پاکستان کو اپریل میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول

پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

Raaye dein

Tarjuma ho raha hai… 0 / 4 Asal tehreer parhein

Pakistan received $3.5bn in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia, the UAE, the UK, EU countries and the US leading inflows. — FILE/THE THURSDAY TIMES
Pakistan received $3.5bn in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia, the UAE, the UK, EU countries and the US leading inflows. — FILE/THE THURSDAY TIMES

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان کو اپریل 2026 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اوورسیز پاکستانی اب بھی ملک کی معیشت کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد مالی سہارا ہیں۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، اپریل میں ترسیلاتِ زر کے سب سے بڑے ذرائع میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، یورپی ممالک اور امریکا شامل رہے۔ یہ رقوم پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دینے، زرمبادلہ کے بہاؤ کو بہتر رکھنے اور لاکھوں خاندانوں کی مالی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

سعودی عرب اپریل میں ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ رہا، جہاں سے تقریباً 842 ملین ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ متحدہ عرب امارات سے تقریباً 735 ملین ڈالر موصول ہوئے، جن میں دبئی اور ابوظہبی سے آنے والی رقوم نمایاں رہیں۔

برطانیہ بھی ایک اہم ذریعہ رہا، جہاں سے پاکستانیوں نے تقریباً 564 ملین ڈالر وطن بھیجے۔ یورپی ممالک سے ترسیلاتِ زر تقریباً 432 ملین ڈالر رہیں، جبکہ امریکا سے تقریباً 318 ملین ڈالر پاکستان پہنچے۔

یہ اعداد و شمار پاکستان کے لیے اوورسیز کمیونٹی کی مسلسل اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ خلیجی ممالک، برطانیہ، یورپ اور شمالی امریکا میں مقیم پاکستانی نہ صرف اپنے خاندانوں کی مدد کرتے ہیں بلکہ ملک کے مالیاتی نظام کو بھی سہارا دیتے ہیں۔

ترسیلاتِ زر صرف ایک معاشی عدد نہیں ہوتیں۔ ان کے پیچھے لاکھوں خاندانوں کی روزمرہ زندگی، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، گھریلو اخراجات اور مستقبل کی بچتیں جڑی ہوتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں زرمبادلہ کا دباؤ اکثر معاشی پالیسی کا مرکزی مسئلہ رہتا ہے، اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم ایک مستقل مالی کشن کا کام کرتی ہیں۔

جولائی سے اپریل 26 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ رقم 31.2 ارب ڈالر تھی۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی طرف سے رقوم کا بہاؤ مضبوط رہا ہے۔

معاشی اعتبار سے یہ پاکستان کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ ترسیلاتِ زر زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتی ہیں، روپے پر دباؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ کو مستحکم رکھنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ سماجی اعتبار سے یہ رقوم ملک کے اندر لاکھوں گھرانوں کی قوتِ خرید کو برقرار رکھتی ہیں۔

اپریل کے اعداد و شمار ایک بار پھر دکھاتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت میں اوورسیز پاکستانیوں کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ملک سے دور ضرور ہیں، مگر ان کی کمائی، محنت اور وابستگی پاکستان کے مالی استحکام میں براہِ راست شامل ہے۔

TT Business Desk

Economy, markets and business news from The Thursday Times' business desk.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media