فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات، علاقائی پیش رفت و امن اقدامات پر تبادلہ خیال ایرانی صدر نے امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے خطہ میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Shehbaz Sharif says the Islamabad MoU between the United States and Iran has taken immediate effect, with Iran set to reopen the Strait of Hormuz and Washington to lift its naval blockade.
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے سیلاب زدگان کی امداد کے سلسلہ میں قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان سے انتہائی تکلیف دہ مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جنکودیکھ کر دل بہت رنجیدہ ہے انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے سلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے سیلاب زدگان کی امداد کے سلسلہ میں قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہرکھا ہے جسکی وجہ سے ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں لاتعداد لوگ بے گھر ہوچکے ہیں لاکھوں ایکٹرپر محیط فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔
میاں نواز شریف نے کہا کہ بلاشبہ یہ قدرتی آفت ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ یہ وقت اپنے گریبان میں جھانکنے کا بھی ہے یہ توبہ کی بھی گھڑی ہے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اہمارے اپنے اعمال لغزشیں تو اسکی ذمہ دار تو نہیں یہ اپنے اعمال کا بھرپور جائزہ لینے کا بھی وقت ہے۔
ن لیگی قائد نے اس موقع پرتمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد تمام مخیر افراد مسلم لیگ ن کے تمام ممبران اسمبلی عہدیداران اور کارکنان سمیت دیگر تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس مشکل گھڑی میں اپنی تمام سیاسی اور دوسری مصروفیات کو ایک طرف رکھ کر اپنی تمام توانائیاں متاثرین کی مدد کیلئے وقف کردیں۔
میاں نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ یہ وقت کوئی اور کام کرنے کا نہیں یہ وقت سیلاب سے متاثرین کی دل کھول کر امداد کرنے کا ہے انکے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت ہے انکی آنکھیں آپ کی امداد کی منتظر ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ اس موقع ہر شہباز شریف صاحب کو شاباش دیتا ہوں کہ وہ سیلاب متاثرین کی امداد کرنے کیلئے بھرپور توجہ اور انکو ریلیف دینے کیلئے اپنا فرض ادا کررہے ہیں۔
میاں نواز شریف نے مزید کہا کہ مریم نواز سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کرنے جارہی ہیں امدادی کاموں کی نگرانی اور متاثرین کی مزاج پرسی کرینگی شہباز شریف اور مریم نواز قوم کیساتھ مل کر دکھی انسانیت کا ہاتھ تھامیں گے۔
آخر میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ موقع ہے کہ ہم مشکل میں گھرے بہن بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑیں تاکہ روز محشر اپنے رب کے حضور سرخرو ہوسکیں۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔