Lahore has been designated the Shanghai Cooperation Organisation's Tourism and Cultural Capital for 2026-2027, under a resolution signed at the same Bishkek summit where Pakistan assumed the SCO chairmanship, with four flagship cultural events planned in the city.
Pakistan formally assumed the chairmanship of the SCO Council of Heads of State on September 1, taking over from Kyrgyzstan at the conclusion of the Bishkek summit. It's Pakistan's first time holding the role since joining as a full member in 2017, and Islamabad will host the organisation's 2027 summit.
The defence pact signed by Pakistan, Saudi Arabia and Türkiye three weeks ago will be known as the Makkah Defence Alliance, its secretariat has been established in Riyadh, and its first secretary general will be appointed from among Pakistanis, Turkish Foreign Minister Hakan Fidan announced in Istanbul on Monday.
The Court of Arbitration in The Hague has issued its Award on the Status of the Indus Waters Treaty and its Decision on Interim Measures, finding that India's decision to place the treaty in abeyance is not permissible and that the accord remains fully in force, according to Pakistan's Ministry of Information and Broadcasting. Neither text has been published yet, with publication expected within about a week.
Pakistan, Saudi Arabia and Türkiye convene the first session of the committee created under the Makkah Joint Defence Agreement in Istanbul on Monday, each sending their foreign minister, defence minister and military chief. It is the first institutional step since the pact was signed three weeks ago, and the agenda covers defence capabilities, interoperability and, according to Pakistani reporting, joint production.
جسکو زورزبردستی سے نکالا گیا وہ آج بھی عوام اوراسکے چنے ہوئے نمائندوں کا قائد لیڈر اوررہبر ہے جبکہ جس لاڈلے کو زبردستی عوام پر مسلط کیا گیا اسکونہ عوام قائد اور لیڈر ماننے کو تیار ہیں اور نہ ہی اس عوام کے نمائندے
۔ 2022 سالہ جدوجہد کو 2018 میں اسوقت دوام بخشا گیا جب تحریک انصاف بالآخر جیسے تیسے کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی یا بنوا دی گئی کامیابی کا یہ سفر کیسے طے ہوا اسکی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ سب کچھ اب ایک کھلی کتاب بن چکا ہے۔
وزارت عظمی کے حصول کے جاری سفر میں آنیوالی سب سے بڑی رکاوٹ نواز شریف تھا جسکودھرنا ون اورٹو سے جب ہٹایا نہ جاسکا توپھر اسکو ہٹانے کیلئے پانامہ سے اقامہ کا سہارا لینا پڑا اسکو تاحیات نااہل کروانا پڑا اوربات یہیں تک نہ رکی نواز شریف کی جماعت کودوبارہ اقتدارمیں آنے سے روکنے کیلئے اسکے ساتھیوں کوڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی گئیں اورآخر کارالیکشن سے عین قبل نوازشریف کو اسکی بیٹی سمیت جیل بھیجنا پڑا۔
یہ سب کچھ تو کرلیا لیکن اس سب کے باوجود اسکی جماعت کے ایک بھی رکن اور ساتھی کوتوڑا نہ جاسکا نہ صرف یہ کہ اسوقت نہ توڑا جاسکا بالکہ تقریبا چاربرس تک تمام ظلم روا رکھنے کے باوجود نوازشریف کے ہرساتھی نے جھکنے سے انکارکردیا اورنتیجتا آج بھی مسلم لیگ ن مضبوط اورمتحد ہے اور نہ صرف متحد ہے بالکہ پہلے سے زیادہ مقبول جماعت بن چکی ہے۔
جس لاڈلے کیلئے یہ سب کچھ کیا گیا یہ محفل سجائی گئی اس نے دوسروں کا کندھا استعمال کرکے چار برس جیسے تیسے حکومت تو کرلی لیکن اپنی نااہلی سے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ملک کو سفارتی محاظ پر تنہا کردیا اور جب اس لاڈلے پر مشکل وقت آنا شروع ہوا تو اسکے اردگرد جمع لوگ منتشر ہونا شروع ہوگئے اور سب نے دیکھا کہ تحریک انصاف کے ممبران نے سرعام میڈیا پر آکر عمران خان کو چھوڑنے کا اعلان شروع کردیا۔
اس موقع پر اگر نواز شریف اور عمران خان کہ لیڈرشپ کا موازنہ کریں تو واضع فرق نظر آتا ہے کہ جسکو زورزبردستی سے نکالا گیا وہ آج بھی عوام اوراسکے چنے ہوئے نمائندوں کا قائد لیڈر اوررہبر ہے جبکہ جسکو زبردستی عوام پر مسلط کیا گیا وہ ابھی وزات عظمی کی کرسی پربراجمان ہے اور جماعتی ارکان نے سرعام آکر ساتھ چھوڑنے کا اعلان کرنا شروع کردیا ہے اسکونہ عوام قائد اور لیڈر ماننے کو تیار ہیں اور نہ ہی اس عوام کے نمائندے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔