The Thursday Times’ Pakistani news section dives into the pulse of Pakistani politics, offering sharp analysis and timely updates on the decisions and debates shaping the nation’s future, from the corridors of power to grassroots movements.
پاکستان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن میں اپنے حوثی اتحادیوں پر قابو پائے۔ تہران نے اضافی فنڈنگ و ہتھیاروں کا وعدہ کرتے ہوئے حوثیوں کو سعودی عرب پر حملے کی ہدایت دی۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب حوثیوں کے خلاف مشترکہ کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔ روئٹرز
Pakistan has moved on two fronts over the Houthi assault on Saudi Arabia this week: Defence Minister Khawaja Asif warning the Makkah Defence Pact could become operational, and Pakistan separately delivering a direct diplomatic warning to Iran, Reuters reports, urging Tehran to rein in the Houthis.
جب میں پیمرا کا چیئرمین تھا تو کچھ جرنیلوں اور ججز نے پاکستان کے خلاف سازش تیار کی اور یہ سازش پاکستان کو چین سے دور کرنے کیلئے تھی، یہ پاکستان کو امریکی کیمپ میں شامل کرنے کیلئے تھی، یہ سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے تھی۔
جب الیکشن کا کیس چل رہا تھا تو سننے کو ملا کہ چیف جسٹس جذباتی ہو گئے۔ آپ کو اس وقت بھی جذباتی ہونا چاہیے تھا جب ایک منتخب وزیراعظم کو دفتر سے نکالا گیا، اقامے پر سزا دی، بیٹی کو باپ کا ساتھ دینے پر موت کی چکیوں میں ڈالا، رانا ثناء اللّٰہ پر منشیات اسمگلنگ کیس ڈالا گیا، طلال چودھری پر ظلم و جبر کیا گیا۔
چیف جسٹس وزیراعظم بھی بن چکا ہے، وزیرِ داخلہ بھی بن چکا ہے، وزیرِ دفاع بھی بن چکا ہے، چیف الیکشن کمشنر بھی بن چکا ہے، پارلیمنٹ بھی بن چکا ہے۔ ایک لاڈلے کیلئے ریاست کو مفلوج کر کے سب کچھ تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال افسوسناک ہے، پاکستان دردناک صورتحال سے گزر رہا ہے۔
عمران خان کے دورِ حکومت میں بیشتر حکومتی معاملات اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور چلاتے تھے، عمران خان انھی دو لوگوں پر انحصار کرتے تھے کیونکہ یہ عمران خان کیلئے آنکھ اور کان تھے۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
عدالتوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ مجھے 2017 کا تسلسل لگتا ہے کیونکہ 2017 میں ایسا ہی ایک بینچ بنا تھا جس نے ملک کا مستقبل تاریک کر دیا تھا۔ قوم آنکھیں کھولے، قوم کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہو رہا ہے۔
نواز شریف کی نااہلی سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ موصول ہو چکا تھا۔ یہ فیصلے غیر سیاسی ذرائع سے معلوم ہوئے تھے اور اس سے ان ججز کی شفافیت، ان کی عدالت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کھل کر سامنے آ چکے ہیں جو انصاف کے تقاضوں کے منافی اور نامناسب چیز تھی اور یہ ایک فکسڈ ارینجمنٹ تھی۔
سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے کہا کہ ہم پر عمران خان کو لانے کا بھوت سوار تھا۔ ڈان لیکس کا ایشو جنرل راحیل شریف نے ایکسٹینشن لینے کیلئے بنایا تھا ورنہ اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔