حصہ دوئم


تین دفعہ کے منتخب وزیراعظم اور انکی بیٹی کو جس طرح ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا وہ تکلیف دہ مناظر  ہمیشہ کے لیے عوام کے ذہنوں پہ نقش ہو گئے ۔انتخابات نزدیک ہونے کی وجہ سے کسی نے اسوقت اس بات پہ زیادہ سوال نہیں اٹھائے کہ اتنی آسانی سے گرفتاری کیسے ہونے دی گئی ۔ تاہم بعد کے واقعات نے اسے مزید ہائی لائٹ کیا

انتخابات کو خاموشی سے تسلیم کر لینا ، کوئی احتجاج نا کرنا ، میاں نواز شریف اور مریم نواز کے لیے کسی بھی سطح پر احتجاجی تحریک یا اسمبلی کے اندر انکے لیے آواز اٹھانے سے گریز نے سوشل میڈیا ایکٹیوئسٹ کو سوچنے پہ مجبور کیا کہ آخر یہ کھیل ہے کیا ؟ اس قدر خاموشی اور بزدلی گھٹن بننے لگی تو سوشل میڈیا پہ چند رضاکاروں نے اپنے طور پر میاں نواز شریف اور مریم نواز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے پروگرام ترتیب دیا ۔اور ان رضاکاروں کو (ایم این ایس وارئیرز) کا نام دیا طے ہوا کہ کوٹ لکھپت جیل کے باہر میاں نواز شریف کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک اجتماع ہوگا اس اظہارِ یکجہتی تحریک کا آغاز سوشل میڈیا پر ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا سے شروع ہونی والی تحریک کے چرچے پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کی زینت بنے پرائم ٹائم ٹاک شو میں سوشل میڈیا پر اظہارِ یکجہتی تحریک کے ٹرینڈز کی گونج سنائی دینے لگی تو لیڈر شپ نے سوشل میڈیا ایکٹیوئسٹ سے رابطہ کیا میٹنگ ہوئی جس میں میاں نواز شریف کی صحت اور ضمانت کے حوالے سے تشویش ظاہر کرکے اس احتجاج کو روکنے کیلئے کہا گیا اور ضمانت نہ ہونے کی صورت میں لیڈر شپ کی جانب سے بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کی یقین دہانی کروائی گئی میاں نوازشریف کا پیغام بھی آ گیا کہ میں کارکنوں کے جذبے کی قدر کرتا ہوں آپ فل حال اس اظہارِ یکجہتی تحریک کو ملتوی کردیں! مگر پھر بھی کارکنوں کی بہت بڑی تعداد 23 مارچ کو اپنے قائد سے اظہارِ یکجہتی کے کوٹ لکھپت جیل کے باہر پہنچی اور انتہائی پرامن احتجاج ریکارڈ کروایا! اس کے بعد میاں نوازشریف کی کنڈیشل ضمانت ہوئی پھر جیل واپسی ہوئی دوران حراست میاں نوازشریف سے ملاقات کے لیے جانے والی مریم نواز کو اپنے والد کے سامنے کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کیا گیا تب بھی سب خاموش تماشائی بنے رہے پھر میاں نوازشریف کو نیب نے ایک اور مقدمے میں گرفتار کرکے نیب آفس منتقل کر دیا گیا وہاں نوازشریف کو مبینہ طور پر زہر دینے کا انکشاف ہوا نوازشریف کی طبیعت خرابی کی اطلاع ملی تو سب سے پہلے ایم این ایس واریئرز گروپ کے سوشل میڈیا ایکٹیوئسٹ نیب آفس کے باہر پہنچے انہوں نے سوشل میڈیا پر نیب آفس کارکنوں کو بلایا لائیو کوریج کی دیکھتے ہی دیکھتے نیب آفس کے باہر ہزاروں لیگی کارکن پہنچ گئے روڈ بلاک ہو گئے نیب حکام نے لیگی قیادت بلایا اور حالات کنٹرول کرنے کی استدعا کی اور میاں نواز شریف کو فوراً سروسز ھاسپٹل پہنچایا گیا وہاں بھی کارکن تو پہنچے مگر لاہور کے چند ایم این اے اور ایم پی ایز کے علاوہ کسی نے سروسز ھاسپٹل کے باہر احتجاج نہ کیا! سروسز ھاسپٹل سے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد تشویش ناک خبریں آتیں سب دعا کرتے کہ میاں نواز شریف علاج کے لیے باہر چلے جایئں اور بالآخر عدالت نے میاں نواز شریف کو لندن علاج کی غرض سے جانے کی اجازت دے دی کورونا وائرس کی وجہ سے علاج مکمل نہ ہوسکا اور میاں نواز شریف واپس پاکستان آ کر ووٹ کی حرمت جمہوریت کی بالادستی عوام کے حق حاکمیت کی تحریک جاری نہ رکھ سکے! اور نہ ہی مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ اس تحریک کو آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑے عوام پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تو دوسری جانب لیڈر شپ آگے بڑھنے کو تیار نہیں ووٹ کو عزت دو اور خدمت کو ووٹ دو کے دو بیانیے پارٹی میں موجود ہیں لیڈر شپ بیانیے کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار ہے مگر ووٹرز سپوٹرز میاں نوازشریف کے بیانیے سےکنفیوز نہیں وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں آئین کی سربلندی ہو کوئی آیئن اورقانون سے بالاتر نہ ہو ووٹ کی حرمت عوامی مینڈیٹ کا احترام ہو ادارے قانون کے مطابق اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں چور دروازے سے اقتدار میں آنے والے راستے ہمیشہ کے لیے بند ہوں عوام کو ان کے حقوق ملیں! مگر اس منزل تک پہنچنے کے لیے لیڈر کی ضرورت ہے اور وہ لیڈر نوازشریف ہیں مریم نوازشریف ہیں ان کو اس وقت پارٹی میں مزاحمت کا سامنا ہے وہ سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں وہ پارٹی کو تقسیم ہونے سے بچانا چاہتے ہیں مگر کسی سے مفاہمت کے ذریعے اپنے ضمیر کا سودا بھی نہیں کرنا چاہتے وہ عوامی امنگوں کے مطابق ملک وقوم کی خدمت ترقی اور خوشحالی کی خاطر سول سپرمیسی کی جدوجہد جاری رکھنا چاہتے ہیں اور امید ہے کہ جیسا چند دن پہلے مفاہمتی پالیسی کی بازگشت تھی صحافیوں سے کالمز لکھوائے جا رہے تھے صدر مسلم لیگ ن کے انٹرویو سے مفاہمت کے بیانیے کو تقویت ملی تھی عین اس وقت میاں نوازشریف نے مفاہمتیوں کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا کہ ‏یہ جدوجہدمحض چند سیٹوں کی ہار جیت کے لئے نہیں بلکہ آئین شکنوں کی غلامی سے نجات کے لئیے ہے۔ اور اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتہ کئے بغیر تاریخ کی درست سمت میں کھڑے نظر آنے کے لئے ہے۔ مسلم لیگ ن اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی( اِن شا اللہ)

نوازشریف کا بیانیہ اب عوام کا بیانیہ بن چکا نہ میاں نوازشریف اور ان کی بیٹی اس بیانیے سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں اور نہ ہی میاں نوازشریف کا ووٹ بینک اور کارکن ووٹرز سپوٹرز اس بیانیے سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں ان شاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب میاں نوازشریف کے بیانیے کی جیت ہوگی ملک پاکستان میں ووٹ کی حرمت جمہوریت کی بالادستی عوام کے کی منتخب کردہ حکومت ہوگی اور پاکستان ایک بار پھر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا آخر میں یاد کرواتا چلوں کہ ابھی تک اگر مسلم لیگ کا وجود قائم ہے تو میاں نوازشریف کے مزاحمتی ردعمل کی وجہ سے قائم ہے اور بیانیے اور مزاحمتی ردعمل کا پرچار کرنے والے سول سپرمیسی کا خواب آنکھوں میں سجا کر سوشل میڈیا پر میاں نوازشریف اور ان کے بیانیے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے والے کارکن بھی حکومتی انتقام کا نشانہ بنتے آ رہے ہیں نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ جڑے رہنے کی پاداش میں ایف آئی اے اور عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں اپنے قائد کی تکلیفیں مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے کارکنوں کے بھی حوصلے بلند ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو! 

The contributor, Sabir Hashmi, is a political activist and democratic thinker. He can be found on Twitter here.


The views expressed by contributors are their own and are not those of The Thursday Times.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here