spot_img

Columns

Columns

News

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات، علاقائی پیش رفت و امن اقدامات پر تبادلہ خیال ایرانی صدر نے امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے خطہ میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے

وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔

Pakistan did what many thought impossible as Islamabad MoU enters implementation

Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیئے

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔ اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔

Pakistan-brokered Islamabad MoU takes effect after US and Iran sign accord

Shehbaz Sharif says the Islamabad MoU between the United States and Iran has taken immediate effect, with Iran set to reopen the Strait of Hormuz and Washington to lift its naval blockade.
Op-Edخدمت خلق خدا
spot_img

خدمت خلق خدا

اپنے گردو نواح میں غریب ضرورت مندوں کی خبر گیری کرتے رہا کریں،قیامت کے روز سخت حساب ہوگا کہ اللہ کے بندوں کے حقوق کس حد تک پورے کئے۔

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

بھائی ہمارے ابو فوت ہوگئے ہیں،والدہ عدت میں ہیں،ہماری کچھ امداد کردیں۔پوچھنے پر بچی نے اس علاقے کا بتایا جہاں اس کا خاندان مقیم ہے۔چونکہ آج کل بہت فراڈ چل رہا ہے اس لئے بچی سے تقاضا کیا کہ بیٹا گھر میں کسی کا نمبر دے دیں انشاءاللہ راشن کل پہنچادیں گے۔بچی نے کہا بھائی میں ہی سب سے بڑی ہوں امی کے بعد،میرے پوچھنے پر کہ بیٹا کوئی چچا تایا یا ماموں ہیں تو اس بچی کے جواب نے مجھے کئی دن تک بے سکون رکھا۔بچی نے کہا اگر وہ ہماری مدد کرتے تو آپ لوگوں کے آگے ہاتھ کیوں پھیلاتے۔شاید حالات کی سختی نے اس کم عمر بچی کو اپنی عمر سے بڑی بات کرنا سکھا دیا تھا۔یہ چند دن پہلے ہی کی بات ہے دکان پر موجود ایک سیل مین نے کہا کہ یہ پروفیشنل مانگنےوالے ہیں۔ جںکہ میرا ماننا تھا کہ اس بچی کے لہجے میں سختی شاید خود کو معاشرے کی درندگی سے بچانے کےلئے تھا۔

ایسے کئی واقعات ہمیں حال ہی میں کرونا کی پہلی لہر کی سختی کے دوران دیکھنے کو ملے لیکن اس سے پہلے اس بات کا جواب ،جو سوال سب سے ذیادہ پوچھا جاتا ہے کہ سوشل ویلفیئر کا کام کیسے اور کیا سوچ کر شروع کیا۔ یہ سب شروع کیسے ہوا اس کا جواب تو یہ کہ سوشل میڈیا پر ایک بچی جس کی ایک بہن جگر کی بیماری کی وجہ سے فوت ہوئی کےعلاج کےلئے لوگوں سے امداد کی اپیل سے شروع ہوا۔ خیال کیسے آیا کہ سوشل میڈیا کا استعمال اس کام کےلئے کیا جائے تو اس جواب یہ کہ میرے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کی پہنچ اچھی تھی اور اکثر ٹویٹس وائرل ہوجاتی تھی تو سوچا کیوں نا اس نیک کام کےلئے اس کو استعمال کیا جائے۔ نیت صاف تو منزل آسان،اور اللہ نے کب کہاں سے اسباب بنائے آج بھی سوچنے بیٹھوں تو سمجھ نہیں آتی البتہ اللہ کے رزاق ہونےپر ایمان مزید پختہ ہوجاتا ہے۔

کرونا سے قبل ہم لوگ پچھلی سردیوں میں غریب بچوں کے لئے ملک کے تقریبا تمام شہروں میں گرم کپڑے،رضائیاں اور گرم جرابیں بھیج چکے تھے ساتھ ہی کچھ غریب خاندان کی بیٹیوں کی شادیاں،کچھ مریضوں کا علاج و کفالت کا انتظام کرچکےتھے اس لئے ہم نے کرونا کے ایام میں سفید پوش غریب خاندانوں کو راشن پہنچانے کا کام شروع کیا۔ اللہ رب العزت نے بہترین اسباب بنائے اور ہم نے باکمال اور اللہ کے بہترین لوگوں کی مدد سے ملک کے تمام ہی شہروں حتی کہ فاٹا،آزاد کشمیر،بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بھی اللہ کے فضل سے راشن پہنچایا۔ راشن کے بعد رمضان میں افطار،غریب بچوں کےلئے ملک کے مختلف شہروں میں غریب بچوں،بزرگوں کےلئے کپڑے،ملک بھر میں کرونا سے لڑنے والے اسٹاف کےلئے پی پی ای کٹس ،ماسک اور سینیٹائزرز بھیجے۔ اس سب کام میں ہم نے حتی الامکان کوشش کی کہ شفافیت کو یقینی بنائیں،کیسز کی ویریفکیشن کروائی گئیں،جہاں اللہ کے نیک بندوں سے واسطہ پڑاوہیں بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑا جو فراڈ نکلے۔ گوجرانوالہ میں ہم نے ایک آٹو رکشہ چلانے والے بزرگ کےلئے تین بار راشن بھیجا ہر بار وہ کسی ضرورت مند ہمسائے کو دیکر آگئے،جبکہ ایسے نیچ لوگ بھی ملے جنہوں مری ہوئی ماں کے نام سے جھوٹی میڈیکل رپورٹس بنائی ہوئی تھیں۔ 

اس وقت ہم دو پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں،ایک گرم کپڑے ملک کے مختلف شہروں میں غریب بچوں کے لئے بھجوارہے ہیں اور دوسرا سرد علاقوں میں ٹھنڈ سے بچنے کےلئے غریب خاندانوں کے لئے رضائیاں۔ ہم سے اکثر سوال ہوتا کہ کیسے یہ کام شروع کرسکتے،آپ اپنے گردو نواح میں ایسے گھروں کو ڈھونڈ سکتے جہاں دو وقت کا کھانا مشکل سے میسر آرہا ہے۔ آپ ان کی خبر گیری کرسکتے ہیں،آپ ہم سے اپنے شہروں میں بسنے والی بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفالت کا ذمہ لے سکتے،آپ کسی یتیم بچے/بچی کو پڑھانے کا ذمہ لےسکتے ہیں۔ کسی غریب کی بیٹی کی شادی کرواسکتے ہیں۔کسی غریب مریض کی تیمارداری کریں اور استطاعت ہونے پر امداد کریں۔ایسے کئی کام شروع کرکے آپ اللہ کے بندوں کے حقوق پورے کرسکتے ہیں۔ ہم نےاس کام میں مکمل کوشش کی کہ لوگوں کو ان کے مذھب،رنگ و نسل پر نہیں پرکھا صرف ضرورت پر جانچا۔ اس بلاگ کا مقصد آگاہی ہے قطعی خود نمائی نہیں،ہم کچھ کیسز کے حوالے سوشل میڈیا پر بھی اس ہی لئے شیئر کرتے کہ ایک تو شفافیت رہے دوسرا آگاہی پھیلے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اس کام سے جڑتے جائیں۔کچھ دن پہلے ایک بھائی نے میسج کرکے کہا کہ آپ کی وجہ سے تین یتیم بچوں کو اسکول میں داخل کروایا ہے۔ خوشی اس بات سے ملتی ہے۔

اپنے گردو نواح میں غریب ضرورت مندوں کی خبر گیری کرتے رہا کریں،قیامت کے روز سخت حساب ہوگا کہ اللہ کے بندوں کے حقوق کس حد تک پورے کئے۔

The contributor, Aadi Roy, is a social media activist.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.