پوری دنیا کو یہ واضح پیغام ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی ناقابلِ تسخیر اور اٹوٹ ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور چینی قیادت کے مابین سی پیک کی اپ گریڈیشن پر اتفاق ہوا ہے، ہم دونوں ممالک کے مابین تعاون کو نئی جہتوں تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔
انتخابات کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی پوزیشن بہتر ہو رہی ہے، بجٹ نے IMF ڈیل کے امکانات بڑھا دیئے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ FY24 کی GDP کے 0.3 فیصد تک محدود ہونے کی توقع ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 15.1 بلین ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں۔
مستقبل کا راستہ چن لیا ہے، وعدہ کرتا ہوں موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو گا، ایسے اداروں کا خاتمہ کیا جائے گا جو پاکستان پر بوجھ بن چکے، ماضی میں جب بھی ترقی کا سفر شروع ہوا کوئی حادثہ ہو گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے عید پر پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 20 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 33 پیسے کمی کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمتیں آج رات 12 بجے سے نافذ ہوں گی۔ حکومت نے یکم جون کو بھی قیمتیں کم کی تھیں، جس سے عوام کو مجموعی طور پر 35 روپے کا ریلیف ملا ہے۔
نریندر مودی کو تیسری بار وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، حالیہ انتخابات میں BJP کی کامیابی نریندر مودی کی قیادت پر بھارتی عوام کا اعتماد ہے، آئیں نفرت کو امید سے بدل دیں اور جنوبی ایشیاء کے 2 ارب لوگوں کی تقدیر سنوارنے کیلئے موقع کا فائدہ اٹھائیں۔
At a moment when Asia has been pulled towards confrontation and uncertainty, Ishaq Dar has helped place Pakistan at the centre of the diplomatic effort for peace. In the past month, his steady, coalition-building approach has turned Islamabad into a credible channel for dialogue, resulting in the Islamabad Accords.
امریکا ایران موجودہ مذاکرات میں پاکستان واحد مواصلاتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے فوری جنگ بندی کیلئے دو مراحل پر مشتمل فریم ورک تیار کر لیا جو فریقین کے سامنے پیش کیا جا چکا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر، سٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے میں رہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیلئے ڈیڈ لائن میں توسیع اور فریقین کے درمیان براہِ راست ملاقات کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر نے منگل تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دھمکی دی ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پُلوں کو اڑا دیں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کیمطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ معمول کے مالی معاملات سے متعلق سیاسی و سفارتی تناؤ جیسے تبصرے گمراہ کُن ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور ہمہ جہت شراکت داری پر مبنی ہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ پاکستان کے معاشی استحکام و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔