بھارت اسرائیل کی طرح عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے، مودی نیتن یاہو کی سستی کاپی ہے، پاکستان کے پاس بھارتی دہشتگردی کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں، عالمی برادری کشمیر کے مسئلہ کو نظر انداز کرے گی تو یہ کشیدگی کا باعث بنے گا۔
بھارت کے خلاف پاکستان نے کوئی بیرونی مدد حاصل نہیں کی، اپنے وسائل اور صلاحیتوں پر انحصار کیا۔ ہر فیصلہ، ردعمل اور اقدام ہماری داخلی صلاحیت پر مبنی تھا۔ مستقبل میں تنازعات صرف کشمیر جیسے علاقوں تک محدود نہ رہیں گے۔
بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، کبھی پاکستان سے الگ نہیں ہو سکتا۔ بلوچستان میں دہشتگردی بھارتی سپانسرڈ ہے، بھارت خطہ میں عدم استحکام کا ذمہ دار ہے۔ بھارت کی بلوچستان سے کوئی ہمدردی نہیں، وہ پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔
پاکستان ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کو توڑنے یا ختم کرنے کی بھارتی باتیں محض خیالی دنیا کی باتیں ہیں، پاکستان قائم رہے گا، اسے چین کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ کے آرمی چیف سے ٹیلیفونک گفتگو؛ دونوں ممالک کے باہمی دفاعی تعلقات، خطہ میں بڑھتی کشیدگی اور بدلتی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات کے بعد یہ رابطہ اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہِ سعودی عرب اور پاکستانی سفارتکاری کے مثبت اثرات؛ ایران نے پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی فوجی سربراہ اور سعودی وزیرِ دفاع کی ملاقات کو طاقت کے توازن و ردعمل کے امکانات میں ڈیٹرینس سگنل کے طور پر دیکھا گیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پڑوسی ممالک سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ایران کی عبوری قیادت کونسل نے اِس بات کی منظوری دی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل سٹرائیک نہیں ہو گا جب تک کہ اُن ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔
التقى وزيرُ الدفاع السعودي الأمير خالد بن سلمان بباكستانيّ قائد الجيش ورئيس هيئة الدفاع الفريق أول (المشير) عاصم منير، حيث جرى بحث تطورات الأوضاع المتوترة في المنطقة على خلفية الهجمات الإيرانية، إلى جانب استعراض إطار التعاون الدفاعي السعودي الباكستاني. وأعرب الجانبان عن أملهما في أن تتعامل إيران بحكمة، بما يجنّب المنطقة أي تصعيد غير ضروري ويحدّ من مخاطر الانزلاق نحو مواجهة أوسع.
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی ملاقات؛ ایرانی حملوں کے باعث خطہ کی کشیدہ صورتحال اور پاک سعودی دفاعی فریم ورک پر تبادلہِ خیال کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی کہ ایران دانشمندی سے کام لیتے ہوئے غیر ضروری تصادم سے گریز کرے گا۔
Looking to advertise?
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.