امارتِ اسلامیہ کے پچاس ہزار افراد خیبرپختونخوا میں داخل ہو چکے، پاکستان کی حکومتی رٹ کمزور پڑ رہی ہے، مغرب کے بعد پولیس سٹیشنز بند ہو جاتے ہیں، خدشہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں امارتِ اسلامیہ کا قیام عمل میں آ جائے گا۔
عمران خان ڈِگّی میں چھپ کر گیا اور جنرل اعجاز امجد کے گھر پر جنرل باجوہ کے گِٹّوں کو ہاتھ لگائے، اب یہ کسی اور کے گِٹّے پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ 9 مئی اور آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کی معافی مانگیں، عمر ایوب ماضی میں چمچہ گیری کرتا رہا ہے۔
انتخابات کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی پوزیشن بہتر ہو رہی ہے، بجٹ نے IMF ڈیل کے امکانات بڑھا دیئے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ FY24 کی GDP کے 0.3 فیصد تک محدود ہونے کی توقع ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 15.1 بلین ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے بہترین کارکردگی کی بنا پر ڈالر میں دنیا کی ٹاپ پرفارمر سٹاک مارکیٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، جس میں گزشتہ ایک برس کے دوران تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافہ کو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے اور حکومتی اقدامات کی بدولت مستقبل میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای یورپ میں لگژری پراپرٹیز و فائیو سٹار ہوٹلز سمیت وسیع سرمایہ کاری سلطنت رکھتے ہیں جو لندن سے جرمنی و سپین تک ہے۔ مالی طاقت خلیج فارس کی شپنگ سے سوئس بینک اکاؤنٹس و برطانوی پراپرٹیز تک 138 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔