فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات، علاقائی پیش رفت و امن اقدامات پر تبادلہ خیال ایرانی صدر نے امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے خطہ میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Shehbaz Sharif says the Islamabad MoU between the United States and Iran has taken immediate effect, with Iran set to reopen the Strait of Hormuz and Washington to lift its naval blockade.
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
حکومت نے اپوزیشن اراکین کو پارلیمنٹ لاجز میں روکنے کا منصوبہ بنا لیا ذرائع کیمابق تحریک عدم اعتماد کے موقع پروزیراعظم آفس متحرک ہوگیا ہے وزیراعظم آفس کے اہم افسر کی جانب سے اسلام آؓباد پولیس کو خصوصی احکامات جاری کردی گئی ہیں کہ ریڈ زون میں آنے والے تمام راستے بند کردیے جائیں۔
وزیراعظم آفس کیجانب سے اپوزیشن اور انکے حمایت یافتہ ایم این ایز کے پارلیمنٹ میں داخلے کیلئے تاخیری حربے استعمال کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں ذرائع کیمطابق پولیس کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو ڈی چوک سے اندر ریڈ زون میں آنے دیا جائے۔
سینئیر صحافی حامد میر کیمطابق وفاقی حکومت حکومت اور تحریک انصاف کی لیڈرشپ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اتوار کوعدم اعتماد والے دن اپوزیشن اراکین کو پارلیمنٹ لاجز میں روکا جائیگا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کل اپوزیشن کے ارکان کو پارلیمنٹ کے لاجز سے نکلنے ہی نہ دیا جائے اور نہ انکو اسمبلی میں داخل ہونے دیا جائے اور اگر وہ اسمبلی پہنچ جائیں تو انکے ساتھ مار دھاڑ کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کو سیکیورٹی اداروں کیطرف سے بتا دیا گیا ہے کہ جو وہ سازش سازش کرتے پھر رہے ہیں اس پر نہ اندرون ملک اور نہ بیرون ملک کوئی ثبوت ملا ہے اور اگر انکے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ انکو دیے جائیں لیکن وزیراعظم نے ایسا کوئی ثبوت نہیں دیا۔
انکا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت نے کل پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جو ہنگامہ آرائی کا منصوبہ بنایا ہے اسکے ناقابل تردید شواہد مل چکے ہیں لیکن فی الحال کل کے روز تک کسی کاروائی کو موخر کردیا گیا ہے اور جو شواہد سامنے آئیں ہیں انکی روشنی میں کچھ اہم لوگوں کیخلاف کاروائی ہو گی اور ان ثبوبت کو سامنے لایا جائے گا اور پوری قوم وہ ثبوت دیکھے گی۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔