spot_img

Columns

Columns

News

Islamabad moves toward provincial-style self-governance

Pakistan's federal capital is moving closer to genuine self-governance, with a high-level committee submitting a framework to PM Shehbaz Sharif that would give Islamabad its own elected assembly, its own chief executive, and administrative and financial autonomy on the pattern of a province.

Elon Musk tops Forbes’ richest people list

Elon Musk remains the world's richest person by a wide margin, with a fortune of $908.2 billion, according to Forbes' Real-Time Billionaires list. His nearest rival, Google co-founder Larry Page, trails by more than $630 billion, while Michael Dell has climbed into fourth place.

پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی غزہ پٹی سے فلسطینیوں کی جبری بےدخلی سے متعلق اسرائیلی وزراء کے بیانات کی شدید مذمت

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت 8 اسلامی ممالک کی اسرائیلی وزراء کی جانب سے غزہ پٹی سے فلسطینیوں کی جبری بےدخلی سے متعلق بیانات کی شدید مذمت؛ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور خطہ میں امن و استحکام کی بین الاقوامی کوششوں کیلئے سنگین خطرہ قرار دے دیا۔

Pakistan among eight nations condemning Israeli Gaza displacement remarks

Pakistan joined Egypt, Indonesia, Jordan, Qatar, Saudi Arabia, Türkiye, and the UAE in condemning remarks by Israeli ministers Ben-Gvir and Katz on displacing Palestinians from Gaza, calling the proposals a violation of international law and a threat to Trump's plan to end the Gaza conflict.

نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، نئے انتظامی یونٹس بنیں گے، اسلام آباد صوبہ بننا چاہیے، وزیرِ داخلہ محسن نقوی

نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، موجودہ انتظامی ڈھانچہ اپنی افادیت کھو چکا۔ عوامی حمایت سے انتظامی یونٹس ضرور بنیں گے، کسی کو جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسلام آباد الگ صوبہ بننا چاہیے۔ میں نوکری پر رہوں یا نہیں، لیکن پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی
Newsroomگیم از اوور، مریم نواز
spot_img

گیم از اوور، مریم نواز

جس نواز شریف کو کہتے تھے اسکی سیاست ختم ہوگئی ہے وہ نواز شریف جسکو آپ نے جیل میں ڈالا اسکی بیٹی کو جیل میں ڈالا اسکی پوری جماعت کو جیلوں میں ڈالا وہی نواز شریف آج لندن میں بیٹھ کر آپکو آپکے گھر میں گھس کر مار رہا ہے

TT Staff Reporter
TT Staff Reporter
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
spot_img

مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی نیوٹرل ہونے کی بات کررہا ہے تو یہ اچھی بات ہے اس پر کسی کو سیخ پا ہونے اورتڑپنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو میرا پیغام ہے کہ اب آپکی بلند ہوتی ہوئی چیخیں کسی کام نہیں آئینگی آپ کو اب بچانے کوئی نہیں آئیگا دی گیم از اوور۔

انہوں نے کہا کہ آج اگر انکے لیے کوئی گنتی پوری کرنےکو تیار نہیں تو یہ انکو جانور کہنا شروع ہوگئے ہیں گنتی تو انکی بھی پوری نہیں تھی نہ 2018 میں نہ گلگت بلتستان نہ آزاد کشمیر نہ سینٹ الیکشن میں پوری تھی یہ چاہتے ہیں انکے مخالفین کو جیل میں ڈالا جائےسزائے موت کی چکیوں میں رکھا جائے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ صرف ایک لفظ نیوٹرل نے انکی 22سالہ جدوجہد انکی پوری جماعت دھڑام سے زمین پر آگری ہے اور انکی پوری جماعت کا جیسے شیرازہ بکھرا ہے ایسا تو کبھی کسی تانگہ پارٹی کا نہیں ہوا۔

اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ دس بندے ان سے اپنے پورے نہیں ہورہے اور چلے ہیں یہ دس لاکھ بندے لانے سیدھی سی بات ہے اپنے دس بندے پورے کرلو آپکو دس لاکھ لوگ لانے کی مشقت نہیں کرنا پڑیگی وزیراعظم کی کرسی پر موجود ہونے کے باجود انکی جماعت ریت کیطرح انکے ہاتھ سے کھسکتی جارہی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ جس نواز شریف کو کہتے تھے اسکی سیاست ختم ہوگئی ہے وہ نواز شریف جسکو آپ نے جیل میں ڈالا اسکی بیٹی کو جیل میں ڈالا اسکی پوری جماعت کو جیلوں میں ڈالا وہی نواز شریف آج لندن میں بیٹھ کر آپکو آپکے گھر میں گھس کر مار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان آپ کسی سازش کا شکار نہیں ہوئے بالکہ مکافات عمل کا شکار ہیں آپ غرور تکبربڑے بولوں کا شکار ہوئے ہیں جو عبرت کا نشان آپ آج بنے ہوئے ہیں تو وہ وقت یاد آتا ہے جب ہزارہ برادری کوئٹہ میں اپنے پیاروں کی لاشیں رکھ کر بیٹھے آپکو بلارہے تھے اور آپ نے انکار کردیا تھا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ انکی خارجہ پالیسی کا حال یہ ہے کہ بیرونی ممالک سے دیے گئے تحائف یہ جاکر بیچ آتے ہیں آج یہ انٹرنیشنل سازش کی باتیں کرتے ہیں تو بتائیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک بائیڈن کی کال کا انتظار کررہے تھے کوششیں کررہے تھے اور جب کال نہیں آئی تو انکو سازش یاد آگئی۔

آج یہ کہتے ہیں امر بالمعروف تو بتائیں یہ کونسی نیکی اچھائی کا حکم دے رہے ہیں کیا آٹے سبزیوں چینی دالوں تیل پٹرول دوائیوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں کیا عوام اس اچھائی میں آپکا ساتھ دیں۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنے حلف میں خاتم النبیین نہ بول سکے جو صلی اللہ علیہ وسلم نہ کہہ سکے جو روحانیت کو رحونیت کہے وہ بلاول کی اردو پر باتیں کرتا ہے انکی نکلیں اتارتا ہے کس منہ سے وہ ان پر تنقید کرتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ بطور ایک ماں پاکستانی ماوں سے درخواست ہے کہ ایک شخص جسکا ذہنی توازن خراب ہے وہ اگر ٹی وی پر آکر بدتمیزی کرتا ہے اور بدتمیزی کی ترغیب دیتا ہے تو اپنے بچوں کو وہاں سے اٹھا دیا کریں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچوں میں یہ کلچر سرائیت کرے۔

مریم نواز نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو پیغام ہے کہ ایسا شخص جو ہار چکا ہے اور پاکستانی عوام کے نشانہ پر ہے اسکے احکامات بجا نہ لائیں اس تمام آئینی قانونی عمل میں مداخلت نہ کریں ورنہ اسکے نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہیں۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.