آج سے تقریبا تین عشرے پہلے پاکستان ٹیلی ویژن پر پہلی بار سیاست دانوں کے لائیو انٹرویوز کا سلسلہ شروع ہوا تو پرنٹ میڈیا کے صحافیوں کے پینلز ان کے انٹرویو کرنے لگے کیونکہ تب الیکٹرانک میڈیا (پرائیویٹ نیوز چینلز )موجود نہ تھے۔

سرکاری ٹی وی پر ہوتے ان انٹرویوز میں “حالات کے پیش نظر” بد تمیزی یا خوشامد ہمیشہ اپنی انتہا کو چھوتے مثلا ایک مخصوص اشارے پر لاہور کے ایک بدنام زمانہ ایڈیٹر نے اضغر خان مرحوم کے ساتھ جو کیا وہ ایک الگ کہانی ہے لیکن انہی دنوں سندھ پر غلام اسحاق خان ٹولے نے جام صادق علی کو ایک سیاسی درندگی کے ساتھ مسلط کیا تھا جس کی ایک طویل تاریخ ہے۔

جام صادق کو ایک دن پی ٹی وی پر انٹرویو کے لئے بلایا گیا تو ظاہر ہے کہ صحافتی پینل کا انتخاب بھی جام صادق کی شخصیت کو مدنظر رکھ کر ہی بنانا تھا اس لئے کراچی کے ایک سینئر لیکن حد درجہ چاپلوس اور خوشامدی صحافی کو جام صادق کے سامنے بٹھایا گیا جنہوں نے انٹرویو کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ کیا کہ محترم ناظرین اس وقت ھمارے ساتھ سندھ دھرتی کےلئے رحمت خداوندی ہمارے اور آپ سب کے دلوں میں بسنے والے ایک عظیم رہنما اور کمال کے منتظم  جام صادق علی خان صاحب موجود ہیں  جن سے میں گزارش کروں گا کہ پہلے سوال کی اجازت دی جائے۔

اب آپ آگے انٹرویو کا اندازہ خود ہی لگاتے جائیں۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صحافت کسی سے مرعوب ہونے یا جذباتی بننے کو ہرگز افورڈ نہیں کرتا بلکہ حقائق کی تلاش اور اس تک رسائی ہی اصل صحافت ہے۔

یہ تمہید اس لئے باندھی کہ دو دن پہلے سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

جس کے حوالے کچھ خالص پیشہ ورانہ سوالات میرے ذہن میں گونجے۔

میں متعلقہ صحافی کے کردار پر ہرگز کوئی سوال نہیں اٹھا رہا ہوں بلکہ میر ے سوال پیشہ ورانہ اور تکنیکی معاملات سے جڑے ہیں۔

کیا انٹرویو کے دوران چودھری نثار علی خان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کوئٹہ بم دھماکے میں بلوچستان کے سر کردہ وکلاء کی شہادت کے بعد قائم کئے گئے جسٹس فائز عیسی کمشن نے آپ (چودھری نثار ) کے حوالے سے بہت ایم سوالات  اٹھائے تھے مثلا یہ کہ بحیثیت وزیر داخلہ  آپ انتہا پسند عناصر کو کیوں ملتے رہے ؟ یا آپ سیکیورٹی انتظامات کرنے میں ناکام کیوں  ہو گئے تھے۔

کیا یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ نے جسٹس فائز عیسی رپورٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کیوں کی۔

کیا یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ کے سابق لیڈر نواز شریف کے ساتھ جو ظلم روا رکھا گیا اس پر آپ احتجاج کرنے کی بجائے مشکل وقت میں اپنے لیڈر کے خلاف مسلسل کیوں بولتے رہے؟

کیا جج ارشد ملک کے اعترافی ویڈیو کے حوالے سے چودھری صاحب کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی؟

کیا مالی اور انتظامی حوالے سے نواز شریف اور عمران خان کی حکومتوں کا تقابل کر کے چودھری نثار کی رائے معلوم کرنے کی کوشش کی گئی؟. 

کیا یہ اہم سوال پوچھا گیا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے دھرنے کے دوران ڈی چوک پر مظاھرین کو اس لئے روکنے کی مخالفت کی کیونکہ وزیراعظم کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ آپ کو پھنسانے کے لئے  ایک اور ماڈل ٹاؤن کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے. کیا بحیثیت وزیر داخلہ آپ کے علم میں یہ بات نہیں تھی؟

کیا جسٹس وقار احمد سیٹھ کے فیصلے کے حوالے سے کوئی سوال ہوا؟

کیا پاپا جونز سکینڈل پر چودھری صاحب کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی؟

اگر چودھری نثار علی خان ایک طویل عرصے کے بعد انٹرویو نگار کے ھاتھ لگے تھے (حالانکہ واقفان حال کو تمام  پس منظر کا علم ہے) تو کیا  کشمیر پر بد ترین  پسپائی کے سلسلے میں سوال پوچھا گیا؟

کیا یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ نواز شریف کے جی ٹی روڈ ریلی کی مخالفت کن بنیادوں پر کر رہے تھے۔ اور آپ کا مقصد کیا تھا؟  

کیا یہ سوال ہوا کہ آپ ھر جگہ اور ہمیشہ خود کو اقدار اور رواداری کا علم بردار بنا کر پیش کر رہے ہیں لیکن یہ کیسے اقدار اور روایات تھے کہ مشکل دنوں میں نہ صرف تیس سالہ رفاقت کو پلک جھپکتے میں  خیر باد کہہ دیا بلکہ آپ کے گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر آپ کے لیڈر اپنی بیٹی کے ساتھ  قید و بند  کاٹ رہے تھے تو آپ کسی دلجوئی اور تسلی کے لئے بھی کھبی ملنے نہیں گئے؟

چودھری صاحب حسب معمول میں میں میں کرتے ہوئے یہ بھی کہہ گئے کہ دھرنے پر اختلاف کے سبب میں نے استعفی دیا لیکن فاضل صحافی نے اس سوال کی ہمت نہیں کی کہ ٹوک دیتا کہ پھر اپنے منصب سے آخر تک چمٹے کیسے رہے؟

موجودہ حکومت کی کرپشن بد انتظامی اور خوفناک نا کامیوں پر سوال کرنے کی بجائے نواز شریف اور عمران خان کی شخصی تقابل کا سوال ہوا اور جواب بھی وہی ملا جس مقصد کے لئے سوال کیا گیا تھا بلکہ چودھری صاب نے تو عمران خان کے کسی جذباتی پیروکار سے بھی بڑھ کر آصف زرداری کو بھی نواز شریف پر فوقیت دلا دی۔

ایک موقع پر چودھری صاب سے یہ بے تکا سوال بھی کیا گیا کہ نواز شریف کے ساتھ واقعی آپ نے رابطے کی کوشش کی ؟ ظاہر ہے کہ چودھری صاحب نے انکار ہی کرنا تھا  لیکن اس بات کو سمجھنے میں کسے دیر لگی کہ در حقیقت یہ سوال نواز شریف کے انکار سے چودھری نثار کی ادھڑی ہوئے انا کی بخیہ گری کرنے کی بچگانہ سی کوشش ھی تھی  جس سے فائدہ حاصل کرنے  کی بجائے طنز اور مذاق ہی برآمد ہوا. ایک سوال متحرک ہونے کے حوالے سے بھی ہوا لیکن یہ بھول گئے کہ نواز شریف سے علیحدگی اور جی ٹی روڈ ریلی کے بعد چودھری صاحب کے متحرک ہونے کا یہ عالم ہے کہ بمشکل جیتے صوبائی اسمبلی کا حلف بھی تین سال تک نہ اٹھا سکے تھے۔

گویا جو سوالات مطلوب تھے انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا لیکن اگلے انتظام اور منظر نامے کی خاطر جن سوالات کا پوچھنا تھا اور جو جوابات حاصل کرنے تھے اسی کےلئے در حقیقت  ایک سٹیج ترتیب پایا تھا۔

در اصل اس انٹرویو کے ذریعے بہت سے اھداف  کا حصول ہی مقصد  تھا لیکن “اصل مقصد” ابھی سب کی نگاہوں سے پنہاں ہے۔

“کھیل ” تو پہلے ھی راونڈ میں انٹرویو نگار کے کانفیڈنس لیول اور باڈی لینگویج کی وجہ سے فلاپ ہونے کے واضح  اشارے دینے لگا تھا لیکن  رہی سہی کسر سو شل میڈیا نے یوں پورا کیا کہ کانوں کو ھاتھ لگانے پڑے۔

میں نے بار بار لکھا کہ موجودہ دور میں بالخصوص  صحافت  قطعی طور پر کسی ڈرامے بازی اور جھوٹ کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ میدان میں موجود حد درجہ با اثر سوشل میڈیا لمحوں میں بخئے ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ اور اس سلسلے میں بھی ردعمل ایسا ھی آیا۔

ضروری یہ بھی نہیں کہ غلطی کرنے والا ھر صحافی کرپٹ اور بکاو ہی ہو بلکہ بعض اوقات غیر ضروری مرعوبیت یا جذباتی پن بھی غلطی اور بدنامی کا محرک بن سکتا ہے۔

اور اس کا فائدہ اٹھانے والے مدتوں سے صحافتی مارکیٹ میں اپنے اوپر مصنوعی خول چڑھائے شکار کی تلاش میں پھر رہے ہیں۔

پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہی دانشمندی ہے ورنہ آپ کا کیریئر داو پر لگ جائے گا۔

شکاریوں کا کیا جاتا ہے کیونکہ۔

تم نہیں اور سہی اور سہی اور سہی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here