پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔
Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.
سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے اپنے حالیہ انٹرویو میں چند بڑے انکشافات کیے ہیں
سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کیمطابق وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے انکو فون کرکے بلوایا گیا جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں پر انکے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور مشیراحتساب شہزاد اکبر انکو وزیراعظم کے پاس لے گئے
دوران گفتگو وزیراعظم نے کہا کہ بشیرآپ نے بڑا تگڑا اور اچھا کیس بنانا ہے مختصر ملاقات کے بعد مشیراحتساب شہزاد اکبر مجھے اپنے دفتر لے گئے اور وہاں جاکر بتایا کہ وزیراعظم جسکے خلاف کیس بنانے کا کہہ رہے ہیں وہ جسٹس قاضی فائیز عیسی ہیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ خدا کا خوف کریں ایسا کیسے ہوسکتا ہے
اسکے بعد شہزاد اکبرمجھے وزیرقانون فروغ نسیم کے دفتر لے آئے جہاں پر فروغ نسیم نے بھی جسٹس قاضی فائیز عیسی کیخلاف کیس بنانے پر زور دیا جب ان سے پوچھا گیا کہ آئین قانون میں ایسا کچھ موجود ہے تو جواب ملا کہ چھوڑیں آئین کو فروغ نسیم زیادہ جانتے ہیں اس موقع پر فروغ نسیم نے کہا کہ بشیر میمن صاحب آپ جانتے ہیں کہ میں کبھی کیس ہارتا نہیں آپ کیس بنائیں
وزیراعظم عمران خان سے ایک اور موقع پر ملاقات کے حوالے سے بشیر میمن نے بتایا کہ انکو وزیراعظم کے دفتر فون کرکے بلوایا گیا جب وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ وزیراعظم عمران خان مجھ سے ناراض ہے ملاقات کے دوران معلوم ہوا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کیخلاف کیسز بنائے جائیں عمران خان چاہتے تھے کہ مریم نواز کیخلاف انسداد دہشتگردی کا کیس بنے شہباز شریف کیخلاف اورنج ٹرین کیس بنے عمران خان مزید چاہتے تھے کہ دیگر ن لیگی لیڈران حمزہ شہباز کیپٹن صفدرسعد رفیق امیر مقام جاوید لطیف کیخلاف بھی کیسز بنائے جائیں
انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان چاہتے تھے کہ خواجہ آصف کیخلاف غداری کا کیس بنایاجائے جس پربشیرمیمن نے کہا کہ ان میں سے کسی کیخلاف ثبوت موجود نہیں میں کیسے کیسز بنا سکتا ہوں
بشیر میمن نے مزید بتایا کہ عمران خان نے ان سے کہا کہ میرے دوستوں کیخلاف تو تم کیس بناتے ہوجیسا کی عارف نقوی کیخلاف کیسز بنے اسلئے اب ڈیلی میل کی خبرپر شہباز شریف کے خلاف اورمریم نوازپر ایجوکیشن ریفارمز کے حوالے سے کوئی کیس کے حوالہ سے کوئی کیس بناو جس پر میں نے انکو انکار کردیا کہ جب ثبوت ہی نہ ہوں تو کیس کیسے بن سکتا ہے
نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔
آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔