spot_img

Columns

News

پاک فوج نے جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا

پاک فوج نے سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے مالک کی درخواست پر انکوائری کا آغاز کر دیا ہے، جنرل (ر) فیض حمید پر الزام ہے کہ انہوں نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف دورانِ ملازمت اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تھا۔

عمران خان کی حکومت سعودی عرب نے گِرائی تھی، شیر افضل مروت

عمران خان کی حکومت سعودی عرب نے گِرائی تھی، سعودی عرب اور امریکہ دو ممالک تھے جن کے تعاون سے رجیم چینج آپریشن مکمل ہوا، سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کیلئے معاشی تعاون بھی اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔راہنما تحریکِ انصاف شیر افضل مروت

فیض آباد دھرنا کمیشن ایک مذاق تھا، اس کمیشن کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف

جنرل (ر) باجوہ نے مجھے دھمکی دی ہے کہ میں نے باتیں بیان کیں تو ٹانگوں پر کھڑا نہ ہو سکوں گا، جنرل (ر) باجوہ اور جنرل (ر) فیض حمید فیض آباد دھرنا کمیشن میں پیش نہیں ہوئے، فیض آباد دھرنا کمیشن ایک مذاق تھا، اس کمیشن کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

سعودی عرب پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرے گا، سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل

سعودی عرب پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرے گا، جلد سرمایہ کاری میں پیش رفت ہو گی۔ سعودی وزیرِ خارجہسعودی عرب کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں، سعودی سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار

جنرل (ر) باجوہ میرے خلاف ہیروئن کے جعلی کیس میں براہِ راست ملوث تھا، رانا ثناء اللّٰہ

میرے خلاف ہیروئن کے جعلی کیس میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ براہِ راست ملوث تھا، عمران خان نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اگست میں ہی جنرل (ر) باجوہ کو توسیع دے دی تھی، میاں نواز شریف نے کہا کہ اب محاذ آرائی بےسود ہے۔
spot_img
Newsroomپاناما کیس 436 افراد کی بجائے ایک ہی خاندان کے خلاف کیوں...

پاناما کیس 436 افراد کی بجائے ایک ہی خاندان کے خلاف کیوں چلایا گیا؟ جسٹس سردار طارق مسعود

جسٹس سردار طارق مسعود نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو 7 سالوں تک ان 436 افراد کے خلاف تحقیقات کا خیال نہیں آیا، اب یاد آیا کہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے؟ کیا 2017 میں آپ کا مقصد صرف ایک خاندان کے خلاف کیس چلانا تھا؟

spot_img

اسلام آباد—سپریم کورٹ آف پاکستان میں جماعت اسلامی کی پاناما پیپرز میں شامل 436 افراد کے خلاف تحقیقات کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی جس میں 2 رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس سردار طارق مسعود نے کی۔ جماعت اسلامی کے وکیل کی جانب سے جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی گئی۔

جسٹس سردار طارق مسعود نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو 7 سالوں تک ان 436 افراد کے خلاف تحقیقات کا خیال نہیں آیا، اب یاد آیا کہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے؟ کیا 2017 میں آپ کا مقصد صرف ایک خاندان کے خلاف کیس چلانا تھا؟ تب کیوں نہیں کہا تھا کہ تمام افراد کے خلاف ایک ساتھ تحقیقات کی جائیں؟

جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ تب آپ کو سپریم کورٹ کے بینچ نے بہت بڑا ریلیف دیا تھا مگر آپ نے اس بینچ کے سامنے تمام 436 افراد کے متعلق تحقیقات کا مطالبہ نہ کیا، میں کہنا نہیں چاہتا مگر مجھے یہ کچھ اور ہی معاملہ لگتا ہے، آپ عدالت کا کندھا استعمال نہ کریں، آپ نے 7 سالوں کے دوران کسی ایک بھی ادارہ کو تحقیقات کیلئے درخواست نہیں کی۔

جماعتِ اسلامی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ آپ نے سات سالوں کے دوران نیب، ایف آئی اے اور دیگر اداروں سے رجوع کیوں نہیں کیا؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ سارے کام سپریم کورٹ کرے؟ تمام افراد کو نوٹس جاری کیے بغیر کارروائی کیسے کریں؟ ان 436 افراد میں کاروباری لوگ بھی شامل ہیں کیا آپ انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟

جسٹس سردار طارق مسعود کا کہنا تھا کہ آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم نہیں ہے، معاملہ صرف اس کو بنانے کے طریقہ کار کا ہے۔ تمام افراد کے متعلق نوٹس جاری کیے بغیر کارروائی کا حکم دینا نیچرل جسٹس کے خلاف ہے، ان تمام افراد کو سنے بغیر فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جماعت اسلامی کی درخواست پر پاناما پیپرز میں شامل 436 افراد کے خلاف تحقیقات کی درخواست میں جے آئی ٹی بنانے پر جواب طلب کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
error: