یہ نوے کے عشرے کی ابتدائی سالوں کی بات ہے۔

اس لا پرواہ سے نوجوان کو اپنی گلی میں بھی کوئی نہیں جانتا تھا جبکہ اس صحافی کی شہرت کا ڈنکا پوری دنیا میں بج رہا تھا کیونکہ افغان شورش پر دنیا بھر کی نظریں ہیں اور اس حوالے سے صحافتی سطح پر وہ افغان امور کے سب سے بڑے ماہر اور با خبر صحافی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

نوجوان اور اس بڑے صحافی کے اس واضح فرق اور فاصلے کے باوجود بھی نوجوان کسی شام ایک لا پرواھی بلکہ حماقت کے ساتھ بغیر کسی سفارش جان پہچان اور رابطے کے ان کے دفتر کی سیڑھیاں چڑھ کر دروازہ بے تکلفی کے ساتھ کھول کر سلام کرتا ہے اور سامنے پڑے ایک کرسی پر ان کا اشارہ پانے سے پہلے ہی بیٹھ جاتا ہے۔

ایک وقفے کی خاموشی چھائی رہتی ہے اور کاغذ پر کچھ لکھنے کے بعد وہ اپنی پوری توجہ نوجوان پر مرکوز کر کے انتہائی میٹھے اور مہذب لہجے میں پوچھتے ہیں کہ جی بتائیں کیسے آنا ہوا۔

بس جی صرف آپ سے ملنا تھا کام کوئی نہیں.. نوجوان لڑکا شانے اچکا کر جواب دیتا ہے۔

لیکن صحافت کا بڑا نام پھر بھی ایک کمال سنجیدگی کے ساتھ ایک اور حماقت کو نظر انداز کرتے ہوئے نوجوان سے محبت بھرے لہجے میں پوچھتے ہیں کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟

مجھے لکھنے کا بہت شوق ہے لیکن کسی اخبار کے ایڈیٹر کو نہیں جانتا. نوجوان نے سیدھا سادہ لیکن قدرے بے وقوفانہ انداز سے جواب دیا۔

کوئی بات نہیں۔۔۔ کہہ کر سینیئر صحافی اپنے ٹیبل کی دراز سے ایک چھوٹی سی ڈائری نکال کر کسی کا نمبر ملا لیتا ہے اور حسب عادت بہت مدھم آواز کے ساتھ (جسے سامنے بیٹھا نوجوان کوشش کے باوجود بھی صحیح طرح سے نہیں سن پاتا) کسی اخبار کے مدیر کو بتاتا ہے کہ ایک نوجوان کو آپ کے پاس بھجوا رہا ہوں کافی باصلاحیت ہے کل میری وساطت سے آپ سے مل لے گا۔

تین دن بعد اسی اخبار میں نوجوان کا پہلا کالم چھپ جاتا ہے تو وہ ہواوں میں اڑنے لگتا ہے۔

لیکن وہ شام اور وہ مہربان شخص ہمیشہ کےلئے حافظے سے چپک جاتے ہیں۔

اور ہاں یاد آیا دنیا اس شائستہ اطوار شخصیت اور شاندار صحافی کو رحیم اللہ یوسفزئی کے نام سے جانتی ہے جبکہ اس لا ابالی اور بے پرواہ سے نوجوان کو اس کے قارئین حماد حسن کے نام سے جانتے ہیں۔

آج صبح صبح ڈان سے وابستہ صحافی دوست علی اکبر اور عارف نے مجھے گھر سے ساتھ لیا اور ہم رحیم اللہ یوسفزئی صاحب کے جنازے میں ان کے گاوں روانہ ہوئے تو باھر بوندا باندی جبکہ میرے اندر یادوں کی ژالہ باری ہو رہی تھی اور میں خود کو ٹوٹتے اور بکھرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔

سوچتا رہا کہ اس آدمی (رحیم اللہ یوسفزئی) کو ایک بڑے نام اور ملک گیر شہرت کے باوجود بھی قدرت نے عجز اور انکساری کے کس عظیم مرتبے پر فائز کیا تھا۔

یادوں کا ایک سلسلہ ہے جو لپٹتا جا رہا ہے۔

جنازہ کچھ زیادہ ھی بڑا تھا پاکستان بھر سے تو میڈیا سے وابستہ بہت سے لوگ پہنچ گئے تھے لیکن اس پاس کے دیہات اور رحیم اللہ یوسفزئی صاحب کے اپنے گاوں کے لوگوں کا جم غفیر بھی تھا۔

ایک سینئر صحافی نے میرے کان میں کہا کہ مقامی لوگوں کی بڑی تعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ رحیم اللہ صاب اپنے لوگوں میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

مجھے فورا ایک بہت پرانا واقعہ یاد آیا۔

اکمل لیونے (دیوانہ) پشتو کے ایک ملنگ مزاج شاعر ہیں (آج کل کافی بیمار ہیں) اکمل لیونے جہاں جاتا تو پیٹ کی خاطر کتابیں بھی سر پر اٹھائے انہیں بیچ آتا اسی وجہ سے پشتو کے نامور ترقی پسند شاعر رحمت شاہ سائل نے انہیں کتابوں کا بنجارہ کہا تھا .ایک بار کتابیں بیچنے پشاور آیا تو رات ٹھرنے کےلئے میں ساتھ لے آیا شام کو انہوں نے کہا کہ رحیم اللہ یوسفزئی صاحب سے ملنا ہے (وہ دونوں ایک ہی گاوں کے تھے) میں انہیں لےکر گیا تو رحیم اللہ صاحب نے میرے مہمان پر “قبضہ” کر کے کہا کہ تم چائے پی کر چلے جاو اور اکمل کو میرے پاس رہنے دیں آج میں ان کے ساتھ گپ شپ لگاوں گا۔

میں نے احتجاج کرنا چاہا تو ڈانٹ پڑ گئی سو اکیلا نکل آیا۔

نائن الیون کے بعد نیٹو افواج نے افغانستان پر حملہ کیا تو عالمی میڈیا رحیم اللہ یوسفزئی کے ارد گرد منڈلانے لگا کیونکہ اصل خبر انہی کے پاس ہوتی۔

انہیں دنوں مجھے پشاور کے نواح میں واقع ایک افغان مہاجر کیمپ میں موجود کسی گمنام آدمی کا نام دیا اور کہا کہ اس آدمی کا پتہ کر لو ان سے ملنا بہت ضروری ہے۔

میں نے دوسرے دن بمشکل اس شخص کو ڈھونڈ لیا بظاہر سادہ اور ان پڑھ نظر آنے والے شخص کو رحیم اللہ صاحب کے پاس لےکر آیا تو پانچ منٹ بعد میں ششدر رہ کر بیٹھا ہوا تھا کیونکہ اس شخص کے پاس انتہائی اہم اور خفیہ معلومات تھیں جو وہ ایک تواتر کے ساتھ بتاتا رہا۔

آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ایسے سورس رحیم اللہ یوسفزئی صاحب کو کہاں سے اور کیسے مل جاتے۔

میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ وہ بحیثیت صحافی بہت بڑے تھے یا بحیثیت شخصیت۔

کیونکہ وہ بیک وقت ایک شفیق استاد بڑے بھائی اور مھربان دوست کا مجموعہ تھے۔

اسی لئے ایک پلڑے پر نگاہ کریں تو وہ بھاری دکھائی دیتا ہے لیکن دوسرے پلڑے پر نظر ڈالیں تو پہلا والا رد ہو جاتا ہے۔

ابھی تھوڑی دیر پہلے پختونخواہ کے سب سے بڑے صحافتی نام رحیم اللہ یوسفزئی کو لحد میں اتارا گیا تو اہم میڈیاز سے وابستہ کئی صحافی دوستوں کے ساتھ میں ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا تھوڑی دیر بعد میرے جسم پر دھوپ پڑنے لگی تو ایک دوست نے کہا کہ سائے کی طرف ہو جائیں دھوپ پڑ رہی ہے۔

میں نے دل ہی دل میں کہا کہ دھوپ ہی ہماری قسمت ہے کیونکہ وہ سامنے خاک میں ڈوبتا ہوا “درخت” اپنے سائے اور شفقت سمیت نہیں رہا تو اس اجنبی گاوں کے اجنبی درخت کا کیا اعتبار!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here