ن لیگ کے سینیٹر مشاہد حسین نے سینٹ کی ییومن رائٹس کمیٹی کی سربراہی چھوڑ کر ڈیفنس کمیٹی کی سربراہی لے لی ہے ایسا کیسے ہوگیا کس کے کہنے پر ہوا کس کی اجازت سے ہوا کس کو بتا کر ہوا اس کا جواب آنا چاہیے خصوصا اس وقت میں جب پاکستان میں ہیومن رائٹس کا ایشو بڑھتا جارہا ہے پاکستان میں میڈیا زیر عتاب ہے سوشل ایکٹیوسٹ زیرعتاب ہیں عوام زیر عتاب ہے اور اس اہم موقع پر حزب اختلاف کے ایک ممبر کیجانب سے چپکے سے ہیومن رائیٹس کمیٹی کی سربراہی چھوڑ کر اسکو حکومت کے حوالے کردینا ایک نہیں کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
حکومتی سینیٹر ولید اقبال کو سینٹ ہیومن رائیٹس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جنکا نام حیرت انگیز طور پر مشاہد حسین سید نے نامزد کیا جس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ حزب اختلاف نے خود پلیٹ میں رکھ کر انسانی حقوق کی سربراہی حکومت کو سونپ دی ہے۔
اپوزیشن میں بیٹھی ن لیگ کے سینیٹر مشاہد حسین سید کیا موجودہ حالات و واقعات سے اتنے نابلد ہیں کہ انہیں نہیں معلوم کہ موجودہ تحریک انصاف حکومت کا ہیومن رائٹس سے متعلق ٹریک ریکارڈ کچھ اتنا اچھا نہیں کہ انہوں نے حکومت سے ہی تعلق رکھنے والے سینیڑ کا نام ہیومن رائیٹس کمیٹی کے سربراہ کیلئے تجویز کیا اور متفقہ طور پر انکو کامیاب بھی کروا دیا گیا۔
گذشتہ روز ایک ٹی وی ٹاک شو میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے اس بارے سوال ہوا تو انکا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم ایسا کیسے ہوا مشاہد حسین سید جماعت سے پوچھے بغیر کسی ایک کمیٹی کی سربراہی کو چھوڑ کر دوسری کمیٹی کی سربراہی نہیں لے سکتے۔
مشاہد حسین کا اچانک ہیومن رائیٹس کمیٹی سربراہی کو چھوڑنا اور ڈیفنس کمیٹی کی سربراہی کیلئے منتخب ہونا انکی جماعت مسلم لیگ ن کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے ایک بہت بڑا سوال ہے جسکا جواب بہرحال مسلم لیگ ن کو دینا پڑیگا کہ یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہوا۔
مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہمارے ہاں روز کا معمول ہیں، اسکی سینٹ کمیٹی نشانہ بننے والوں کو تحفظ اور انصاف مہیا کرانے کا ایک ذریعہ ہے، افسوس ہے کہ مشاہد حسین سید نے اسکی سربراہی حکومت کو دے کر دفاع کی کمیٹی حاصل کر لی، اب متاثرین کی آہوں کے مجرم ہم بھی ہوں گے۔
اگر تو مشاہد حسین سید نے اپنے طور پر ایسا کیا ہے تو اس پر ن لیگ انکے خلاف کیا ایکشن لے گی اور ایکشن لیا جانا نظر بھی آنا چاہیے اور اگر انہوں نے جماعت کی رضامندی سے ایسا کیا ہے تو پھر کیا بقول پرویز رشید ن لیگ متاثرین کے آہوں کی مجرم کہلانا پسند کریگی
بہرحال سوال تو اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور ن لیگ کو ان سوالات کا جواب دینا چاہیے اور جلد از جلد اپنی پوزیشن کلئیر کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جماعت کی ساکھ متاثر ہوگی۔