پاکستانی عدلیہ کے نڈر اور اصول پسند جج قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ایسے عدالتی دور کا اختتام ہوا جس نے انصاف کی فراہمی، عدالتی شفافیت، آئینی بالادستی کو مزید مضبوط کیا۔فیض آباد دھرنا، ذوالفقار بھٹو، شوکت صدیقی کیسز جیسے تاریخی فیصلوں نے ان کی میراث کو عدلیہ کی آزادی کا استعارہ بنا دیا۔
سیاسی مقاصد کے حصول اور اداروں میں اہم تعیناتیوں کیلئے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد اب SCO اجلاس اور عدالتی چیف کی تعیناتی کے موقع پر بھی افراتفری پھیلائی جا رہی ہے۔ خلفشار کا یہ راستہ ملک و قوم کیلئے خطرناک ہے۔
کہتے تھے نواز شریف کی گردن میں رسا ڈال کر کھینچ کر وزیراعظم ہاؤس سے باہر نکالیں گے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، دھرنا سیاست نے پاکستان کو اس نہج پر پہنچایا، ریاست کے ستونوں نے بھی اچھا سلوک نہیں کیا، ایسی کونسی جماعت ہے جس نے پاکستان میں مسلم لیگ (ن) جتنا کام کیا ہو؟
حضرت محمد ﷺ کی محبت دین کی بنیادی شرط اور آپ ﷺ کی زندگی تمام انسانوں کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ رحمت اللعالمین بن کر آئے جو پوری انسانیت اور مخلوقات کے لیے آپ ﷺ کی شفقت کا ثبوت ہے۔ آپ ﷺ کا پیغام رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے وضاحت کی درخواست تاخیری حربہ ہے، الیکشن کمیشن نے فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا تو اسکے سنگین نتائج ہوں گے، واضح معاملہ کو پیچیدہ بنانے کی کوشش مسترد کی جاتی ہے۔
With JD Vance, Steve Witkoff and Jared Kushner now in Islamabad, Pakistan has become the venue for a diplomatic push that could decide whether a fragile U.S.-Iran ceasefire survives or collapses.
While New Delhi continues to sell Pakistan internally as a terrorist state, Islamabad is increasingly positioning itself as a mediator, a bridge-builder and a country whose real strategic mission is peace.
Seven foreign leaders phoned Prime Minister Shehbaz Sharif within 24 hours, publicly praising Pakistan’s role in securing the U.S.-Iran ceasefire and signalling a rare burst of direct diplomatic recognition for Islamabad.
Senior Indian Congress leader Shashi Tharoor has said India should welcome, not resent, Pakistan’s role in helping secure a US–Iran ceasefire, arguing that peace in the region is not a zero-sum outcome.
امریکی سِکھ راہنما گُرپتونت سنگھ پنّوں اور اُن کی تنظیم ’’سِکھ فار جسٹس‘‘ نے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو امن کے نوبل انعام 2027 کیلئے نامزد کر دیا۔ ناروے کی نوبل کمیٹی کو باضابطہ درخواست جمع کروا دی گئی۔
Looking to advertise?
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.