نئی دہلی (تھرسڈے ٹائمز) — بھارتی کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا ہے کہ رنویر سنگھ کی جاسوسی فلمیں ”دھرندھر“ پروپیگنڈے سے بھرپور ہیں اور ان میں ”بھارتی سنیما میں اب تک دکھائے گئے سب سے گھناؤنے مناظر“ شامل ہیں، تاہم انہوں نے ان فلموں کی فلم سازی اور اداکاری کی تعریف بھی کی۔
اپنے یوٹیوب چینل اور انسٹاگرام پر جاری کیے گئے تقریباً سات منٹ کے ویڈیو تبصرے میں تھرور نے کہا: ”جو چیزیں مجھے پسند نہیں آئیں، ان میں سب سے بڑھ کر انتہائی ہولناک تشدد ہے۔ یہ سراسر حد سے زیادہ اور مبالغہ آمیز تھا۔ اتنا تشدد، خون ریزی، افراتفری اور سفاکی دکھانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔“
’بدگمانی اور کشیدگی‘
انہوں نے کہا: ”ظاہر ہے اس میں بہت سا پروپیگنڈا شامل ہے، اور میرے علم کے مطابق یہ فلم کئی ممالک میں ممنوع قرار دی جا چکی ہے، صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خلیج کے کئی ممالک نے بھی اس پر پابندی لگائی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے بھارتیوں اور پاکستانیوں کے درمیان بلاوجہ کشیدگی پیدا ہوگی، اس لیے میں ان جذبات کو سمجھ سکتا ہوں۔“
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستانی ناظرین کا ردِعمل کیا ہوگا۔ ”میرا خیال ہے کہ کچھ مکالمے سن کر پاکستانی ہنس پڑیں گے۔ کچھ دوسری باتیں دیکھ کر پاکستانیوں کو احساس ہوگا کہ ان کے نام پر کتنا غلط کیا گیا ہے۔“
آدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی ان فلموں کا مرکزی کردار ایک بھارتی خفیہ ایجنٹ ہے، جسے سنگھ نے نبھایا ہے اور جو ایک دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے کراچی کے جرائم پیشہ گروہوں اور سیاسی حلقوں میں گھس جاتا ہے۔ پہلی فلم دسمبر 2025 میں ریلیز ہوئی، جبکہ اس کا اگلا حصہ ”دھرندھر: دی ریونج“ مارچ میں ریلیز ہوا۔ تھرور نے کہا کہ دوسری فلم بہتر تھی۔
’یہ وہ دنیا نہیں جس میں میں نے زندگی گزاری‘
سابق سفارت کار نے فلموں میں دکھائی گئی خفیہ کارروائیوں کا موازنہ بھارتی خفیہ اداروں کے ساتھ اپنے معاملات سے کیا۔ انہوں نے کہا: ”میرا اپنے ہاں کے بہت سے خفیہ اہلکاروں سے واسطہ رہا ہے، لیکن نہایت مہذب انداز میں۔ مجھے ایسے کسی حکم کا قطعاً علم نہیں جس کے نتیجے میں دور دراز دارالحکومتوں میں دھماکے ہوں۔ یہ وہ دنیا نہیں جس میں میں نے کبھی زندگی گزاری ہو۔“
انہوں نے آر مادھوان کے جاسوس سربراہ کے کردار کے بارے میں بھی زیادہ مطلب نکالنے سے خبردار کیا، جسے وسیع پیمانے پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو سامنے رکھ کر تخلیق کیا گیا سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: ”میرے خیال میں یہ فرض کرنا کہ یہ بات درست ہے، بہت دور کی بات ہوگی۔ اس لیے میں اسے ایک فرضی فلم کے طور پر دیکھوں گا جو ایک ایسی کہانی بیان کرتی ہے جس کا مقصد ظاہر ہے کچھ سبق دینے کا تاثر بھی دینا ہے۔“∎



