شدید بمباری کی جس میں لیودمیلا پاؤلی شنکو زیرِ تعلیم تھی۔ اس نے اسی دن فوجی ہیڈ کوارٹر جا کر اپنے شوٹنگ میڈلز دکھائے اور فوج میں شامل ہونے کی درخواست کی جسے فورًا قبول کر لیا گیا کیونکہ اس وقت روسی فوج کو آفرادی قوّت کی اشّد ضرورت تھی۔

ایک مختصر سی ٹریننگ کے بعد پاؤلی شنکو کو محاذِ جنگ پر بھیج دیا گیا، جہاں وہ دُشمن فوج(جرمنی ) کے خلاف ایک خوف ناک سنائپر(نشانہ باز) کی حیثیت سے سامنے آتی گئی۔ اس کی بندوق سے نکلی ہوئی گولیوں اور سامنے پڑی ہوئی لاشوں کی تعداد ہمیشہ یکساں ہوتی۔

اسی دوران محاذِ جنگ پر ہی اس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ شادی کرکے دُشمن کو اپنے اعصاب کی مضبوطی کا پیغام بھی دے دیا، اور اسی دوران وہ اپنے شوہر (جو خود بھی ایک سنائپر تھا) کے ساتھ محاذِ جنگ پر لڑتی رہی، پاؤلی شنکو کا نشانہ اور داؤپیچ اتنے خطرناک تھے کہ ساتھی سپاہیوں کی قلیل تعداد کے باوجود بھی اس نے دُشمن فوج کا دم خم نکال کر رکھ دیا تھا۔ اس کی ہیبت اتنی تھی کہ جرمن فوج اسے گھوسٹ سنائپر کہنے لگے، کیونکہ وہ اچانک اور غیر متوقع طور پر نمودار ہوتی اور دُشمن فوج کی لاشیں بچھاکر درختوں اور پتھروں کے بیچ غائب ہوجاتی۔

اس کی دہشت بہت بڑھی تو جرمن کمانڈروں نے ایک میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ فوج کے بہترین سنائپرز (نشانہ بازوں) کو بلا کر پاؤلی شنکو کو ہر حال میں ختم کیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت چھتیس بہترین جرمن سنائپرز کا انتخاب ہوا۔ جنہوں نے کافی تگ ودود کے بعد اس دلیر لڑکی (سپاہی) کو نرغے میں لے لیا، اس دوران ایک خوفناک لڑائی شروع ہو گئی. چند لمحوں بعد اس کا شوہر اور تمام ساتھی اس کے سامنے مارے گئے، لیکن اس نے نہ صرف خود کو بچا لیا بلکہ اپنے اعصاب پر بھی قابُو رکھا اور پھسلتی ہوئی ایک چٹان کی اوٹ میں پہنچ گئی تمام سنائپرز اسے زندہ یا مردہ تلاش کرتے رہے اور وہ چٹان کی آڑ لے کر بندوق لوڈ کرتی اور حملے کا منصوبہ بناتے ہوئے مناسب وقت کا انتظار کرتی رہی، اس دوران کئی گھنٹے گزر گئے، لیکن وہ وقت کا فائدہ لے چکی تھی۔

اب اس کی بندوق بھی تیار تھی اور حملے کا منصوبہ بھی، وہ اچانک چٹان کی اوٹ سے نمودار ہوئی اور تین درجن مخالف جرمن فوجیوں پر اکیلے حملہ کردیا۔ یہ انسانی تاریخ کی منفرد اور خوفناک لڑائی تھی۔ جس میں ایک طرف جرمن فوج کے لگ بھگ تین درجن خطرناک سنائپرز تھے، اور دوسری طرف ایک خوش شکل لیکن بہادر لڑکی، دونوں اطراف سے مسلسل بندوقیں آگ اگلتی اور گولیوں کی بارش برستی رہی کئی گھنٹے بعد یہ ”بارش“ تھم گئی تو لڑنے والے کل سینتیس سنائپرز میں سے چھتیس کی لاشیں پڑی تھیں اور یہ تمام لاشیں جرمن فوجیوں کی تھیں. جبکہ ایک سنائپر زندہ بھی تھا اور سلامت بھی اور اس کا نام تھا لیود میلا پاؤلی شنکو۔

اس کا جنگی ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس نے بحیثیت مجموعی تین سو سے زائد فوجی مارے ایک موقع پر اس نے پچھتر دن کے اندر دو سو کے قریب دُشمن فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ اسے دُنیا کے پانچ بہترین سنائپرز میں سے ایک ما نا جا تا ہے۔
دوسری جنگِ عظیم اختتام کو پہنچی تو وہ ایک مشہور سنائپر انسٹرکٹر بن کر سپاہیوں کی تربیت کرنے لگی۔ اس وقت کے امریکی صدر روزویلٹ کی بیوی ایلینا روزویلٹ میلا پاؤلی شنکو کی بہت بڑی مداح تھی اس لئے اسے امریکہ کے دورے کی دعوت دی ایلینا روز ویلٹ نے 43 شہروں میں ٹورز ارینج کیے۔ جہاں لیود میلا پاؤلی شنکو جنگ پر لیکچر دیتی رہی ۔ امریکی عوام نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ مختلف تنظیموں نے اسے دعوت دی اور اس کی بہت پزیرائی کی لیکن ایک موقع پر امریکی میڈیا نے اس کے ڈریسز اور میک اپ کا مذاق اُڑایا، تو لیود میلا پاؤلی شنکو نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں ایک فوجی سپاہی ہوں اور فوج میں آپ کا کام دیکھا جاتا ہے، میک اپ اور کپڑے نہیں۔

امریکہ سے واپس آئی تو اپنے آبائی قصبے میں گمنام ریٹائر ڈ زندگی گزارنے لگی۔ 27 اکتوبر1976ء کی ایک سرد شام کو تاریخ کی اس بہادر ترین خاتون نے اپنی شاندار زندگی کی آخری سانس لی۔
کہنا یہی ھے کہ یوکرائن روس کے مقابلے میں بے شک کمزور ہی سہی لیکن اس کا ٹریک ریکارڈ تو لیود میلا پاولی شنکو ہی سے ملتا ھے۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.