The FBI has confirmed the capture of Nitish Kaushal, a 26-year-old Indian national wanted over his alleged role as an enforcer for the Bhagwanpuria crime network. He was arrested in Vermont near the US-Canada border, the first confirmed capture among the fugitives named under Operation Hard Ball.
وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیا۔ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔ نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 351 روپے 46 پیسے جبکہ ڈیزل 331 روپے 30 پیسے فی لیٹر دستیاب ہو گا۔
Argentina scored twice in the final minutes to complete a dramatic 2-1 comeback over England in Atlanta and advance to a second consecutive FIFA World Cup final.
For the first time, more people view China favourably than the US across most of 36 countries surveyed, Pew Research Center finds, with more expressing confidence in Xi than Trump. The US leads China in just six countries. In Pakistan, 84% call China a reliable partner against 36% for the US.
پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار 4722 ارب روپے (تقریباً 17 امریکی ڈالرز) کا قرض مقررہ وقت سے پہلے ادا کر دیا۔
رواں مالی سال 2900 ارب روپے کی ادائیگیاں ہوئیں۔ ادا کیے گئے قرض میں 51 فیصد سٹیٹ بینک، 49 فیصد دیگر مالیاتی اداروں کا شامل ہے۔ مشیرِ خزانہ
Hammad Hassan has been a columnist for over twenty years, and currently writes for Jang.
ایک منظر یہ ہے
سپریم کورٹ آف پاکستان سے ہمیشہ کے لیے نا اھل کئے گئے اور عوام کا چینی پر چمڑا اتار دینے والے جہانگیر ترین کے ارد گرد ممبران قومی و صوبائی اسمبلی تو کیا وزراء اور مشیروں تک کا ایک غول نہ صرف اکٹھا ہوا (یا اکٹھا کیا گیا؟)بلکہ ماضی قریب میں طاہر القادری اور خادم حسین رضوی کے جان نثاروں کی مانند ترین کے جان نثاروں نے بھی ٹیلی ویژن چینلوں کا رخ کیا اور انہیں میڈیا میں کسی اشارہ آبرو بلکہ اشارہ وٹس اپ پر اسی طرح ہاتھوں ہاتھ لیا جانے لگا جس طرح کچھ عرصہ پہلے طاہر القادری اور خادم حسین رضوی تو کیا سرگودھا کے کسی مقامی پیر کو ایک عدد فتوے کے ساتھ بانس پر چڑھا دیا گیا تھا
لیکن جیسے ہی منظر نامہ بدلا تو سٹیج ویران اور سکرین انجان ہوتے گئے
قادری صاحب خاک بن کر وہاں جا پہنچے جہاں کا خمیر تھا
خادم حسین رضوی مرحوم فیض آباد کا معرکہ سر کرنے کے بعد گوشہ نشین ہو گئے
جبکہ سرگودھا کے پیر صاحب بھی پیر غائب بن کر سیاست سے پردہ کر گئے
ایک منظر یہ ہے
علامہ خادم حسین رضوی مرحوم جن کی سیاسی جدوجہد پین دی سری سے شروع ہو کر فیض آباد دھرنے اور اجرت لینے کے ساتھ اختتام کو پہنچی ھی والی تھی کہ رضوی صاحب اچانک داغ مفارقت دے گئے تو اسی دن یہ انکشاف ہوا کہ اس بد بخت قوم کا اصل مسیحا تو ان کا نوجوان بیٹا سعد رضوی ہی ھے جو موقع ملتے ہی اس ملک کی ڈولتی ہوئی کشتی کو پار کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے. اسی سعد رضوی کو اچانک گرفتار کر کے ہیرو کی مسند پر بٹھا دیا گیا. کیا ہوا جو ایمبولینس روکے گئے عام لوگوں کی ذاتی گاڑیاں توڑی گئیں پولیس پر تشدد کیا گیا اور بلوہ فساد ہوا. لیکن اس “عظیم فائدے ” کی داد بھی تو دیں کہ نئے سیاسی منظر نامے میں رنگ بھرنے کے لیے قدرے کار آمد ہیرو کا تعارف بھی تو ہوا . کیا ہوا جو ووٹ نہیں پڑ رہے ہیں آخر یہ آر ٹی ایس سسٹم کس مرض کی دوا ہے
ایک منظر یہ بھی ہے
یادش بخیر آصف علی زرداری آخری اطلاعات آنے تک بھٹو کی وراثت کے ساتھ وہ کام کر چکے ہیں جو عمران خان پاکستان کے ساتھ کر چکے ہیں. گئے زمانے میں موصوف اینٹ سے اینٹ بجانے کا فلسفہ عملی صورت میں لانے ھی والے تھے کہ اپنے عظیم المرتبت مرشدوں یعنی حاجی عزیر بلوچ اور حضرت منظور کاکا وغیرہ کی گمشدگی سے پریشان ہو گئے اور اینٹوں والا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا. سنا ہے کہ اندرون سندھ مخالف جماعتیں خصوصا جمیعت علماء اسلام کھپ ڈال چکے ہیں اور پچھلے الیکشن میں بلاول بھٹو زرداری لاڑکانہ جیسا حلقہ بھی بمشکل معمولی مارجن کے ساتھ بچ گیا تھا پنجاب میں نواز شریف بھی گھسنے نہیں دیتا اس لئے عقل کا تقاضا ہے کہ پی ٹی آئی ق لیگ اور شیخ رشید ٹائپ سیاست پر توجہ دی جائے
چونکہ زرداری صاحب ہوشیار بہت ہیں اس لئیے بہت دور کی سوچتے ہوئے عوامی کی بجائے عقلی سیاست پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں.باپ سے معاملات کافی آگے بڑھ چکے اور تحریک لبیک سے الیکشن کے دنوں میں بڑھ جائیں گے
ایک منظر یہ بھی ہے
اے این پی بھی زرداری صاحب کے شانہ بشانہ کھڑی ” جمہوریت کی جنگ کا ھراول دستہ ” ہے . پہلے لوگوں کو اس پارٹی کی تاریخ کا پتہ تھا لیکن اب مستقبل کا بھی پتہ ہے. اسفندیار ولی اور سراج الحق میں صرف پختون ہونا نہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ مشترک ھے خصوصا سیاسی حوالے سے . صورتحال میں اچانک ڈرامائی تبدیلی نہیں آئی تو اعظم ہوتی کے فرزند حیدر ہوتی کو وزیر اعلی اور سید معصوم شاہ کو دوبارہ اس کا مشیر ہی سمجھیں
آخری اطلاعات آنے تک ” یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پارٹی کے اصل قائد کون ہیں البتہ معلوم ہوا ھے کہ بعض معاملات ” کے حوالوں سے گفت و شنید جاری ھے اور آصف علی زرداری کی “دانش ” سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے
اور ایک منظر یہ بھی ہے
وہ پی ٹی آئی ھے اور یہ جماعت اسلامی وہ ق لیگ ھے اور یہ شیخ رشید وہ جنوبی پنجاب کے چند شتر بے مہار ہیں اور یہ بلوچستان کے مرغ باد نما وہ ایم کیو ایم اور یہ جی ڈی اے
سو کسی کوکنگ شو کی مانند یہ تمام” ریسیپیز ” ابھی مختلف “برتنوں “میں ڈال کر سکرین کے سامنے ایک دیدہ زیب روپ میں کسی شیلف پر رکھے جائیں گے جس کے بعد بظاہر کوئی کک یا لیڈر؟( نام دینا آپ کا اپنا صوابدید ھے ) نمودار ہوگا جو ان اجزاء کی اشتراک سے عوام کے لئے اسی طرح کا ایک ملغوبہ بنانے لگ جائےگا جس طرح عمران خان ایک ھانڈی چڑھا چکا تھا جس کے گرد اس بوڑھی عورت کے یتیم بچوں کی مانند ایک ایک غول اکٹھا ہو کر خالی ھانڈی پکنے کا منتظر تھا لیکن بعد میں اس سے ایک کراہت بھری تعفن ھی برآمد ہوئی. سو اس نئے ملغوبے کو بھی غربت اور بھوک سے دو چار عوام پیٹ کی نظروں اور جذبات کی آنکھوں سے دیکھیں گے اور پھر وہی کچھ ہوگا جو اس بد نصیب قوم اور بد بخت وطن کے ساتھ ہمیشہ ہوتا چلا آیا ھے. کیونکہ ایک ایک منظر جانا پہچانا ہے
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔