spot_img

Columns

Columns

News

Trump did not object to UK’s Israel settlement sanctions

US President Donald Trump did not push back on British plans to sanction Israeli settlements when briefed by Prime Minister Andy Burnham, a Western official told The Times of Israel.

UK PM Burnham announces sanctions on Israeli settlements

British Prime Minister Andy Burnham announced a package of measures targeting Israeli settlements in the West Bank, including a trade ban, a formal declaration that the occupation is unlawful, and sanctions on individuals and companies profiting from settlement expansion, calling it a decisive break from years of British hesitancy.

برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے (فلسطین) میں اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندیاں عائد کر دیں

برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے (فلسطین) میں اسرائیلی بستیوں سے تجارت پر پابندیاں عائد کر دیں۔ ڈنمارک، ناروے، پولینڈ، سپین اور سویڈن نے ”دو ریاستی حل“ کی حمایت میں مزید اقدامات کا عندیہ دے دیا۔ اسرائیل کی ”سفارتی تنہائی“ بڑھ رہی ہے۔ روئٹرز

Japan’s Sumitomo Corporation in talks to invest in Pakistan mining

Pakistan's Special Investment Facilitation Council has brought Japanese trading conglomerate Sumitomo Corporation into discussions about potential mining and minerals investment. Talks have begun, but no project, financial commitment, or timeline has been announced.

جنوبی سعودی عرب میں شہروں اور شہری تنصیبات پر حوثی باغیوں کے حملے، خواتین و بچوں سمیت 73 شہری زخمی

حوثی باغیوں کے جنوبی سعودی عرب میں شہروں و شہری تنصیبات پر حملے، خواتین و بچوں سمیت 73 شہری زخمی سعودی عرب نے حملوں کو یمن اور عرب و اسلامی خطہ کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی و خودمختاری کے دفاع کیلئے تمام ضروری اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
Opinionنواز شریف واپس آ کر کیا کر سکتے ہیں؟
spot_img

نواز شریف واپس آ کر کیا کر سکتے ہیں؟

جس مشکل صورتحال سے پاکستان کے عوام دوچار ہیں، یہاں ان کو اب امید کی ایک کرن چاہیے، وہ ٹنل کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کوئی روشنی چاہتے ہیں، ایسی روشنی جو ان کو مشکلات کے ان اندھیروں میں کوئی راستہ دکھائے، وہ روشنی جو ان کو اندھیروں سے اجالوں کی جانب لے کر جا سکے۔

Raza Butt
Raza Butt
Raza Butt is the editor of The Thursday Times.
spot_img

نواز شریف کب آئے گا؟ نواز شریف کیوں نہیں آ رہا؟ نواز شریف آئے گا بھی یا نہیں؟

بالآخر نواز شریف کی واپسی کی تاریخ (21 اکتوبر) دے دی گئی ہے اور مسلم لیگ نواز کی جانب سے بھرپور استقبال کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ نواز شریف کی واپسی کے اعلان کے بعد اب سب کے لبوں پر یہی ایک سوال ہے کہ نواز شریف واپس آ کر کیا کر سکتے ہیں؟

مستقبل کو تو اللّٰه تعالٰی کی ذات کے علاوہ کوئی نہیں جانتا لیکن اگر نواز شریف کے ماضی کی جانب نظر دوڑائیں تو کچھ اندازے لگائے جا سکتے ہیں کہ نواز شریف واپس آ کر کیا کر سکتے ہیں۔

نواز شریف کو ملکِ خداداد پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کا شرف حاصل ہو چکا ہے، یہ الگ بات ہے کہ تینوں مرتبہ انہیں اپنے منصب کی مدت مکمل نہیں کرنے دی گئی۔ نواز شریف کے تینوں ادوار پر نظر دوڑائی جائے تو ایک حقیقت بالکل واضح طور پر نظر آتی ہے اور وہ ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے کی جانے والی محنت ہے۔ موٹرویز، بجلی کے کارخانے، میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، سی پیک اور گوادر میں ترقیاتی کاموں سمیت کئی ایسے ڈویلپمنٹ پراجیکٹس ہیں جن پر نواز شریف کے تینوں ادوار میں کام ہوا اور وہ پایہ تکمیل تک بھی پہنچے۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اِس مرتبہ جب نواز شریف واپس آئیں گے تو الیکشن سے قبل وہ ایک بار پھر عوام کو مزید ڈویلپمنٹ کی نوید سنائیں گے اور کیا عوام یہی سننا چاہتے ہیں؟ اسکا جواب نفی میں ہو گا کیونکہ آج صورتحال بہت مختلف ہے۔ آج ایک ایسا وقت ہے کہ جب مہنگائی تاریخی بلندی پر ہے، عوام کو دو وقت کی روٹی کی فکر لاحق ہے، بچوں کے سکول کی فیس کی فکر لاحق ہے، بجلی کے بل ادا کرنے کی فکر لاحق ہے، گیس کے بل ادا کرنے کی فکر ہے، پٹرول تاریخی بلندی پر ہے جس کی وجہ سے گاڑی تو کیا موٹر سائیکل چلانا بھی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

عوام کیا چاہتے ہیں؟

جس مشکل صورتحال سے پاکستان کے عوام دوچار ہیں، یہاں ان کو اب امید کی ایک کرن چاہیے، وہ ٹنل کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کوئی روشنی چاہتے ہیں، ایسی روشنی جو ان کو مشکلات کے ان اندھیروں میں کوئی راستہ دکھائے، وہ روشنی جو ان کو اندھیروں سے اجالوں کی جانب لے کر جا سکے۔

ایسی مشکل صورتحال میں نواز شریف پھر عوام کو واپس آ کر کیا دے سکتے ہیں اور کس چیز کی نوید سنا سکتے ہیں؟
کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کی ایک بڑی وجہ سیاسی استحکام ہوتا ہے، اگر کسی ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہو گا تو اس ملک میں معاشی استحکام پیدا ہونا ناممکن ہو جاتا ہے اور جب تک معاشی استحکام نہیں ہو گا تب تک ملک میں عوام خوشحال نہیں ہو سکتے، معاشی استحکام ہو گا تو انڈسٹری لگے گی، معاشی استحکام ہو گا تو صنعت کا پہیہ چلے گا، معاشی استحکام ہو گا تو فارن انویسٹمنٹ آئے گی اور جب یہ سب کچھ ہو گا تو لوگوں کو روزگار مہیا ہو گا اور جب زیادہ سے زیادہ لوگ روزگار سے منسلک ہوں گے تو ان کی قوتِ خرید بڑھے گی جس سے ملک میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی اور جب معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی تو ملک معاشی طور پر آگے یعنی ترقی کی جانب بڑھے گا۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے

 کیا نواز شریف پاکستان میں معاشی استحکام لا سکتے ہیں؟

اسکا جواب جاننے کیلئے ہمیں چند برس پیچھے یعنی 2013 سے 2018 کی جانب جانا ہو گا، وہ وقت جب نواز شریف کے دورِ حکومت میں ملکی معیشت ایک درست سمت کی جانب گامزن تھی، ملک میں صنعت کا پہیہ چل رہا تھا، بجلی کے کارخانے لگ رہے تھے، لوڈشیڈنگ کا جن بوتل میں بند ہو چکا تھا اور اس سب کی وجہ سے ڈویلپمنٹ کا کام آگے بڑھ رہا تھا، جب صنعت کا پہیہ چلتا ہے تو روزگار بڑھتا ہے، جب کارخانے لگتے ہیں تو روزگار بڑھتا ہے، جب ڈویلپمنٹ ہوتی ہے تو روزگار بڑھتا ہے اور یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ جب روزگار بڑھتا ہے تو معاشی مسائل میں کمی آتی ہے، روزگار بڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈسپوزایبل انکم میں اضافہ ہوتا ہے جو ملکی معیشت میں بہتری کی ایک بھرپور علامت ہوتی ہے۔

نواز شریف اگر واپس آ کر عوام کو روشنی کی یہ کرن دکھانے اور یہ نکتہ سمجھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ معاشی ترقی سے ہی ملکی ترقی ممکن ہے تو پھر ان کیلئے آئندہ الیکشن میں ایک بہتر صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی بہتری کیلئے سیاسی استحکام ناگزیر ہے تو اب سوال یہ بھی ہے

کیا نواز شریف واپس آ کر پاکستان کو وہ سیاسی استحکام دے سکتے ہیں؟

نواز شریف اس سے قبل اپنی مخالف سیاسی قوت پیپلز پارٹی کے ساتھ میثاقِ جمہوریت کر چکے ہیں اور دوسری کئی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چل چکے ہیں، 2013 کا الیکشن جیتنے کے بعد وہ خود اپنے سب سے بڑے مخالف عمران خان کے گھر چل کر جا چکے ہیں۔

اب نواز شریف کو واپس آ کر ایک بار پھر بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا، پاکستان کو جوڑنے کی بات کرنا ہو گی، معاشی چارٹر پیش کرنا ہو گا، ایک چارٹر آف اکانومی طے کرنا ہو گا، مختلف نظریات کی حامل سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا اور اس کا مظاہرہ وہ پہلے بھی کر چکے ہیں۔
لیکن کیا اِس مرتبہ ایک بار پھر وہ اپنے سب سے بڑے حریف عمران خان کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کیلئے تیار ہوں گے؟

پاکستان اس وقت جس مشکل صورتحال سے دوچار ہے اس میں کوئی ایک اکیلی جماعت اس کا حل نہیں دے سکتی اور نواز شریف پاکستان میں شاید وہ واحد سٹیٹس مین ہیں جو زیادہ تر جماعتوں کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں، ان کے پاس تجربہ بھی ہے اور ویژن بھی موجود ہے۔

کیا نواز شریف اکیلے ایسا کر سکتے ہیں؟

نواز شریف یہ سب اکیلے کر سکتے ہیں لیکن اس کیلئے انہیں ریاست کے دوسرے اہم ستونوں کا ساتھ بھی درکار ہو گا یعنی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کا ساتھ ضروری ہو گا، نواز شریف اگر پاکستان کی بہتری کا بیڑا اٹھاتے ہیں لیکن ریاست کے دوسرے دونوں یا کوئی ایک اہم ستون ان کا ساتھ نہیں دیتے تو پھر پاکستان کو اس مشکل سے نکالنا اور آگے لے کر جانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے، اس مشکل صورتحال سے نکالنا ہے، عوام کی زندگیوں کو سہل بنانا ہے، ان کی پریشانیوں کو دور کرنا ہے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے تو پھر نواز شریف کو واپس آ کر سب سے بات کرنا ہو گی اور مستقبل کا ایک ٹھوس لائحہ عمل سامنے رکھنا ہو گا تاکہ یہ ملک آگے بڑھ سکے۔

یقیناً نواز شریف یہ سب کچھ کر سکتے ہیں!۔

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.