ابوظہبی (تھرسڈے ٹائمز) — سرکاری خبر رساں ایجنسی وام (WAM) نے جمعرات کو بتایا کہ ابوظہبی کی ایک عدالت نے سوڈان کی فوج کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان اسمگل کرنے اور اس کی آمدن کو متحدہ عرب امارات میں کمپنیوں اور بینک کھاتوں کے ذریعے سفید کرنے پر آٹھ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
ابوظہبی فیڈرل کورٹ آف اپیل نے قرار دیا کہ ملزمان اسلحے، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی غیر قانونی تجارت کی ”ایک مربوط اسکیم“ میں شریک تھے، اور انہوں نے رقم کے ذرائع اور اس کی منزل چھپانے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ”اسلحے کے سودوں اور منی لانڈرنگ نے متحدہ عرب امارات کے مفادات کو خطرے میں ڈالا“۔
عدالت نے جرائم میں استعمال ہونے والا گولہ بارود اور مواصلاتی آلات، تحویل میں لی گئی تقریباً 15 لاکھ درہم کی رقم ضبط کرنے اور سزا یافتہ افراد کو سزا پوری ہونے کے بعد ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔ دی نیشنل کے مطابق پانچ کمپنیوں پر 10، 10 لاکھ درہم جرمانہ عائد کیا گیا اور ان کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے، جبکہ کئی ملزمان کو منی لانڈرنگ پر تین تین سال کی اضافی سزا سنائی گئی اور دو افراد کو بری کر دیا گیا۔
13 ملین ڈالر کا سودا
یہ مقدمہ اپریل میں اس وقت شروع ہوا جب متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے 19 ملزمان، یعنی 13 افراد اور چھ کمپنیوں، کو کلاشنکوف رائفلیں، مشین گنیں اور دستی بم فراہم کرنے کی سازش پر عدالت کے حوالے کیا، جن کی ظاہر کردہ مالیت 13 ملین ڈالر تھی۔
اپریل 2023 میں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات اور سوڈان کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ فوج ابوظہبی پر آر ایس ایف (RSF) کو اسلحہ دینے کا الزام لگاتی ہے، جس کی متحدہ عرب امارات تردید کرتا ہے۔ اس جنگ نے 1 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ افراد کو بے گھر کیا ہے، اور اس ہفتے نیالا کی ایک مارکیٹ پر ڈرون حملوں میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔



