موضوع

Athar Minallah

الیکشن کمیشن کی درخواست تاخیری حربہ ہے، فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے سنگیں نتائج ہوں گے۔ سپریم کورٹ

الیکشن کمیشن کی جانب سے وضاحت کی درخواست تاخیری حربہ ہے، الیکشن کمیشن نے فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا تو اسکے سنگین نتائج ہوں گے، واضح معاملہ کو پیچیدہ بنانے کی کوشش مسترد کی جاتی ہے۔

A combined file photo is shown of Supreme Court of Pakistan. — FILE/THE THURSDAY TIMES

عدالت کے ہر فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے، جج کا فرض ہے وہ اس فیصلے کی پاسداری کروائے، جسٹس اطہر من اللہ

اگر کسی نے منتخب وزیراعظم عمران خان کو غیر آئینی طریقہ سے ہٹانے کی کوشش کی ہوتی تو یہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا امتحان ہوتا کہ وہ آئین کی سربلندی کے لیے کھڑی ہوتی یا نہیں۔ عدالت کے ہر فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے اور یہ جج کا فرض ہے کہ وہ اس کی پاسداری کروائے۔

A file photo is shown of Supreme Court Justice Athar Minallah, addressing to the New York city bar. — FILE/THE THURSDAY TIMES

تحریکِ انصاف مخصوص نشستوں کی مستحق ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ سپریم کورٹ

تحریکِ انصاف مخصوص نشستوں کے حصول کی مستحق ہے، تحریکِ انصاف 15 روز میں مخصوص نشستوں کے افراد کی فہرست دے، سنی اتحاد کونسل نے الیکشن 2024 میں حصہ نہیں لیا، سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی مستحق نہیں۔

A file photo is shown of Supreme Court of Pakistan announcing the judgement during PTI/Sunni Ittehad Council (SIC) reserved seat case judgement. — FILE/THE THURSDAY TIMES

اگر الیکشن 2018 کا حوالہ دیا جائے گا تو پھر پورا الیکشن 2018 کھولنا پڑے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

آپ کے لاجک کے مطابق آپ کو صفر مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں، الیکشن 2018 کی بات کریں گے تو پورا الیکشن 2018 کھولنا ہو گا، آپ کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا، کیا 2018 کے انتخابات درست تھے؟

A file photo is shown of Supreme Court of Pakistan proceedings during PTI/Sunni Ittehad Council (SIC) reserved seat case. — FILE/THE THURSDAY TIMES

یہاں سے اپنا ویژن قوم پر مسلط کیا جاتا ہے، پاکستان کو ایک بار آئینی راستے پر چلنے دو، چیف جسٹس

آئین میں کیا نہیں اور کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں، یہاں سے اپنا ویژن قوم پر مسلط کیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ آئین بنانے والوں نے ٹھیک نہیں سمجھا لہذا ہم اپنا ویژن پارلیمنٹ پر مسلط کر رہے ہیں، پاکستان کو ایک بار آئینی راستے پر چلنے دو۔

A file photo is shown of Supreme Court of Pakistan proceedings during PTI/Sunni Ittehad Council reserved seat case. — FILE/THE THURSDAY TIMES

سپریم کورٹ نے آئین کو دیکھنا ہے، جو آئین میں لکھا ہے اسی پر چلنا ہو گا، چیف جسٹس

سپریم کورٹ کا فرض ہے کہ آئین کو مدنظر رکھے، ہم مفروضوں پر نہیں چل سکتے۔ الیکشن کمیشن ایک خودمختار آئینی ادارہ ہے، جو نہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہے اور نہ ہی کسی اور کے۔ مداخلت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب الیکشن کمیشن کا کوئی اقدام غیر آئینی ثابت ہو۔ الیکشن کمیشن کی تقرری حکومت اور اپوزیشن کی باہمی رضامندی سے ہوتی ہے۔

A file photo is shown of Supreme Court of Pakistan proceedings during PTI/Sunni Ittehad Council reserved seat case. — FILE/THE THURSDAY TIMES

تحریکِ انصاف کو جماعتی انتخابات نہ کرانے کی سزا ملی، فیصلے کی غلط تشریح کا کسی کے پاس علاج نہیں، چیف جسٹس

تحریکِ انصاف کو جماعتی انتخابات نہ کرانے کی سزا ملی، فیصلے کی غلط تشریح کا کسی کے پاس علاج نہیں ہے، سرٹیفکیٹ دوسری جماعت کا جمع کرایا اور کہا کہ منسلک تحریکِ انصاف سے ہوں۔ اسوقت کے صدر عارف علوی نے اختیار ہونے کے باوجود الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

A file photo is shown of Supreme Court of Pakistan proceedings during Sunni Ittehad Council/PTI reserved seat case. — FILE/THE THURSDAY TIMES

آمر آئے تو سب ساتھ مل جاتے ہیں، جمہوریت آئے تو چھریاں نکال کر آ جاتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

جب آمر آئے تو سب ساتھ مل جاتے ہیں، وزیر اور اٹارنی جنرل بن جاتے ہیں اور جب جمہوریت آئے تو چھریاں نکال کر آ جاتے ہیں، اپنے آئین پر عملدرآمد کے بجائے دوسرے ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں، آئین کا تقدس ہے اور اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہے۔

A file photo is shown of Pakistani Supreme Court CJ Qazi Faez Isa. — FILE/THE THURSDAY TIMES

کیا تحریکِ انصاف کو ہم نے کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرائیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

الیکشن کمیشن نے منت کی تھی کہ انتخابات کرا لیں، کیا تحریکِ انصاف کو ہم نے کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرائیں؟ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا اپنی جماعت سے الیکشن نہیں لڑے، اس جماعت میں شامل ہو کر سیاسی خودکشی کیوں کی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

A file photo is shown of Supreme Court of Pakistan proceedings during Sunni Ittehad Council reserved seat case. — FILE/THE THURSDAY TIMES

انصاف کا نظام یا پاپولسٹ نظام؟

کیا ججز کو آئین و قانون کی بجائے پاپولزم کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں؟ کیا کسی مجرم کو اس بنیاد پر ماورائے قانون ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے کہ اس کے ملین فالورز ہیں؟ پاپولزم کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر بھی سوالات بن کر سامنے آتے ہیں۔

A combined file photo is shown of former Pakistani prime minister Nawaz Sharif (L), incumbent Supreme Court Justice Athar Minallah (C), and incarcerated former prime minister Imran Khan (R). — FILE/THE THURSDAY TIMES
تھرسڈے ٹائمز شائع کرتا ہے Thursday Media International