اسٹیبلشمنٹ تسلیم کرتی ہے نواز شریف کیساتھ زیادتی کی گئی جس کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑا، سینئر صحافی

موجودہ اسٹیبلشمنٹ کا ماننا ہے کہ 2014 سے میاں نواز شریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور اگر اس وقت کے اقدامات نہ ہوتے تو آج پاکستان اس بحران میں نہ ہوتا۔ عدلیہ کو پیغام دیا گیا ہے کہ آپ نے اپنا زور لگا لیا، اب ہماری باری ہے۔ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ جو جرم کا اعتراف نہیں کرے گا، وہ نتائج کے لیے تیار ہو جائے۔

Tarjuma ho raha hai… 0 / 4 Asal tehreer parhein

A montage is shown of incumbent army chief Syed Asim Munir (L), PML(N) president Nawaz Sharif (M) and former prime minister Imran Khan (R). — MONTAGE/THE THURSDAY TIMES
A montage is shown of incumbent army chief Syed Asim Munir (L), PML(N) president Nawaz Sharif (M) and former prime minister Imran Khan (R). — MONTAGE/THE THURSDAY TIMES

لاہور (تھرسڈے ٹائمز) — موجودہ اسٹیبلشمنٹ کا ماننا ہے کہ 2014 سے میاں نواز شریف کے ساتھ ناانصافی ہوتی آئی ہے۔ اگر اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے وہ اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج پاکستان اس سنگین صورتحال کا شکار نہ ہوتا۔ یہ بات سینئر صحافی منیب فاروق نے اپنے یوٹیوب چینل پر کہی۔ 

منیب فاروق کیمطابق اسٹیبلشمنٹ کا ماننا ہے کہ عمران خان کو 2018 میں اقتدار میں لا کر ملک کے ساتھ بڑی زیادتی کی گئی جس کی وجہ سے ملک اس حالت میں گھرا ہوا ہے۔ منیب فاروق کیمطابق اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ وہ اب اس زیادتی کا ازالہ کر رہے ہیں۔ جبکہ اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے۔

منیب فاروق نے سینئر اینکر پرسن طلعت حسین کیساتھ انکے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وقت کی حقیقت یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہے اور انہوں نے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کسی حکومتی اتحادی کی ہمت نہیں کہ اس کے خلاف کچھ کہہ سکے، چاہے وہ آصف زرداری ہوں یا کوئی اور ہو۔ طاقتور کے ہاتھ میں اس وقت ڈنڈا ہے اور وہ ڈنڈا چلنا شروع ہوگیا ہے۔ یہ کہاں جا کر رکے گا، یہ وقت ہی بتائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آصف زراری کسی صورت اسٹیبلشمنٹ سے معاملات بگاڑنا نہیں چاہیں گے کیونکہ انکی خواہش ہے کہ آگے چل کر بلاول بھٹو وزیراعظم بنیں۔

سینئر صحافی کیمطابق ججز عمران خان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے ہیں تو ریاست نے بھی کھل کر سامنے آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست نے فیصلہ کرلیا ہے کہ عمران خان قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور عدلیہ کو واضع پیغام دے دیا گیا ہے کہ آپ نے اپنا زور لگا لیا ہے، اب ہمارے ساتھ زور آزمائی کرکے دیکھ لیں۔ اگر کسی کو توہین عدالت میں بلانا ہے تو ایک مرتبہ بلائیں اور پھر دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔

منیب فاروق کیمطابق اسٹیبلشمنٹ نے ججز کو پیغام دے دیا ہے کہ آپ نے جو کرنا تھا وہ کرلیا، اب ہم دکھائیں گے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔ افواج پاکستان نے بطور ادارہ فیصلہ کرلیا ہے کہ عمران خان، تحریک انصاف اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

سینئر صحافی کیمطابق ادارے نے سب کچھ برداشت کرکے دکھا دیا ہے، معافی کا موقع بھی دے دیا ہے لیکن اب فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ جس نے جرم کیا ہے اور وہ معافی نہیں مانگتا تو پھر وہ نتائج کے لیے تیار ہوجائے۔

TT News Desk

News from The Thursday Times' news desk.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media