The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
آئی ایم ایف رپورٹ تحریک انصاف حکومت کیخلاف کھلی چارج شیٹ ہے، اسحاق ڈار
پاکستان کی تاریخ میں میں آئی ایم ایف کا پروگرام صرف ایک مرتبہ کامیابی سے مکمل ہوا جو میاں نواز شریف کی آخری حکومت میں بطور وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کیا تھا
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ تحریک انصاف کی پچھلی حکومت کیخلاف کھلی چارج شیٹ ہے انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف حکومت نے دیکھا کہ حکومت جانے والی ہے تو انہوں نے جلدی میں ایسے کام کیے جو کوئی بھی محب وطن جماعت نہیں کرسکتی تھی
اسحاق ڈار نے یہ بات نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہی انکا تھا کہ وہ تمام وعدے جو تحریک انصاف حکومت نے آئی ایم ایف سے کیے انکو نہ صرف پورا نہیں کیا بالکہ جاتے جاتے گندی سیاست کرتے ہوئے پروگرام کی خلاف ورزی کی اور معاشی سرنگیں بچھا گئے جسکا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑا اور معاملہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے تک پہنچ گیا اور اگر موجودہ حکومت سخت اور غیر مقبول فیصلے نہ لیتی اور آئی ایم کا پروگرام بحال نہ ہوتا تو ایک بھیانک صورتحال ہوجاتی لیکن ان شا اللہ ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ پاکستان کا دیوالیہ نکلے
سابق وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں میں آئی ایم ایف کا پروگرام صرف ایک مرتبہ کامیابی سے مکمل ہوا جو میاں نواز شریف کی آخری حکومت میں بطور وزیرخزانہ انہوں نے کیا تھا
شوکت ترین کی حالیہ پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ شوکت ترین اور عمران خان نے جب کہا کہ ہم قیمتیں نہیں بڑھائینگے اور تیل اور بجلی کی قیمت کم کررہے ہیں تو ساتھ ہی انہوں نے بیان دیا کہ سبسڈیز فنڈڈ ہیں انکا وہ بیان جھوٹا تھا جو بعد میں ثابت ہوگیا کہ انہون نے جھوٹ بولا
حالیہ مہنگائی کیوجہ سابق وزیرخزانہ نے تحریک انصاف کی پچھلی حکومت کی ناکام کارکردگی کو قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی پچھلی حکومت کی ناکام کارکردگی کے اثرات سامنے آرہے ہیں جسکی تصدیق آئی ایم ایف کی رپورٹ اب کررہی ہے جو پاکستان کی معیشت کی راہ میں جو بارودی سرنگیں تحریک انصاف جاتے جاتے تباہ کرگئی اسکو بہتر کرنے میں ہمیں اتنا عرصہ لگ گیا ہے
ن لیگی رہنما نے کہا کہ مہنگائی کے موجودہ طوفان کیوجہ اصل وجہ عمران خان حکومت کے فسکل ڈسپلن کی دھجیاں اڑانا تھا وہ حکومت اپنی آمدنی بڑھا نہ سکی الٹا پینتیس فیصد اخراجات بڑھا دیے جسکا نتیجہ نکلا کہ ہمیں پانچ ہزار ارب سے زائدکا ایکسٹرا قرضہ لینا پڑا انہوں نے مزید کہا کہ اب ہمیں روپے کی قیمت کو کنڑول کرنا ہے روپیہ آگر آج 170/80کے درمیان ہوتا تو مہنگائی کم ہوتی
موجودہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ مفتاح اسماعیل جو کہہ رہے ہیں حکومت کے پاس 13 ماہ ہیں لیکن انکے پاس وقت کم ہے آئین کے تحت وزیر بننے کیلئے پارلیمنٹیرین ہونا ضرورت ہوتا ہے لیکن چونکہ وہ پارلیمنٹیرین نہیں اس صورت میں وہ آئین کے تحت چھے ماہ تک فنانس منسٹر رہ سکتے ہیں جو مدت اکتوبر کے وسط تک ہے
اسحاق ڈار نے عمران خان کی پالییسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک جہاں جہاں عمران خان گئے انہوں نے پاکستان کو بدنام کیا انوسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم قرضوں میں دھنسے ہوئے ہیں ان باتوں کے بعد کون پاگل پھرہمارے ملک میں انوسٹمنٹ کریگا ہم اپنے ملک کو خود بدنام کرتے ہیں عمران خان کو یہ گھٹیا سیاست بند کرنا چاہیے یہ ملک ہے تو سب کچھ ہے ورنہ کچھ نہیں ہے
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔