سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثی باغیوں کا ڈرون مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا۔ عسکری اتحاد کے مطابق یہ مکہ پر حملے کی حوثیوں کی دوسری کوشش تھی۔ مکہ اور مقدس مقامات کی سلامتی کو ”ریڈ لائن“ قرار دے دیا گیا۔
Jemima Goldsmith, Imran Khan's ex-wife, has married Irish-Australian financier Cameron O'Reilly in a private ceremony, more than two decades after her divorce from the former Pakistani PM.
Malaysian PM Anwar Ibrahim refused to be drawn into India's attempt to brand Pakistan a state sponsor of terrorism, telling an Indian anchor directly that his own intelligence found no evidence to support the claim.
پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف! وزیراعظم نے موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے خصوصی ریلیف سکیم کا اعلان کر دیا۔ موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی کو ماہانہ 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کو 30 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف ملے گا۔
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
دو ھزار اٹھارہ کے فتنہ انگیز انتخابات کے بعد وزیراعظم بننے والے عمران خان نے اپنی افتاد طبع کے مطابق جس طرح اپنی سیاست کو گالم گلوچ اور حقائق سے دوری پر استوار کیا اسی طرح اپنے پیروکاروں کی تربیت بھی کی اور انھیں ایک عجیب و غریب ”سیاسی شعور“ فراہم کیا جہاں سے بے سروپا اور حقائق سے ماورا سوالات بہم اُٹھ رہے ہیں ،دلچسپ بات یہ ہے کہ الزام و زم کی قمچیاں بنتی زبانوں کی زد میں نہ ایبڈو کا سرکس سجاتا ایوب خان آتا ہے ،نہ ملک کو دولخت کرتا یحیٰی خان نہ کوڑوں اور پھانسیوں کے بازار سجانےوالا ضیاء الحق اور نہ ملک کو آگ میں جھونک کر فرار ہونے والا پرویز مشرف بلکہ صرف وہ لوگ آتے ہیں جو جمہوری جدوجہد کے حامی بنتے ہیں۔ یہ سوالات صرف جمہوریت سیاست اور سیاستدانوں پر اُٹھائے جا رہے ہیں ،اس کی پہنچ نہ کسی عہدِ آمریت تک ہے نہ ھی کسی آمر کے گریبان تک۔
یہ سوالات ہیں بھی کیا؟ محض بے معنی بہتان ترازی ،گالم گلوچ اور چور چور کی بے بنیاد تکرار جسے دھرانے والوں کو خود بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کر رھے ہیں اور ان کا مقصد و منزل کیا ہے بلکہ ”طوطا زبانی“ انہیں بے سمت راھوں اور بے درک سنگ میلوں کے بھٹکتے راھی بنا چکی ہے۔ ظاہر ہے ان بے سر و پا سوالات پر بحث ایک کار فضول ھی ہے لیکن آمروں اور سیاستدانوں کا تقابل کرنے میں حرج کیا ہے؟
ایوب خان اس ملک کا پہلا ڈکٹیٹر تھا اس کا تعلق ھری پور کے ایک عام گھرانے سے تھا لیکن دس سال تک بزور قوت حکومت کرنے کے بعد وہ ”باعزت“ طور پر گھر چلے گئے تو آمریت کی روایت اور اپنے بیٹوں کے لئے انڈسٹریل ایمپائر (گندھارا انڈسٹریز) کے علاوہ گوہر ایوب سے عمر ایوب تک ہمارے لئے وراثت میں چھوڑ گئے۔ اور پھر ٹرکوں پر ” تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد ”جیسے دلفریب جملے کے ساتھ اس کے تصاویر“ کہیں سے اچانک نمودار ھونے لگے۔ یحٰی خان وہ ڈکٹیٹر تھے جس نے الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے والے شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار سونپنے سے انکار کیا حتی کہ ملک کو دو لخت کیا لیکن جیل تو دور کی بات ہے کوئی جی آئی ٹی تک نہیں بنی یہاں تک کہ حمود الرحمن کمشن رپورٹ بھی پردہِ اخفا میں چلی گئی، کیونکہ یحیی خان کوئی جمہوری سیاستدان نہیں بلکہ ایک آمر تھے۔
ضیاء الحق اس ملک کے ایک خوفناک ڈکٹیٹر تھے ، منتخب وزیراعظم کا نہ صرف تختہ اُلٹ دیا بلکہ اسے پھانسی پر بھی چڑھایا ،پیپلز پارٹی کے کتنے کارکنوں پر کوڑے برسائے اور کتنوں کو پھانسیاں دیں لیکن موصوف کا بیٹا آج بھی ایوب خان کے خاندان کی مانند اسمبلی میں بیٹھا نظر آئے گا۔ رھا بھٹو کا عدالتی قتل اور اس کے بارے میں تحقیقات تو اسے ھاتھ لگانا تو اس کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی بس میں بھی نہ تھا۔ سو، یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ھوا۔ پرویز مشرف نے اپنے پیشہ ور جنرل ضیاء کی روایت نبھائی اور منتخب وزیراعظم نواز شریف کا نہ صرف تختہ اُلٹا بلکہ خاندان سمیت جیلوں میں ڈالا اور بعد میں جلا وطن کیا، موصوف ایک پراسرار جنگ ایک ٹیلیفون کال پر اپنے ملک لے آیا اور دو عشروں تک اس ملک کے دروبام خُون سے نہلا دئیے لیکن ”کمردرد“ نے اس کے گرد ایسا حصار کھینچا کہ آئین و قانون قریب بھی نہ پھٹک سک۔
اب آتے ہیں سیاست اور سیاستدانوں کی جانب۔ ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان ایک بھرے جلسے میں مار دئیے گئے پتہ نہیں اس نوابزادے نے وراثت میں اپنی نفیس اور پڑھی لکھی بیوی رعنا لیاقت علی خان کے علاوہ کیا چھوڑا۔ کسی کو نہیں معلوم۔ سیاستدان فیروز خان نون وزیراعظم نہ بنتے تو سونے کی چڑیا گوادر شاید آج بھی دوسرے ملک اومان کا حصہ ہوتا۔ فیروز خان نون کی وراثت کا تو کسی کو نہیں معلوم لیکن ملک کے اس عظیم محسن کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا سب کو علم ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو بے حوصلہ موسموں اور پُر آشوب حالات میں وزیراعظم بنے تو پہلا کام یہ کیا کہ بد ترین دشمن ھندوستان کی قید سے وطن کے نوے ہزار بیٹوں کو چھڑا کرلے آئے اور آمریتوں کے شکار ملک کو ایک متفقہ آئین دیا لیکن یہی محسن ایک تاریک رات کو پھانسی پر جھول گئیے اور اس کی بیوی اور بیٹی کو وراثت میں قید و بند ہی ملی، صنم بھٹو کے علاوہ تمام بہن بھائی غیر طبعی موت مرے، بے نظیر بھٹو ساری عمر آمریتوں سے ٹھکراتی رہی اور پھر ایک سڑک پر خون میں لت پت اس کی لاش پڑی تھی جبکہ شوہر ھمیشہ قید و بند ھی بھگتتے ر ھے کیونکہ وہ ایک سیاستدان ہے اور اس ملک میں صرف عمران خان یا شیخ رشید مارکہ سیاست کی اجازت ہے ورنہ آپ یا تو غدار ہیں یا چور! نواز شریف بھی چونکہ ایک سیاستدان اور جمہوریت کے شدید حامی ہیں، اس لئیے بیک وقت غدار بھی ہیں اور چور بھی۔
سو یہ غدار ملک کو دفاعی طور پر مضبوط بنانے کے لئے ایٹمی دھماکے کرے یا ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے سی پیک اور موٹرویزکا جال بچھادے۔ رہے گا غدار ہی یا سزا صرف اقامے پر کاٹتا رہے گا کیونکہ وہ ایک،چور ہے، اور یہ ”غدار اور چور“ کھبی جلا وطنی کاٹے گا تو کھبی قید و بند کاٹتا رہے گا اور وہ بھی کسی ”کمردرد“ کے بغیر کیونکہ وہ قمیض شلوار میں ملبوس اور عوام سے ووٹ لیتا ایک جمہوری سیاستدان ہی ہے،اور یہ بھی یاد رہے کہ جہاں سے ڈکٹیٹر مشرف خوفزدہ ہو کر بھاگ رہا تھا وہاں “یہ چوراور غدار” مشکل حالات میں اپنی بیٹی سمیت وطن لوٹ کر سزا کاٹنے واپس آرہا تھا اور یہ صرف وزر ء اعظم پر کیا موقوف فاطمہ جناح، عبدالغفار خان، ولی خان، جی ایم سیّد، اکبر بگٹی، بزنجو، مفتی محمود، مودودی، عطا اللہ مینگل اور جام ساقی تک ایک دراز سلسلہ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سیاسی کارکن بھی شامل ہیں۔ کوئی غددار ٹھرا تو کوئی چور۔
سو کہنا یہی ہے کہ سیاستدانوں کی کمزوریوں پر بے شک سوال اُٹھائے جائیں لیکن دوسری سمت موجود آمر طبقے کو سوال سے مبّرا سمجھنا نہ ہی انصاف ہے اور نہ ہی دانائی۔ کیونکہ وہ زمانہ تو کب کا لد چکا جب ذھن سازی ریڈیو پاکستان یا پی ٹی وی کے خبرنامے کے ذریعے کر وائی جا تی تھی بلکہ ٹرکوں کے پیچھے کسی ڈکٹیٹر کی تصویر اور اس پر لکھے کسی دلفریب جملے کے ذریعے بھی۔ کیونکہ یہ اس زمانے میں آسانی کے ساتھ قابو آنے والا چلتا پھرتا میڈیا تھا لیکن ڈیجیٹل انقلاب اور سوشل میڈیا کی آمد نے روایتی حربوں کے ذریعے ذھن سازی کو اڑا کر رکھ دیا ہے۔ اور اسی با خبری نے شعور کے دروازے دروازے بھی کھول دیئے ہیں۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔