spot_img

Columns

Columns

News

قرآن کی قسم کھاتا ہوں کہ امریکہ کے ساتھ مل کر سازش کرنے کے الزامات جھوٹے ہیں، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

قرآن کی قسم کھاتا ہوں کہ نواز شریف کو ملک سے باہر بھجوانے میں میرا کوئی کردار نہیں تھا، عمران خان حکومت گرانے کیلئے امریکہ کے ساتھ مل کر سازش کے الزامات جھوٹے ہیں، میں نے ایکسٹینشن کیلئے کسی کو مجبور نہیں کیا تھا، اگر میں غلط بیانی کروں تو رسول اللّٰهﷺ کی شفاعت بھی نصیب نہ ہو۔

عمران خان اپنے ارادوں میں کامیاب ہو جاتا تو ہم سب آج قبروں میں ہوتے، رانا ثناء اللّٰہ

اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو غیر مستحکم کیا، عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اپوزیشن کو ختم کر دینا چاہتا تھا، مسلم لیگ (ن) کو سادہ اکثریت ملتی تو حکومت نواز شریف کی لیڈرشپ میں بنتی، پاکستان کیلئے نواز شریف، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کو مل کر بیٹھنا ہو گا۔

ضمنی انتخابات؛ مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا

ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے فتح سمیٹ لی، حکمراں جماعت قومی اسمبلی کی 2 جبکہ پنجاب اسمبلی کی 7 نشستوں پر کامیاب، مسلم لیگ (ق) اور استحکامِ پاکستان پارٹی صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست پر کامیاب۔

امریکہ کا فلسطین کے خلاف ویٹو استعمال کرنا مایوس کن، افسوسناک اور شرمناک ہے، فلسطینی صدر محمود عباس

اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے خلاف امریکی ویٹو شرمناک اور بلاجواز ہے، امریکی ویٹو فلسطینیوں کے حقوق، تاریخ، زمین اور مقدسات کیخلاف صریح جارحیت ہے، فلسطینی قیادت امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کرے گی۔

بتایا جائے کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کی اسمبلیاں کتنے میں خریدی گئیں؟ مولانا فضل الرحمٰن

الیکشن 2018 سے بڑی دھاندلی ہوئی ہے، ہم جعلی حکومت کو نہیں چلنے دیں گے، بتایا جائے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کی اسمبلیاں کتنے میں خریدی گئیں؟ پاکستان کو سیکولر سٹیٹ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، کوئی ہماری تحریک روک نہیں سکتا۔
Opinionفاتح — پارٹ ٹو
spot_img

فاتح — پارٹ ٹو

قافلہ اپنے سفرپر رواں تھا کہ اچانک گرد و غبار کے بیچ خلیفہ کو دور کہیں ایک تختی نظر آئی جس پر منزل کا پتہ لکھا تھا تختی کے قریب پہنچ کر مجاہدین نے سپہ سلار کو آگاہ کیا کہ اس پر لکھا ہے "سوئٹرزلینڈ ۔ دو کلو میٹر" مرد آہن نے خلیفہ کاہاتھ دبایا اور دائیں آنکھ کو بھینچ کر بلند آواز "مرد مومن - مرد حق" کا نعرہ بلند کر دیا۔

Ammar Masood
Ammar Masood
Ammar Masood is the chief editor of WE News.
spot_img

سنگلاخ چٹانوں  کے وسط میں جہاں نہ آبادی کا کوئی نشاں تھا ، نہ زندگی کے کوئی آثار، گھپ اندھیرے میں تنکوں سے بنی ایک متروک سی جھونپڑی عجب نور سے جگمگا رہی تھی۔ کہنے والے کہتے ہیں روشنی کسی برقی قمقمے کی نہیں تھی بلکہ جھونپڑی کا احاطہ ایمان کی روشنی سے منور تھا۔ زمستانی ہوا کسی بھی ذی روح کو برفاب کر دیتی مگر چشم فلک نے پریشاں نگاہوں سے یہ حیران نظارہ  دیکھا کہ جھونپڑی میں ایک مرد مجاہد لباس کے نام پر قریبا تہمت پہنے نہایت عرق ریزی سے برادر اسلامی ملک کے نقشے پھیلائے ایک نئی جنگی حکمت عملی سوچنے میں مگن تھا۔ قریب ہی جھونپڑی کے ننگے فرش پر دو ننھے بچے سخت موسمی حالات کے باوجود ایک بوسیدہ چٹائی پر گہری نیند سو رہے تھے۔ اس مرد حر کو نہ موسم کی سختیوں کی پرواہ تھی، نہ دشوار گزار رستوں کی فکر، نہ جان کا اس کو خوف تھا نہ اولاد کی پرواہ۔ بس یہی دھن کسی طرح برادر اسلامی ملک میں ایک عظیم عالمی جہاد کو منظم کیا جائے، کفر کی قوتوں کو ناکوں چنے چبوائے جائیں، ایمانی طاقت سےسامراج کو شکست فاش دی جائے چاہے اس کے لیے امریکہ سے بوریاں بھر بھر کر ڈالر ہی کیوں نہ لینے پڑیں۔

چند لوگوں پر مشتمل یہ قافلہ جہاد پر روانہ تھا۔ جھونپڑی عارضی قیام گاہ تھی، سفر دور کا درپیش تھا۔ قافلے والوں کو بس یہی ترنگ تھی کی کہ کسی طرح جلد از جلد منزل پر پہنچ جائیں۔ انصار اور مہاجر کے معاملات شیر و شکر ہو جائیں۔ اہل وطن ان کے لیے دل کے دروازے کھول دیں۔ برادر اسلامی ملک ان کے لیے خندقیں کھود دے اور امریکہ ان کے لیے تجوریوں کے دروازے  کھول دے۔ اس مرد آہن کو کیا خبر تھی کہ جن راستوں کو کھولنے کے لیے انھوں نے قریہ قریہ چندے کی صندوقچیاں رکھوائیں، اسلامی ممالک سے امداد اکھٹی کی ، امریکہ کی امداد کو مونگ پھلی کہہ کر ٹھکرایا، انھیں راستوں پر باڑ لگانے کے لیے آنے والی نسلیں قریہ قریہ چندے کی صندوقچیاں رکھوائیں  گی، اسلامی ممالک سے امداد  کی طلب گار ہوں گی، امریکہ کی امداد کے لیے خواست گزار ہوں گی۔ خیر یہ جملہ معترضہ ہے اس کا مرد آہن کے جذبہ جنون وجہاد سے کوئی تعلق نہیں۔

سنگلاخ پہاڑوں پر اب برفباری شروع ہو گئی تھی۔ موسم کی سختی سے اس مرد درویش کے عزم صمیم میں رتی بھر فرق نہیں پڑا۔ کئی مہینے کھانے کھائے  بنا گزر گئے تھے۔ قافلے میں موجود مرد مجاہد کی نرینہ اولاد  نے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے، سپہ سالار خود خوارک کی کمی سے سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا۔ مجاہدین قافلہ نے بارہا استدعا کی کہ “حضور کچھ تناول فرما لیں ۔ آپ کی زندگی ہو گی تو جہاد ہو گا ” جاںثاران نے سوکھی روٹی کلاشنکوف  کے بٹ پر رکھ کر پیش کی مگر جیسے ہی اس دانائے راز نے سوکھی روٹی کا ٹکڑا منہ میں رکھا، آنکھ پرنم ہو گئی، ہچکی بندھ گئی، فرمانے لگے روٹی کا ایک ایک ٹکڑا اور گندم کا ایک ایک خوشہ مجاہدین کا حق ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مجاہدین اسلام اتنی بڑی قوت سے بھوکے پیاسے لڑیں اور میں یہاں جسم و جان کا ناطہ برقرار رکھنے کے لیے یہ دو ٹکڑے کھا لوں، یہ کہنا تھا کہ اس مرد درویشں نے زاد راہ کی پوٹلی کو کاندھے پر ڈالا اورعازم سفر ہوگیا۔ بھوک پیاس سے بچوں کی حالت بہت نازک ہو رہی تھی، ایک نرم خو مجاہد نے جس کی مسیں بھی ابھی نہیں بھیگی تھیں سپاہ سالار سے نظر بچا کر ایک بچے کو بچی کچھی “پیپسی” کے چند گھونٹ دیے جس سے غریب کی تن لاغر  میں جان آئی۔

قافلے کا سفر رکنے میں نہیں آتا تھا، سپہ سالار کے قدم تھمنے میں نہیں آ رہے تھے۔ ایک عزم ان کو رواں رکھے ہوئے تھا۔ منزل ان کی ایک نئی سرزمین  تھی، جہاں اصلی جہاد ہونا تھا، فاصلہ بہت تھا، رستہ دشوار گزار اور موسم سخت ۔ مگر کسی کو اس کی پرواہ نہیں تھی، بس یہی دھن تھی کہ منزل کی ایک جھلک جلد از جلد نصیب ہوجائے۔ جذبہ ایمانی سے لبریز، نعرہ تکبیر کی صدا بلند کرتے،  منزلوں پر منزلیں مارتا، قافلہ آگے بڑھتا جا رہا تھا۔

اس مرد حر نے تو کبھی ذکر نہیں کیا مگر “خلیفہ” نے نامعلوم ذرائع سے اکثر یہ خبر دی کہ کہ سپاہ سالار نے اپنا تن من دھن سب کچھ جہاد کے لیے تیاگ دیا، لباس میں صرف دھوتی کرتا ہوتا تھا۔ جہاد کی دھن میں مگن  اگر کسی نے عین لڑائی کے درمیان  پھل پیش کیے تو پہلے گودا مجاہدین کو پیش کیا اور پھر خود چھلکے اور بیج کھا کر جسم جاں کا سلسلہ برقرار رکھا۔ کسی مجاہد نے پانی پیش کیا تو ایک گھونٹ سے ہی پہلے غسل کیا پھروضو فرمایا اور باقی چند قطرے لاغرننھے مجاہدین کے منہ میں ٹپکا دیئے، کسی نے سگریٹ پیش کیا تو اسے صندقچے میں رکھ دیا کہ یہ میرے مجاہد بھائیوں کی امانت ہے۔ صندوقچوں سے جو چندہ آتا، امریکہ سے جو ڈالروں کی بوریاں آتیں یا اقوام اسلامیہ سے جو نقرئی امداد آتی اس پر خود راتوں کو جاگ جاگ کر پہرہ دیتے کہ کہیں اس فانی دولت کی چکا چوند سے کسی مجاہد کے دل میں میل نہ آجائے۔ خلیفہ نے اپنی تاریخی تحریر میں ذکر کیا کہ نہ خرافات دنیوی کی اس کو کوئی پرواہ تھی نہ دولت کے انبار اس کو متاثر کرتے تھے بس ایک جذبہ جہاد تھا جو دل میں سما رکھا تھا، ہر لمحے اس کوشش میں رہتے کہ کوئی جنگی حکمت عملی ایسی ہاتھ لگے کہ خون ناحق کا خراج وصول ہو، ملت اسلامیہ کے لہو لہو جسد پر مرہم رکھا جائے، دشمن  کو شکست عبرت ناک دی جائے۔

قافلہ اپنے سفرپر رواں تھا کہ اچانک مجاہدین کو دور کہیں سنہری سرزمیں نظر آئی، یہ وہ سرزمین تھی جہاں مظلوم کے خون کا حساب ہونا تھا، جہاں ظلم کی قیمت چکانی تھی، جہاں شجاعت  کا عملی امتحان ہونا تھا، جہان اصل جنگی حکمت عملی مظاہرہ ہونا تھا،  گرد و غبار کے بیچ خلیفہ کو دور کہیں ایک تختی نظر آئی جس پر منزل کا پتہ لکھا تھا، مجاہدین حر کی رفتار، برق رفتار ہو گئی۔ منزل قریب تھی اور شوق بے پناہ تھا۔ تختی کے قریب پہنچ کر مجاہدین نے سپہ سلار کو آگاہ کیا کہ اس پر لکھا ہے “سوئٹرزلینڈ ۔ دو کلو میٹر” خلیفہ نے حیرت سے سپہ سالار کی جانب دیکھا  اور سوال کیا ۔ یا شیخ یہ کیا بوالعجی؟ مرد آہن نے خلیفہ  کاہاتھ دبایا اور دائیں آنکھ کو بھینچ کر بلند آواز  “مرد مومن – مرد حق” کا نعرہ بلند کر دیا۔ خلیفہ نے معاملے کی گہرائی کو سمجھ کر بظاہر تو سکوت اختیار کیا البتہ زیرلب حضرت اقبال کا یہ مصرع  گنگنایا کہ “یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے۔”

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: