Andy Burnham has become the United Kingdom's 59th Prime Minister, succeeding Keir Starmer after being invited by King Charles III to form a government. The former Manchester mayor, Britain's seventh PM in a decade, promised "a circuit breaker for Britain."
Spain have won the 2026 FIFA World Cup after a dramatic 1-0 extra-time victory over Argentina, ending a tightly contested final with a decisive breakthrough.
The FBI has confirmed the capture of Nitish Kaushal, a 26-year-old Indian national wanted over his alleged role as an enforcer for the Bhagwanpuria crime network. He was arrested in Vermont near the US-Canada border, the first confirmed capture among the fugitives named under Operation Hard Ball.
وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیا۔ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔ نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 351 روپے 46 پیسے جبکہ ڈیزل 331 روپے 30 پیسے فی لیٹر دستیاب ہو گا۔
Argentina scored twice in the final minutes to complete a dramatic 2-1 comeback over England in Atlanta and advance to a second consecutive FIFA World Cup final.
جسکو زورزبردستی سے نکالا گیا وہ آج بھی عوام اوراسکے چنے ہوئے نمائندوں کا قائد لیڈر اوررہبر ہے جبکہ جس لاڈلے کو زبردستی عوام پر مسلط کیا گیا اسکونہ عوام قائد اور لیڈر ماننے کو تیار ہیں اور نہ ہی اس عوام کے نمائندے
۔ 2022 سالہ جدوجہد کو 2018 میں اسوقت دوام بخشا گیا جب تحریک انصاف بالآخر جیسے تیسے کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی یا بنوا دی گئی کامیابی کا یہ سفر کیسے طے ہوا اسکی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ سب کچھ اب ایک کھلی کتاب بن چکا ہے۔
وزارت عظمی کے حصول کے جاری سفر میں آنیوالی سب سے بڑی رکاوٹ نواز شریف تھا جسکودھرنا ون اورٹو سے جب ہٹایا نہ جاسکا توپھر اسکو ہٹانے کیلئے پانامہ سے اقامہ کا سہارا لینا پڑا اسکو تاحیات نااہل کروانا پڑا اوربات یہیں تک نہ رکی نواز شریف کی جماعت کودوبارہ اقتدارمیں آنے سے روکنے کیلئے اسکے ساتھیوں کوڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی گئیں اورآخر کارالیکشن سے عین قبل نوازشریف کو اسکی بیٹی سمیت جیل بھیجنا پڑا۔
یہ سب کچھ تو کرلیا لیکن اس سب کے باوجود اسکی جماعت کے ایک بھی رکن اور ساتھی کوتوڑا نہ جاسکا نہ صرف یہ کہ اسوقت نہ توڑا جاسکا بالکہ تقریبا چاربرس تک تمام ظلم روا رکھنے کے باوجود نوازشریف کے ہرساتھی نے جھکنے سے انکارکردیا اورنتیجتا آج بھی مسلم لیگ ن مضبوط اورمتحد ہے اور نہ صرف متحد ہے بالکہ پہلے سے زیادہ مقبول جماعت بن چکی ہے۔
جس لاڈلے کیلئے یہ سب کچھ کیا گیا یہ محفل سجائی گئی اس نے دوسروں کا کندھا استعمال کرکے چار برس جیسے تیسے حکومت تو کرلی لیکن اپنی نااہلی سے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ملک کو سفارتی محاظ پر تنہا کردیا اور جب اس لاڈلے پر مشکل وقت آنا شروع ہوا تو اسکے اردگرد جمع لوگ منتشر ہونا شروع ہوگئے اور سب نے دیکھا کہ تحریک انصاف کے ممبران نے سرعام میڈیا پر آکر عمران خان کو چھوڑنے کا اعلان شروع کردیا۔
اس موقع پر اگر نواز شریف اور عمران خان کہ لیڈرشپ کا موازنہ کریں تو واضع فرق نظر آتا ہے کہ جسکو زورزبردستی سے نکالا گیا وہ آج بھی عوام اوراسکے چنے ہوئے نمائندوں کا قائد لیڈر اوررہبر ہے جبکہ جسکو زبردستی عوام پر مسلط کیا گیا وہ ابھی وزات عظمی کی کرسی پربراجمان ہے اور جماعتی ارکان نے سرعام آکر ساتھ چھوڑنے کا اعلان کرنا شروع کردیا ہے اسکونہ عوام قائد اور لیڈر ماننے کو تیار ہیں اور نہ ہی اس عوام کے نمائندے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔