فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات، علاقائی پیش رفت و امن اقدامات پر تبادلہ خیال ایرانی صدر نے امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے خطہ میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Shehbaz Sharif says the Islamabad MoU between the United States and Iran has taken immediate effect, with Iran set to reopen the Strait of Hormuz and Washington to lift its naval blockade.
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 23 مارچ کو پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد والے دن پارلیمنٹ ہاوس کے دروازے سے لیکر شارع دستور پر تاریخ کا عظیم الشان مظاہرہ ہوگا جس میں پارلیمنٹ کے تمام اراکین کو بحفاظت ایوان تک پہنچنے اور اپنا ووٹ استعمال کرنے کو مکمل کور مہیا کیا جائیگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 23 مارچ کا لانگ مارچ جب اسلام آباد پہنچے گا تو وہ کتنے دن رکے گا اسکا فیصلہ ہم تب کرینگے اس موقع پر انہوں نے مارچ میں شامل ہونے والوں کو کہا کہ وہ تیار رہیں کیونکہ عدم اعتماد تک وہ اسلام آباد میں ہی رہینگے انہوں نے اس موقع پر پیپلز پارٹی عوامی نیشنل پارٹی اور این ڈی ایم کو شرکت کی دعوت بھی دی۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہم بہت کچھ کرنے جارہے ہیں انکو چھٹی کا دودھ یاد دلا دینگے اب ڈنڈے کا جواب ڈنڈے سے پتھر کا جواب پتھر سے دیا جائیگا انہوں نے کہا کہ جو زبان حکومت کیجانب سے استعمال کی جارہی ہے اس زبان کو خاموش کرنا ہے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔