حصہ اول


میاں نوازشریف سے محبت کرنے والے کارکن کیا سوچ کر سوشل میڈیا پر موجود ہیں؟وہ کیوں میاں نوازشریف اور مسلم لیگ ن کو بھرپور سپورٹ کرتے شاید سب ہی ووٹ کی حرمت جمہوریت کی بالادستی آیئن قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں اسی سلسلے میں ایک تجربہ آپ سب سے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کیوں بنایا کیا سوچ کر بنایا اور پھر یہ سفر کس طرح چل پڑا میں نے 2014 میں سوشل میڈیا پر اپنا پہلا ٹویٹر اکاؤنٹ اس وقت بنایا جب عمران خان کا آزادی مارچ لاہور سے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا اس اکاؤنٹ کو بنانے کا واحد مقصد میاں نوازشریف سے محبت اور انہیں اس سازشی عناصر کے مقابلے میں سپورٹ کرنا تھا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ میاں نوازشریف پاکستان کو چیلنجز کی دلدل سے نکالنے کیلئے ایک بہترین ٹیم کے ساتھ میدان عمل میں بلاخوف خطر اتر چکے تھے 2013 میں جب میاں نوازشریف نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان کو بے شمار مسائل کا سامنا تھاجن میں سب سے بڑا مسئلہ بدترین لوڈشیڈنگ 70 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جان لینے والی دہشت گردی کا ناسور تھا! اور میاں نواز شریف ان چیلنجز کو ہنگامی بنیادوں پر جڑ سے ختم کرنے کے لیے دن رات محنت کرنے میں مصروف تھے اور کامیاب ہوتے نظر آ رہے تھے ایک طرف ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام شروع ہو چکا تھا پاور پلانٹ لگ رہے تھے بیرونی سرمایہ کاری آ رہی تھی تو دوسری جانب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے تیاریاں عروج پر تھیں!

آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنسے پاکستان کو خود مختار بنانے کے لیے بھی کام جاری تھا اسٹاک مارکیٹ میں تیزی لانے اور اسے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچانے کے لیے بھی دن رات کام ہو رہا تھا غریب عوام کی خدمت کے لیے صحت اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات بھی ہورہے تھے مہنگائی کو کنٹرول کرنے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج کمی کا سلسلہ بھی جاری تھا معاشی ترقی جی ڈی پی گروتھ ریٹ کو بہتر سے بہترین بنانے کے میاں نوازشریف اور ان کی تجربہ کار پوری ٹیم دن رات کوشاں تھی زراعت صنعت کے شعبے میں سرمایہ کاری ہورہی تھی میاں نوازشریف نے ہی پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا زرعی پیکج کا اعلان بھی کر دیا تھا جس سے کسانوں کو سستی کھادیں ادویات بلاسود قرضے مفت ٹیوب ویل اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں! پاکستان ترقی خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو چکا تھا اور دوسری جانب 73 سالہ بھیانک نظام بھی منہ کھولے کھڑا تھا وہی نظام جس نے کسی بھی منتخب حکومت منتخب وزیراعظم کو اس مدت پوری نہیں کرنے دی تھی اس بار بھی ایسا ہی ہو رہا تھا عمران خان اور طاہر القادری کی صورت میں لندن پلان تیار ہوا حکومت گرانے کے لیے 126 دن کا دھرنا شروع ہوا اور اس دھرنے سے سب سے پہلے ملک کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں چین کے صدر کو دورہ پاکستان سے روکا گیا ایک گیم چینجر سی پیک منصوبہ وقتی طور پر پاکستان کے لیے روک دیا گیا دھرنا جاری رہا بلوائیوں نے پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کرکے وزیراعظم ہاؤس کے دروازے پر قبضہ کر لیا اور بلوائیوں کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا کہ اگر عوامی مینڈیٹ سے منتخب وزیراعظم استعفی نہیں دے گا تو آج اس کو گھسیٹ کر وزیراعظم ہاؤس سے باہر نکالیں گے یہ مناظر یہ اعلانات پوری دنیا نے ٹی وی سکرینوں پر 24/7 دیکھے اور سنے!

ان سازشی عناصر کو میڈیا سمیت ہر طرف سے سپورٹ حاصل تھی! عمران خان کی جانب سے اس دھرنے میں نہ صرف وزیراعظم ان کی کابینہ بلکہ سول اداروں کے افسران کو بھی دھمکیاں دی گئیں پولیس-اہلکاروں پر تشدد سنئیر پولیس آفیسر ایس ایس پی عصمت خان جنجوعہ کو بستر مرگ پر پہنچا دیا گیا آئی جی اسلام آباد کو اپنے ہاتھوں سے پھانسی دینے کا اعلان کیا گیا تشدد میں ملوث اپنے کارکنوں کو مختلف تھانوں سے زبردستی رہا کروایا گیا! سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کیا گیا اور کنٹینر پر کھڑے ہوکر بجلی کے بل جلائے جانے کا مظاہرہ بھی ٹی وی سکرینوں کی زینت بنا! مگر نوازشریف ڈٹے رہے وہ دھرنے سے بے خبر اپنے آفس آتے کام کرتے اور چلے جاتے مذاکرات بھی ہوتے رہے مگر ناکامی ہوتی رہی پھر اچانک دھرنے کے دوران پشاور میں آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی کا بہت بڑا سانحہ ہوا جس سے پورے ملک کی فضا سوگوار ہو گئی معصوم بچوں کے خون نے عمران خان کو دھرنا ختم کرنے کے لیے راہ دے دی اور دھرنا ختم ہو گیا مگر نوازشریف کے خلاف سازشیں ختم نہ ہوسکیں پشاور سانحے نے پوری قوم کو متحد کر دیا اور میاں نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اعتماد میں لے کر دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا اور اس آپریشن کو ضرب عضب کا نام دے دیا پوری قوم کی مدد سے بالآخر کامیاب ضرب عضب سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو گیا ملک میں امن قائم ہوا تو دوسری جانب لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18/18 گھنٹوں سے کم ہوتا ہوا تین سے چار گھنٹوں پر محیط ہو گیا!

معاشی بحران ختم ہونا شروع ہوا ڈالرز کی قدر میں کمی اور روپیہ کی قدر میں اضافہ ہوا اسٹاک مارکیٹ 54 ہزار پوائنٹس کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی کمر ٹوٹ گئی IMF کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا گیا۔مگر نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے نکالنے کی پلاننگ چلتی رہی اس کے لیے ڈان لیکس ہوئی پھر پانامہ اقامہ لایا گیا اور عدالتوں میں میاں نواز شریف کی طلبی شروع ہو گئی پھر 180 سے زائد پیشیاں ہویئں طے کیا گیا کہ نوازشریف اور مریم نوازشریف کسی صورت قبول نہیں نوازشریف نہ صرف وزارت عظمیٰ سے نکالا جائے گا بلکہ جیلوں میں ڈال کر نشان عبرت بنا دیا جائے گا اور پھر وہی ہوا سب سے پہلے پانامہ کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے میاں نوازشریف کو تاحیات نااہل قرار دے کر ہمیشہ کے لیے پارلیمانی سیاست سے آؤٹ کر دیا گیا پھر مختلف مقدمات میں نوازشریف ان کی بیٹی اور داماد کو سزائیں دی گئیں کچھ میں بری کیا گیا نوازشریف انکی بیٹی مریم نواز کی غیر موجودگی میں انہیں دس سال قید کی سزا سنائی گئی میاں نوازشریف لندن میں موجود تھے ان کی اہلیہ اس وقت کینسر سے لڑتے ہوئے اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہی تھیں میاں نوازشریف نے سزا کے فیصلے کے بعد اپنی بیٹی کو ساتھ لیکر جیل جانے کا فیصلہ کر لیا جو سب کے لیے حیران کن تھا میاں نوازشریف مطمئن تھے کہ وہ لاہور ایئر پورٹ پر اتریں گے ان کے چھوٹے بھائی اور بھتیجے حمزہ شہباز کی قیادت میں پاکستان کے عوام نوازشریف کا استقبال کریں گے اور حالات یکسر بدل جایئں گے عوام ان کے ساتھ ہے انہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں مگر لاہور میں کچھ عجیب صورتحال تھی ایئرپورٹ کی جانب جانے والے راستے بند موبائل نیٹ ورک بند اس کے باوجود عوام کا سمندر لاہور کے مختلف سڑکوں پر امڈ آیا میاں شہباز شریف ایک بہت بڑی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے مال روڈ پر کچھوے کی چال چلتے رہے کیونکہ ادھر بھی طے تھا کہ ایئرپورٹ نہیں جانا لہذا مال روڈ تک محدود رہیں میاں نوازشریف اور ان کی بیٹی کو لاہور ایئر پورٹ سے جیل پہنچا دیا گیا اور میاں شہباز شریف ماڈل ٹاؤن 96 ایچ میں واپس آ گئے

جاری ہے

The contributor, Sabir Hashmi, is a political activist and democratic thinker. He can be found on Twitter here.


The views expressed by contributors are their own and are not those of The Thursday Times.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here