لیول پلیئنگ فیلڈ
نواز شریف کو وزارت عظمی سے 99 میں ہٹاکر جیل بھیجنا ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ تھا یا2002، 2008 کا الیکشن لڑنے نہ دینا ”لیول پلیئنگ فیلڈ۔“ 2017 میں وزارت عظمی سے بےدخل کرکے تاحیات نااہل کرنا بیٹی سمیت جیل بھیجنا ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ تھا؟
نواز شریف کو وزارت عظمی سے 99 میں ہٹاکر جیل بھیجنا ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ تھا یا2002، 2008 کا الیکشن لڑنے نہ دینا ”لیول پلیئنگ فیلڈ۔“ 2017 میں وزارت عظمی سے بےدخل کرکے تاحیات نااہل کرنا بیٹی سمیت جیل بھیجنا ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ تھا؟

جس مشکل صورتحال سے پاکستان کے عوام دوچار ہیں، یہاں ان کو اب امید کی ایک کرن چاہیے، وہ ٹنل کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کوئی روشنی چاہتے ہیں، ایسی روشنی جو ان کو مشکلات کے ان اندھیروں میں کوئی راستہ دکھائے، وہ روشنی جو ان کو اندھیروں سے اجالوں کی جانب لے کر جا سکے۔

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا؛ اے ابنِ خطاب! اس ذات پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، شیطان جس راستے پر آپؓ کو چلتا ہوا پا لیتا ہے وہ اس راستہ سے ہٹ جاتا ہے اور وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔

یہ ماحول دادا دادی کے بڑھاپے میں ان کا سہارا ہوا کرتا تھا، وہ پوتے پوتیوں کے ساتھ مصروف رہتے تھے اور یوں انہیں غیر ضروری ہونے یا تنہا ہونے یا بےوقعت ہو جانے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔ ہم سب نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ جس میں زندگی موت سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کی مستقل نائب مندوب آدی فرجون نے پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالہ سے پیش کی گئی رپورٹ پر کہنا ہے کہ اسرائیل کو پاکستان کی مجموعی صورتحال پر گہری تشویش ہے جہاں جبری گمشدگیاں، پرتشدد کارروائیاں، پرامن احتجاج پر کریک ڈاؤن، گرفتاریاں اور مذہبی اقلیتوں و دیگر پسماندہ گروپس پر تشدد جاری ہے۔

اکستان کے معاملات بہتری کی جانب گامزن ہیں، مستقبل میں معاشی حالات مزید بہتر ہوں گے، پاکستان کی معیشت اب پہلے سے بہتر ہے جبکہ جلد ہی مزید استحکام پیدا ہو گا

قرآن پاک کی تعلیمات وقت اور ثقافت سے بالاتر ہو کر سکونِ قلب، روشن خیالی، حکمت اور تدبر فراہم کرتی ہیں۔ اس کی مقدس آیات کے اندر ایمان کے لازوال خزانے اور ربِ کائنات کے واضح احکامات موجود ہیں جو خالق اور مخلوق کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ قائم کرتے ہیں۔

بینظیر بھٹو کی زندگی مصائب اور آزمائشوں سے بھرپور تھی، اُنہوں نے کم عمری میں ہی اپنے والد کو ایک فوجی آمر کے ہاتھوں شہید ہوتے دیکھا مگر وہ پیچھے نہ ہٹیں بلکہ پاکستان کے غریب عوام کی محبت میں نہ صرف اپنے والد کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کیا بلکہ پاکستان کو آمرانہ تسلط سے آزاد کروا کر جمہوریت کی طرف گامزن کرنے کا بھی بیڑا اٹھایا۔

برطانیہ میں پاکستانی میڈیا کے خلاف ہونے والی کارروائی کے تقریباً 90 فیصد کیسز وہی ہیں جن پر کئی سال پہلے پیمرا نے چھوٹے چھوٹے جُرمانے عائد کیے یا پھر چند پروگرامز کُچھ دنوں کے لئے بند کیے تو پاکستان میں جیسے کوئی آسمان گر پڑا تھا۔
