اقوام متحدہ اور پاکستان کے اشتراک سے ہونیوالی پاکستان کے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے جہاں پر پاکستان کیلئے دس بلین ڈالرز سے زائد کی امداد کے اعلانات کیے گئے ہیں
سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں اقوام متحدہ اور پاکستان کے اشتراک سے جاری بین الاقوامی کانفرنس کے پہلے حصہ کے اختتام تک بین الاقوامی کمیونٹی کی جانب سے زبردست رد عمل سامنے آرہا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بجائےاسکے ہمارا سارا فوکس معیشت مہنگائی پر ہو ہم ایکسٹینشن جیسی چیزوں میں الجھے ہوئے ہیں جس پر اتنا وقت صرف کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ ایکسٹینشن دینی ہے نہیں دینی مانگی جائیگی یا نہیں یہ ساری ذمہ داری حکومت کی ہے جب وقت آئیگا حکومت فیصلہ کر لے گی
پاکستان کی تاریخ میں میں آئی ایم ایف کا پروگرام صرف ایک مرتبہ کامیابی سے مکمل ہوا جو میاں نواز شریف کی آخری حکومت میں بطور وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کیا تھا
چار برس کی پھیلائی گئی تباہی چند ہفتے میں حل نہیں ہوسکتی اس بات کو سب کو سمجھنا پڑیگا پاکستان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے یہاں کی معیشت ٹھیک ہوسکتی ہے لیکن اس سب کیلئے وقت درکار ہے۔
ڈالر کا ریٹ اس وقت مصنوعی ہے روپے پر اسوقت نفسیاتی دباو ہے اسکی اصل ویلیو 160/70 سے زیادہ نہیں اس پر کام ہورہا ہے اور ان شا اللہ اسکو جلد اسکی اصل قیمت پر لائینگے۔
آئی ایم ایف کے کہنے پر اپنی عوام پر مزید نہیں ڈالا جاسکتا ہمیں ان سے دوٹوک بات کرنا ہوگی پہلے بھی دو دفعہ ہم نے بات کر کے مسئلے کا حل نکالا تھا اب بھی ان شا اللہ نکالیں گے ان سے بات کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔