ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلز کو منظور کرتے ہوئے سات سات برس قید کی سزاؤں کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے، مختصر فیصلے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کر دیا گیا۔
شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی اور واپس آ رہی ہے، رقم کے حوالہ سے کاغذات بند لفافہ میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت کابینہ کے دیگر اراکین نے اعتراض کیا۔ پرویز خٹک
برازیل کی وفاقی پولیس نے سابق برازیلین صدر بولسونارو پر سعودی شاہی خاندان کی جانب سے دی گئی ہیرے کی قیمتی گھڑیاں اور اہلیہ کو دیئے گئے قیمتی زیورات امریکی شاپنگ مال میں فروخت کرنے پر فردِ جرم عائد کر دی۔
احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد علی وڑائچ نے 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں سابق چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست مسترد، ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنایا گیا سات، سات برس قید کی سزاؤں کا فیصلہ برقرار۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔