spot_img

Columns

Columns

News

مکہ مکرمہ کے قریب حوثی ڈرون تباہ، سعودی عرب نے مقدس شہر کی سلامتی کو ”ریڈ لائن“ قرار دے دیا

سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثی باغیوں کا ڈرون مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا۔ عسکری اتحاد کے مطابق یہ مکہ پر حملے کی حوثیوں کی دوسری کوشش تھی۔ مکہ اور مقدس مقامات کی سلامتی کو ”ریڈ لائن“ قرار دے دیا گیا۔

Saudi Arabia Shoots Down Houthi Drone Near Makkah, Calls Holy City a ‘Red Line’

RIYADH (The Thursday Times) — Saudi air defences intercepted...

Imran Khan’s ex-wife Jemima Goldsmith marries Cameron O’Reilly

Jemima Goldsmith, Imran Khan's ex-wife, has married Irish-Australian financier Cameron O'Reilly in a private ceremony, more than two decades after her divorce from the former Pakistani PM.

Malaysian PM rejects India’s push to brand Pakistan a terror sponsor

Malaysian PM Anwar Ibrahim refused to be drawn into India's attempt to brand Pakistan a state sponsor of terrorism, telling an Indian anchor directly that his own intelligence found no evidence to support the claim.

پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف، وزیراعظم کا خصوصی سکیم کا اعلان

پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف! وزیراعظم نے موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے خصوصی ریلیف سکیم کا اعلان کر دیا۔ موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی کو ماہانہ 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کو 30 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف ملے گا۔
Opinionدادا دادی اکیلے رہ گئے
spot_img

دادا دادی اکیلے رہ گئے

یہ ماحول دادا دادی کے بڑھاپے میں ان کا سہارا ہوا کرتا تھا، وہ پوتے پوتیوں کے ساتھ مصروف رہتے تھے اور یوں انہیں غیر ضروری ہونے یا تنہا ہونے یا بےوقعت ہو جانے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔ ہم سب نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ جس میں زندگی موت سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہے۔

A.M. Farooqi
A.M. Farooqi
A.M. Farooqi is a Staff Reporter for The Thursday Times.
spot_img

بہت زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ جب بچے دادا دادی کے ساتھ بہت زیادہ مانوس ہوا کرتے تھے۔ دادا دادی کے ساتھ وقت گزارنا، پیاری اور معصوم سی باتیں کرتے رہنا، ہنسی مذاق کرنا، ان کے ساتھ کھانا کھانا اور انھی کے پاس بیٹھ کر پڑھائی کرنا بچوں کو بہت پسند ہوا کرتا تھا بلکہ عموماً ایک بچہ ایسا بھی ہوتا تھا جو دادا یا دادی کے پاس ہی سو جایا کرتا تھا۔

یہ ماحول دادا دادی کے بڑھاپے میں ان کا سہارا ہوا کرتا تھا، وہ پوتے پوتیوں کے ساتھ مصروف رہتے تھے اور یوں انہیں غیر ضروری ہونے یا تنہا ہونے یا بےوقعت ہو جانے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔ سب سے پیارا تو وہ بچہ ہوا کرتا تھا جو دادا یا دادی کے پاس ہی ان کے بچپن اور جوانی کی باتیں اور قصے سنتے سنتے سو جایا کرتا تھا۔

مگر جدید تعلیمی نظام اور اس میں مقابلے کی فضا، موبائل فونز و کمپیوٹرز، پلے سٹیشنز و دیگر الیکٹرونک گیمز، جدید فیشن کی خواہش، رومانوی ڈراموں کے اثرات اور دیگر وجوہات نے بچوں کو دادا دادی سے کوسوں دور کر دیا بلکہ اب تو انہیں دادا دادی کے پاس کچھ دیر کیلئے بیٹھنے میں بھی بیزاری محسوس ہوتی ہے۔

اب تو دادا دادی اکیلے رہ گئے ہیں، بیٹے روزگار کی فکر اور بیوی بچوں کا خیال رکھنے میں مصروف ہو گئے، بیٹیاں بیاہ کر اپنے گھروں کی ہو گئیں جبکہ پوتے پوتیاں ڈاکٹر اور انجینئر بننے کیلئے محنت کرنے، ڈرامے اور فلمیں دیکھنے، خفیہ دوستیاں نبھانے، فیشن کرنے اور ایسے دیگر کاموں میں رشتوں کے تقدس سے ہی انجان ہو گئے۔

ایسے گھر کم ہی رہ گئے ہیں جہاں دادا دادی کو پوتے پوتیوں کی قربت نصیب ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان گھروں کی تعداد میں مزید کمی ہو رہی ہے۔ کئی گھروں میں تو دادا دادی کو پانی پینے کیلئے بھی طویل انتظار کرنا پڑتا ہے کہ کوئی بیٹا پاس سے گزرے یا کوئی بہو کسی بہانے سامنے آئے یا کوئی پوتا پوتی کہیں نظر آئیں تو ان سے پانی پلانے کا مطالبہ کیا جائے جبکہ اس دوران یہ خوف بھی رہتا ہے کہ کہیں پانی مانگنے پر ڈانٹ ہی نہ کھانی پڑ جائے۔

ماحول میں اس افسوسناک تبدیلی کیلئے سازشی کہانیوں پر مبنی ڈرامہ سیریلز اور موویز نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس بات سے انکار ممکن ہی نہیں کہ ان ڈرامہ سیریلز اور موویز نے اکثر لڑکیوں کی ایسی ذہن سازی کر دی ہے کہ ان کے اندر شوہر کے ہمراہ کہیں اکیلے رہنے یعنی سسرال سے الگ رہنے کی خواہش ہر وقت بیدار رہتی ہے، وہ ہمیشہ اس موقع کی تلاش میں رہتی ہیں کہ جہاں سے الگ ہونے کی بات چل نکلے اور پھر ان کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ ان کے بچے دادا دادی اور چچا کی بجائے نانا نانی اور ماموں کے زیادہ قریب ہوں۔

سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اب گھروں میں ان باتوں کو موضوع ہی نہیں بنایا جا سکتا، اگر کوئی شخص کسی موقع پر ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ کہہ بھی دے تو فوراً اس پر یہ الزام عائد کر دیا جاتا ہے کہ وہ تو بچوں کو مستقبل میں کامیاب دیکھنا ہی نہیں چاہتا، اس کی نظر تو فلاں چیز پر ہے اور یہ خود کیوں نہیں ایسا یا ویسا کر لیتا وغیرہ وغیرہ

ہم سب نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ جس میں زندگی موت سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ آج ہم اپنے روزگار اور بیوی بچوں میں مگن ہو کر اپنے ماں باپ کو بےوقعت اور تنہا کر رہے ہیں، کل ہم بوڑھے ہو کر اسی طرح اپنے بچوں کے ہوتے ہوئے بےوقعت اور تنہا ہوں گے اور پھر ایک وقت آئے گا کہ ہمارے بچے بھی بوڑھے ہو کر بےوقعت اور تنہا رہ جائیں گے جبکہ ان کے بچے روشن مستقبل کی تلاش اور دیگر تفریحی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے۔

دراصل اس ماحول نے زندگی کو جوانی کے اختتام تک ہی محدود کر دیا ہے، یہاں ہم جوانی کے اختتام کو پہنچیں گے اور وہاں ہمیں گھر کے کسی کونے میں چارپائی یا بیڈ دے دیا جائے گا اور پھر ہم بچپن اور جوانی کے دنوں کو یاد کرتے اور کڑھتے ہوئے موت کا انتظار کرتے رہیں گے اور پھر یہی وقت ہمارے بچے بھی دیکھیں گے اور یوں زندگی سکڑتی چلی جائے گی۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.