Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
An official KP government letter has contradicted claims that the Tirah Valley evacuation was the result of a military operation, revealing it was a voluntary civilian-led decision agreed through jirgas and prompting questions over the handling of Rs 4 billion in relief funds.
Pakistan has ruled out any move against Palestinian interests, rejected participation in any mission to disarm Hamas, and clarified that no decision has yet been taken on joining an international stabilisation force, according to a high-level security briefing.
این اے پچھتر ڈسکہ کا الیکشن اپنے اختتام کو پہنچا ، نتیجہ وہی نکلا جو اس حلقے کے عوام چاہتے تھے۔ اس الیکشن کو ہارنے کے لیے حکومت ِوقت نے جو جتن کیے وہ ایک ہتک آمیز داستان ہے۔ انیس فروری کو اسی حلقے میں پی ٹی آئی کے امیدوار اسجد ملہی کامیابی سے ہمکنار ہوئے تھے لیکن اس کامیابی کے پیچھے جو مجرمانہ سازشیں کی گئی تھیں وہ اب طشت از بام ہو چکی ہیں۔ کبھی فائرنگ کر کے لوگوں کو دھمکایا گیا، کبھی دھند کا بہانہ بنایا گیا ، کبھی پولنگ کے عملے کو اغوا کیا گیا ، کبھی نتائج کسی فیکٹری میں مرتب کیے گئے۔ یہ کارروائی اس قدر عریاں طریقے سے کی گئی کہ الیکشن کمیشن سے بھی نہ رہا گیا، دوبارہ الیکشن کا اعلان ہوا۔
پی ٹی آئی نے اس پورے حلقے میں الیکشن کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی مگر ان کی ایک نہ چلی۔ دوبارہ الیکشن ہوا، مسلم لیگ ن کی نوشین افتخار قریباً سترہ ہزار ووٹ سے جیت گئیں۔ دھاندلی کی کوئی شکایات نہیں آئی کیوں کہ پورے ملک کی نگاہیں اس حلقے پر تھیں، الیکشن کمیشن خصوصی طور پر لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کر رہا تھا۔ پولیس اور سیکورٹی کے ادارے چوکس تھے اور اس طرح ڈسکہ کے عوام کو ان کا جمہوری حق مل گیا۔ یوں تو یہ قومی اسمبلی کی ایک نشست کا معاملہ تھا لیکن اس کے عمومی نتائج بہت دُورس ہیں ،بات بہت دور تک جاتی ہے، جو نتائج ہم اس ضمنی انتخاب سے اخذ کر سکتے ہیں وہ بہت واضح ہیں:
پہلا نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ دو ہزار اٹھارہ میں بھی انتخابات کا خصوصاً پنجاب میں یہی نتیجہ ہوتا لیکن ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا، پورے ملک میں نتائج تبدیل کروائے گئے،پورے ملک میں منظم دھنادلی کروائی گئی۔ کہیں آر ٹی ایس سسٹم کو بٹھادیا، کہیں پولنگ سست رفتار سے کی گئی ، کہیں لوگوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ اگر یہ دھاندلی نہ ہوتی تو آج نہ عمران خان وزیر اعظم ہوتے نہ عثمان بزدار وزیر اعلی پنجاب کی کرسی پر براجمان ہوتے ،نہ کرپٹ وزرا کی فوج ظفر موج ہمارے سروں پر مسلط ہوتی۔
دوسرا نتیجہ یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دھاندلی کر کے ایک بار تو الیکشن جیتا جا سکتا ہے مگر یہ کارروائی بار بار نہیں ہو سکتی۔ ایک مقام آتا ہے جہاں عوام اپنے جمہوری حق کو چھین کر حاصل کرنے کے ہنر سے واقف ہو جاتے ہیں پھر کوئی سازش، نہ کوئی غیر جمہوری طاقت انھیں ان کا حق لینے سے روک سکتی ہے۔
تیسرا نتیجہ یہ نکالا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن بدل رہی ہے، ایک قدامت پسند جماعت اب خواتین امیدواروں کی بہادری کے قصے سنا رہی ہے، جس کا سہرا مریم نواز کے سر جاتا ہے، انھوں نے اس پارٹی کے کلچر میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں، اب خواتین کی اہمیت اس جماعت میں بڑھ گئی ہے، ان کے زورِ بازو پر انحصار کیا جا رہا ہے۔
چوتھا نتیجہ یہ نکالا جا سکتا ہے کہ اب عوام کو اپنے ووٹ کی حفاظت کا ہنر آ گیا ہے، اب اس طرح کی سازشوں کا مقابلہ کرنا انھیں آ گیا ہے، اب وہ ووٹ دینا بھی جانتے ہیں اور اس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں، اب انھیں اپنے جمہوری حق کا تحفظ چاہیے، اب وہ یہ حق چھین لینے کی استعداد رکھتے ہیں، اب وہ اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والی قوتوں کو بے نقاب کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
پانچواں نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ گذشتہ پانچ سال سے ن لیگ کے خلاف ہونے والی کارروائیاں بے اثر رہی ہیں، جب بھی منصفانہ الیکشن ہوں گے ن جیتے گی۔ نواز شریف کے خلاف میڈیا جتنی چاہے شر انگیز مہم چلا لے لیکن نواز شریف کو عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ عوام نے گذشتہ پانچ سال کی قبیح شر انگیزی کے خلاف نہ صرف ڈسکہ میں ووٹ دیا بلکہ وہ اب ہر مقام پر اپنے قائدین کا دفاع کرنے کو تیار ہیں۔
چھٹا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے لوگ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابی نتائج پر تاسف کا اظہار کرتے ہیں ،وہ ملک کی اس بربادی کے خلاف ووٹ کے ذریعے احتجاج کرتے ہیں ، وہ معیشت کی اس ابتری کے خلاف ہر جگہ اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں۔ اب انھیں اس ظلم کا احساس بھی ہو گیا ہے جو دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں ان کے ساتھ ہوا ، اب انھیں اس سازش کا بھی علم ہو گیا ہے جو مقبوضہ میڈیا کی مدد سے ان کے قائدین کے خلاف کی گئی ہے۔
ساتواں نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ لوگوں کو ایک بار تو میڈیا کی مدد سے دھوکہ دیا جا سکتا ہےلیکن یہ دھوکہ مسلسل نہیں دیا جا سکتا۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب لوگوں کواحساس زیاں ہوتا ہےوہ تاسف کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے میں وہ ووٹ کی طاقت سے اپنے غم وغصے کا اظہار کرتے ہیں۔
آٹھواں نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ لوگوں کو ڈسکہ کے الیکشن سے یہ احساس ہو گیا ہے اسجد ملہی ان کے قائد نہیں، انھیں ان کے سروں پر زبردستی مسلط کیا جا رہا تھا۔ اسی طرح انھیں احساس ہو گیا ہےکہ عمران خان ان کے قائد نہیں بلکہ ایک ایسے شخص ہیں جسے دھونس اور دھاندلی سے ان کے سرپر بٹھا دیا گیا ہے۔ یہ حکومت اور صوبائی حکومتیں کسی جمہوری سوچ کے ذریعے عمل میں نہیں آئیں بلکہ ایک سازش اور منصوبہ کے تحت ان پر مسلط کی گئی ہیں۔
نواں نتیجہ یہ نکل سکتا ہے لوگوں کو احساس ہو گیا ہے کہ اگر دو ہزار اٹھارہ میں بڑے پیمانے پر منظم دھاندلی نہ کی جاتی تو نواز شریف آج وزیر اعظم ہوتے،اسحاق ڈار وزیر خزانہ ہوتے، ترقی کے منصوبے لگ رہے ہوتے، معشیت ترقی کر رہی ہوتی، غربت اور بے روزگاری کم ہو رہی ہوتی، یہ احساس ِزیاں ان کے دلوں میں ہر روز توانا ہوتا جا رہا ہے، اب ان کو زبان بھی مل گئی ہے، احتجاج کے طریقے بھی سمجھ میں آ گئے ہیں۔
دسواں نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ لوگوں کو احساس ہوتا جا رہا ہے کہ جو مہنگائی ، معاشی ابتری، غربت اور بے روزگاری اس حکومت میں ان کا مقدر بن گئی ہے، یہ قدرتی آفات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک سازش کار فرما ہے جو اپنے ملک کے عوام کے خلاف ہے، جو ان کی مفلسی کا تمسخر اڑا رہی ہے۔ یہ سب کچھ جان بوجھ کر گیا ہے، اس ملک کے عوام کو سوچی سمجھی سازش کے تحت اندھیروں میں دھکیلا گیا ہے۔
گیارواں نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ عوام کسی بھی جمہوری نظام میں حتمی قوت ہوتے ہیں۔ کوئی کتنا بھی طاقتور ہو ،عوام کی قوت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
بارہواں نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ سب ادارے زر خرید نہیں ہوتے،ہر ادارے کا سربراہ کمپرومائزڈ نہیں ہوتا۔ الیکشن کمیشن اگر دباؤقبول نہ کرے تو اس ملک میں شفاف اور منصفانہ الیکشن ہو سکتا ہے، لوگوں کو ان کا جمہوری حق مل سکتا ہے۔
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔