ACROSS TT

News

Pakistan and Qatar deepen security ties as fragile US-Iran peace push gains ground

Interior Minister Mohsin Naqvi and his Qatari counterpart agreed to deepen security cooperation in Doha this week, as Pakistan and Qatar push behind the scenes to salvage the Islamabad MoU and bring Washington and Tehran back to the table.

Kuwait ratifies defense pact with Pakistan

Kuwait's Amir has formally ratified the defence cooperation agreement with Pakistan by decree, published in the official gazette. The agreement covers training, logistics, military intelligence, defence industries and a joint military committee.

Security forces launch Mastung operation, 15 terrorists killed

Security forces launched Operation Al Azm in Mastung's Tehsil Khad Kucha, killing 15 terrorists and wounding 12, according to security sources. Eight suspects were detained, one hideout destroyed and a large cache of weapons seized. No casualties were reported among security forces.

Pakistan backs Saudi Arabia after Houthi attacks on Red Sea oil tankers

Prime Minister Shehbaz Sharif has condemned Houthi attacks on Saudi oil tankers and reaffirmed Pakistan's full support for the Kingdom during a call with Crown Prince Mohammed bin Salman. Both leaders pledged closer cooperation to protect regional stability and vital maritime trade routes.

وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی حملوں کی شدید مذمت

وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ۔ بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
Newsroomجںرل فیض نے گھر آکر کہا ہماری مرضی کے فیصلے دو اور...

جںرل فیض نے گھر آکر کہا ہماری مرضی کے فیصلے دو اور وقت سے پہلے چیف جسٹس بن جاو، جسٹس شوکت صدیقی

جنرل فیض نے انکے گھر آکرکہا کہ اگر آپ ہماری مرضی کیمطابق فیصلے کردیں تواس وقت کے چیف جسٹس کو میڈیکل بنیادوں پرچھٹی پر بھیج دیا جائے گا اور آپکو وقت سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا جائیگا۔

spot_img

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض نے انکے گھر آکرکہا کہ اگر آپ ہماری مرضی کیمطابق فیصلے کردیں تواس وقت کے چیف جسٹس کو میڈیکل بنیادوں پرچھٹی پر بھیج دیا جائے گا اور آپکو وقت سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا جائیگا جس پر میں نے جواب دیا کہ یہ تو اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس تو کیا اگر آپ مجھے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بھی بنا دیں تب بھی میں اپنے ضمیر کے خلاف فیصلہ نہیں کرونگا یہ بات جسٹس شوکت صدیقی نے معروف صحافی طلعت حسین سے ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئی کہی۔
جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ جب جنرل فیض حمید کی مرضی کے فیصلے دینے کی بات نہیں مانی توصرف چالیس منٹ میں سارا عمل مکمل کرکے مجھے عہدے سے برطرف کردیا گیا۔
سابق جسٹس نے کہا کہ ثابق چیف جسٹس ثاقب نثار ور جسٹس کھوسہ نہیں چاہتے تھے کہ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بن سکوں۔
جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ میں نے اپنا کیس عدالت میں دائر کیا ہوا ہے لیکن ہر مرتبہ عدالت تاریخ دے دیتی ہے اور جب مقررہ تاریخ آتی ہے تواس دن میرا کیس ہی نہیں لگایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ انکے خیال میں انکے کیس کی فائل اس وقت چیف جسٹس آف پاکستان کے دفتر میں پڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 29نومبر 2022 تک تو انکو سمجھ آتی ہے کہ کیس کیوں نہیں لگتا تھا کیونکہ تب تک جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید موجود تھے اور شاید انکے دباو کیوجہ سے وہ کیس نہیں لگنے دے رہے تھے لیکن اب اسکے بعد بھی کیس نہ لگنے کی وجہ شاید یہ ہے کہ موجودہ چیف جسٹس سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس کھوسہ کے ساتھ دوستی کیوجہ سے انکے کیس کی شنوائئ نہیں کررہے کیونکہ وہ دونوں انکے خلاف تھے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس موقع پربتایا کہ جسطرح انکو اچانک نوکری سے برطرف کردیا گیا اسکے بعد انکو بڑے معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا انکو اپنے گھر بیچنا پڑا دوست احباب سے قرض لیکر گزارا کرنا پڑا اوریوں محسوس ہوا کہ انکو انکی فیملی سمیت چوک میں لاکرکھڑا کردیا گیا ہو۔
صحافی ارشد شریف کے قتل کا کیس لینے کے بارے میں جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ انکو یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ پورے پاکستان میں کوئی بھی انکا کیس لینے کو آگے نہیں آیا جس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو انکی لاش کو گلی گلی قریہ قریہ لیکر بیچ رہے ہیں جن کے پاس بڑی لیگل ٹیم ہے انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا تو اس کے بعد انہو نے وہ بغیر فیس کیس لڑنے کا فیصلہ کیا۔
اس موقع پر صحافی طلعت حسین نے کہا کہ جب جسٹس شوکت صدیقی کے برطرفی کے بعد انہوں نے انکا انٹرویو کیا تھا تو اسکو تب ٹی وی پر چلنے سے روک دیا گیا تھا تو انکی بیٹی تب رو پڑی تھیں اورانہوں نے کہا تھا کہ اگر آپ انٹرویوچلا نہیں سکتے تو انٹرویو کرتے کیوں ہیں۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.