ڈونلڈ لو کے بیان کے بعد عمران خان کے خلاف آرٹیکل 5 اور آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے، طلال چوہدری

ڈونلڈ لو کے بیان کے بعد قومی اسمبلی توڑنے پر عمران خان اور اس وقت کے صدر اور سپیکر کے خلاف آرٹیکل 5 اور آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے، عمران خان نے جھوٹ بول کر قومی اسمبلی توڑی اور اسی وجہ سے 9 مئی کا واقعہ رونما ہوا، عمران خان کی حمایت کرنے والے امریکی ارکان فلسطین پر اسرائیلی حملوں کے حامی ہیں۔

رائے دیں
A file photo is shown of former MNA Talal Chaudhry addressing a press conference. — FILE/THE THURSDAY TIMES
A file photo is shown of former MNA Talal Chaudhry addressing a press conference. — FILE/THE THURSDAY TIMES

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان مسلم لیگ (ن) کے راہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ڈونلڈ لو کے بیان کے بعد قومی اسمبلی توڑنے پر عمران خان اور اس وقت کے صدر اور سپیکر کے خلاف آرٹیکل پانچ اور چھ کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔

طلال چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ روز امریکی کمیٹی میں پہلی بار کسی سابق وزیراعظم کو سرٹیفائیڈ جھوٹا قرار دیا گیا، پاکستان کی سیاسی جماعتیں جو کہتی تھیں وہ سچ ثابت ہو گیا ہے، یہ ثابت ہو چکا سائفر سازش کا نام لے کر سیاست کیلئے استعمال کر کے قومی اسمبلی توڑی گئی، پاکستان کے اداروں پر حملہ کیا گیا اور پھر 9 مئی والا واقعہ رونما ہوا۔

راہنما مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ اگر بی ایل اے پاکستان سے باہر بیٹھ کر تحریکِ انصاف جیسی کمپیئن چلائے تو وہ غدار ہے لیکن اگر تحریکِ انصاف وہی کام کرے، پاکستان کے خلاف لابنگ کرے اور پاکستان کے اداروں پر حملے کرے تو وہ محبِ وطن اور انقلابی بن جاتی ہے، پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی جبکہ پاکستان سے باہر پی ٹی آئی پاکستان پر حملہ آور ہے۔

سابق وفاقی وزیر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف حملہ آور ہے، ہمارے فوجی افسران شہید ہوتے ہیں تو ٹی ٹی پی کے ترجمان کے طور پر تحریکِ انصاف کام کرتی ہے، سوشل میڈیا پر ان کے اکاؤنٹس ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرتے ہیں اور شہداء کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر میانوالی بیس پر پی ٹی آئی حملے کرے تو انقلابی ہیں اور کور کمانڈر ہاؤس پر بھی حملہ کریں تو انقلابی ہیں کیونکہ انہوں نے جینز پہنی ہوئی ہے، وہ اچھے گھروں میں رہتے ہیں اور دوہری شہریت کے بھی حامل ہیں لیکن اگر کسی بیس پر داڑھی والا شلوار قمیض پہنے حملہ آور ہو تو کہا جاتا ہے کہ وہ دہشتگرد ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ روز امریکی کمیٹی میں جن تین ارکان نے عمران خان کی بھرپور حمایت کی وہ تینوں ارکان فلسطین پر اسرائیلی حملوں کو جائز قرار دیتے ہیں اور وہی کہتے ہیں کہ عمران خان بھی درست ہے۔∎

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

تھرسڈے ٹائمز شائع کرتا ہے Thursday Media International