Opinion

Bonn’s quiet climate reality check

The Bonn Climate Change Conference may not attract the drama of a COP summit, but SB64 offered a clear reality check: the future of climate diplomacy will be judged less by promises and more by whether countries can deliver practical, fundable and sustainable climate action.

Waiting for Godot in Islamabad

Islamabad and Rawalpindi have found themselves trapped in a strange political theatre: roads sealed, schools disrupted, businesses hit and ordinary routines broken, all in anticipation of talks between American and Iranian delegations that keep being delayed.

پنجاب اور ایسٹبلشمنٹ: حقائق یہ ہیں

گو کہ ولی خان نے بارہا کہا تھا کہ جس دن پنجاب ایسٹبلشمنٹ کے مقابل آیا تو اسی دن سے پاکستان صحیح ٹریک پر آنا شروع ہو جائے گا لیکن یہ اشارہ پنجابی لیڈر شپ کی طرف تھا کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ولی خان جیسے جہاندیدہ سیاستدان پنجاب کے سیاسی مزاج اور تاریخی حقائق سے واقفیت نہ رکھتا۔

Will PM Shehbaz rectify an isolated Pakistan?

Severed relations with superpowers have been strained under Khan, will strive to resolve this: Shehbaz

ایک تھا عمران

آج۔۔۔ بلآخر عمران خان کا یہ عہد اذیت اپنی تباہیوں بےشرمیوں اور ناکامیوں سمیت اپنی اختتام کو پہنچ گیا۔

اسحاق ڈار پاکستان کا بہترین وزیر خزانہ کیوں؟

نیازی اور نواز شریف میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ نواز شریف نے معیشت پاکستان کا مفاد مد نظر رکھ کر چلائ اور اسحاق ڈار نے "اکنامک ہٹمین" کو پاکستان میں چلنے نہیں دیا، جبکہ عمران نیازی نے اپنی معیشت "اکنامک ہٹمین" کے حوالے کر دی۔حفیظ شیخ، باقر رضا، شوکت ترین نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دیا۔

پلے بوائے سے آئین شکن پلئیر تک کا سفر

آج جب میچ آخری اوور میں داخل ہوا اور اپنی شکست صاف نظر آنے لگی تو وہ میدان سے آخری اوور شروع ہونے سے پہلے ہی وکٹیں اٹھا کر بھاگ گیا وہ جو فاسٹ باولر تھا ساری عمر تیز بھاگتا رہا آج وہ ہار سامنے دیکھ کر اسی فاسٹ سپیڈ سے میدان سے ہی بھاگ گیا۔

یہ سب مکار ایک جیسے کیوں ہوتے ہیں

اگر اپنی اقتدار اور طاقت کے حصول کے لئے جھوٹ، فریب، مکاری، بے ایمانی اخلاق باختگی فتوی بازی حرص اور دغابازی کے علاوہ ظلم،...

مہنگائی مکاو مارچ اور بے اعتبار خان

تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد سے اب تک عمران خان نے کئی پینترے بدلے، کئی داو آزمائے ، کئی وعدے کیئے اور کئی دھمکیاں دیں۔  بہت سوں کو ناراض کیا اور بہت سوں کو منانے کی کوشش کی۔ اپنی بدترین کارکردگی  کے باوجود جلسوں میں گھیر گھار کر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو لایا گیا اور اان کو نت نئے بھاشن سنائے گئے۔

نواز شریف اور عمران خان میں چند بنیادی فرق

نواز شریف کے اقتدار سے جانے سے پہلے اور جعلی مقدمات میں قید بھگتنے سے لے کر آج تک نواز شریف کے کسی ایک ساتھی نے نواز شریف سے بے وفائی نہیں کی۔ دوسری جانب عمران خان کی پارٹی کے لوگ خزاں رسیدہ پتوں کی طرح گر ہے ہیں۔

ممبران منحرف کیوں ہوئے

عمران خان کیساتھ اب صرف تین قسم کے لوگ رہ گئے ہیں اول وہ جو غیر انتخابی سیاست والے لوگ ہیں دوئم وہ جنہیں کوئی سیاسی جماعت قبول کرنے کو تیار نہیں اور وہ غیر سیاسی سوچ کے حامل لوگ یا اوورسیز پاکستانی جنہیں زمینی حقائق کا علم ہی نہیں ہے۔

حقیقی لیڈر کون؟

جسکو زورزبردستی سے نکالا گیا وہ آج بھی عوام اوراسکے چنے ہوئے نمائندوں کا قائد لیڈر اوررہبر ہے جبکہ جس لاڈلے کو زبردستی عوام پر مسلط کیا گیا اسکونہ عوام قائد اور لیڈر ماننے کو تیار ہیں اور نہ ہی اس عوام کے نمائندے۔

تحریک انصاف کی حکومت کی کامیابیاں

بہت کم لوگ تاریخ کا رخ موڑتے ہیں ان سے کچھ کم لوگ دنیا کا نقشہ بدلتے ہیں اور مشکل سے ہی کسی نے ایک نئی قوم تخلیق کی ہو گی اس پیمانے پر کپتان کو پرکھیں تو عمران خان نہ صرف دنیا کا نقشہ بھی بدل چکے بالکہ وہ قومِ یوتھ نامی ایک عجیب و غریب مخلوق کے نمودار ہونے کے بھی ذمہ دار ہیں۔

پہلا فیز

The political game in Pakistan is changing on a daily basis. The Prime Minister has lost almost all of his key voter base. What is next?