ہر خاموشی کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ میاں صاحب نے بھی اپنی خاموشی کی قیمت وصول کی ہے اور یہ بات جتنی جلدی اور جتنی اچھی طرح سے سمجھ لیں اتنا بہتر ہے کیونکہ پھر ہمیں نہ تو میاں صاحب کے حکومت نہ لینے پر افسوس ہو گا، نہ شہبازشریف کابینہ پر اعتراض ہو گا اور نہ ہی ہم کسی کے الیکشن ہارنے اور جیتنے میں سازش کے کوئی پہلو تلاش کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی 19 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا، صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے وفاقی وزراء سے حلف لیا جبکہ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شریک ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف نے اج وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس بھی طلب کر رکھا ہے۔
میرے قائد نواز شریف ہیں جو معمارِ پاکستان ہیں، پاکستان کا جی 20 میں شمولیت کا ہدف 2030 ہے، خارجہ پالیسی میں کسی گریٹ گیم کا حصہ نہیں بنیں گے، سانحہ 9 مئی کے مجرم ہر صورت قانون کا سامنا کریں گے، فلسطین اور کشمیر میں قتل و غارت کا بازار گرم ہے، میثاقِ معیشت اور میثاقِ مفاہمت کی دعوت دیتا ہوں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف دوسری بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہو گئے، انہوں نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب میں 201 ووٹس حاصل کیے، اس سے پہلے بھی وہ اپریل 2022 سے اگست 2023 تک پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔
رف مسلم لیگ (ن) کی وزیرِ اعلٰی نہیں ہوں بلکہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کی وزیرِ اعلٰی ہوں، میرے دل میں کسی کیلئے انتقام کا جذبہ نہیں ہے، مجھے اس میں آپ سب کا ساتھ چاہیے، انشاءاللّٰه ہم ایک بہتر پنجاب بنائیں گے۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.
سعودی وزیرِ خارجہ کے پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے، خطہ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب گفتگو میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے سفارتی روابط اور سیاسی مشاورت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کی صورت میں سعودی عرب کی مدد ضرور کرے گا، پھر چاہے جو بھی حالات ہوں اور وقت کوئی بھی ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ اِس اصول پر عمل کرتے رہے ہیں کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔